شعر و شاعری
  • نظم   اویسی بول رہا ہے

    نظم اویسی بول رہا ہے دلت مسلم کے دل کا پیار جگا دو بڑھ کے اب بھی یار گرا دو نفرت کی دیوار بنا دو جنگل کو ...

    نظم اویسی بول رہا ہے دلت مسلم کے دل کا پیار جگا دو بڑھ کے اب بھی یار گرا دو نفرت کی دیوار بنا دو جنگل کو گلزار سمئے پٹ کھول رہا ہے اویسی بول رہا ہے یہ فرضی سیکولر سرکار کرے نفرت کا کاروبار مسلماں غربت ...

    Read more
  • اردگانِ ہند اسد الدین اویسی

    فضیل احمد ناصری الہیٰ! بھیج دے ملت کو کوئی راہ داں اپنا حوادث کی طرف ہےجادہ پیما کارواں اپنا نظرترچھی کیے ...

    فضیل احمد ناصری الہیٰ! بھیج دے ملت کو کوئی راہ داں اپنا حوادث کی طرف ہےجادہ پیما کارواں اپنا نظرترچھی کیےبیٹھےہیں ہم پرپھرصنم خانے ابولہبی شراروں کی ہے زد میں آشیاں اپنا زمانہ پیکرِ تصویر ہے الکفر ملۃ ...

    Read more
  • غزل

    غزل  وفا کرنا، سِتم سہنا نہیں ہے مُجھے اَب اور کُچھ کَہنا نہیں ہے بَھلا میں کیوں تُمہارے خواب دیکھوں تُمہ ...

    غزل  وفا کرنا، سِتم سہنا نہیں ہے مُجھے اَب اور کُچھ کَہنا نہیں ہے بَھلا میں کیوں تُمہارے خواب دیکھوں تُمہارے ساتھ جب رہنا نہیں ہے مری آنکھیں حقیقت آشنا ہیں خیالی موج میں بہنا نہیں ہے ِشِکایت کیوں تُجھ ...

    Read more
  • غزل   مجھ کو عذاب جاں نے سنبھلنے نہیں دیا توبہ کا در کھلا تھا نکلنے نہیں دیا

    غزل مجھ کو عذاب جاں نے سنبھلنے نہیں دیا توبہ کا در کھلا تھا نکلنے نہیں دیا اشکوں کے لالے پڑگئے مجھ کو تما ...

    غزل مجھ کو عذاب جاں نے سنبھلنے نہیں دیا توبہ کا در کھلا تھا نکلنے نہیں دیا اشکوں کے لالے پڑگئے مجھ کو تمام شب خود کو جو ایک شام پگھلنے نہیں دیا ہنستے ہوئے لبوں نے تو چاہا تھا چومنا کمبخت اجنبی نے مچلن ...

    Read more
  • غزل

    غزل کبھی صورت دکھاتا ہے، کبھی پردہ گراتا ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے کہ میرا دل جلاتا ہے نہیں ممکن حقائق کا ...

    غزل کبھی صورت دکھاتا ہے، کبھی پردہ گراتا ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے کہ میرا دل جلاتا ہے نہیں ممکن حقائق کا چھپا لینا محبت میں ہر اک اظہاریہ سچ بولتا نغمہ سناتا ہے ترے پہلو میں وہ تسکین قدرت نے عطا کی ہ ...

    Read more
  • غزل  تِرے چہرے سے نظر اپنی ہٹا لوں کیسے جوشِ بےتاب نگاہی کو سنبھالوں کیسے

    غزل تِرے چہرے سے نظر اپنی ہٹا لوں کیسے جوشِ بےتاب نگاہی کو سنبھالوں کیسے کچھ حسیں خواب سنجوئے تھا محبت کے ...

    غزل تِرے چہرے سے نظر اپنی ہٹا لوں کیسے جوشِ بےتاب نگاہی کو سنبھالوں کیسے کچھ حسیں خواب سنجوئے تھا محبت کے لیے لوگ کہتے ہیں دٙبا لو تو دبالوں کیسے کبھی خوشیوں میں بسر ہوتا تھا پٙل پٙل میرا زندگی اب میں ...

    Read more
  • تمہاری یاد ہے ماتم کناں ابھی مجھ میں تمہارا درد ابھی تک سیہ لباس میں ہے

    تمہاری یاد ہے ماتم کناں ابھی مجھ میں تمہارا درد ابھی تک سیہ لباس میں ہے فوزیہ ربابؔ میرے نزدیک یہ ایک اہم ...

    تمہاری یاد ہے ماتم کناں ابھی مجھ میں تمہارا درد ابھی تک سیہ لباس میں ہے فوزیہ ربابؔ میرے نزدیک یہ ایک اہم اور اعلا درجے کا شعر ہے۔اس کے اسباب درج ذیل ہیں: (1) جذبہ و احساس کا اظہار سطحی نہیں بلکہ حد د ...

    Read more
  • عظیم سی ایک شخصیت کا وصال دیکھا

    نظم عظیم سی ایک شخصیت کا وصال دیکھا یہ سانحہ ہے عظیم لیکن جو جا چکے ہیں دعائیں میری ہیں ان کے حق میں وہ ع ...

    نظم عظیم سی ایک شخصیت کا وصال دیکھا یہ سانحہ ہے عظیم لیکن جو جا چکے ہیں دعائیں میری ہیں ان کے حق میں وہ علم کی روشی کا روشن سا استعارا خدا کو ، خلقِ خدا کو پیارا کہ نام اشرف تھا اور سب سے وہ تھے بھی ا ...

    Read more
  • روہنگیا

    روہنگیا! تم اس طرح مارے گئے کاٹے گئے میں چپ رہا روہنگیا! بولو نہ کچھ روہنگیا تم کو بھی کیوں چپ لگ گئی کیو ...

    روہنگیا! تم اس طرح مارے گئے کاٹے گئے میں چپ رہا روہنگیا! بولو نہ کچھ روہنگیا تم کو بھی کیوں چپ لگ گئی کیوں اس طرح روٹھے ہو تم بولو مرے روہنگیا! میں کیا کروں روہنگیا! مجھ سے مرے ابا بھی اب ناراض ہیں ان ...

    Read more
  • روہنگیا مظلوم مسلمانوں کی فریاد

    جو ہوئے مجھ پر ستم، تم سے نہ دیکھا جائے گا اے مرے اہلِ کرم ، تم سے نہ دیکھا جائے گا شام غم رنج و الم تم س ...

    جو ہوئے مجھ پر ستم، تم سے نہ دیکھا جائے گا اے مرے اہلِ کرم ، تم سے نہ دیکھا جائے گا شام غم رنج و الم تم سے نہ دیکھا جائے گا کس طرح جھیلے ہیں ہم، تم سے نہ دیکھا جائے گا ایک اپنی چیخ تھی اور ایک تھا وہ ...

    Read more