2018 میں مسلم خواتین کو تین طلاق بل کی شکل میں دینا چاہتے ہیں تحفہ : مودی ـ صدرجمہوریہ نے بھی تین طلاق کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسے سب اہم مسئلہ بتایا

 نئی دہلی: 29؍جنوری (ملت ٹائمز )
بجٹ اجلاس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب کو ایسے شروع کیا جیسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ طلاق ثلاثہ ہے۔دوسری جانب اجلاس میں شرکت کے لئے ایوان میں داخلہ سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلہ پر ہی بیان دیا اور کہا کہ سال 2018 میں مسلم خواتین کو تین طلاق بل کی شکل میں تحفہ دینا چاہتے ہیں۔صدر جمہوریہ کے خطاب اور وزیر اعظم کے اس بیان سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملک کے سامنے اگر کوئی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو وہ طلاق ثلاثہ ہے۔پارلیمنٹ کے گزشتہ اجلاس میں یہ بل پیش کیا گیا تھا اور لوک سبھا میں بی جے پی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے اس بل کو صوتی ووٹ سے منظور کرا لیا تھا لیکن جب یہ بل راجیہ سبھا میں پیش ہوا تو حزب اختلاف نے اس بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی لیکن حکومت نے ان کا یہ مطالبہ نہیں مانا ۔ اب جس انداز سے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم نے اس مسئلہ پر پہلے ہی دن بیان دیا ہے اس سے صاف ہے کہ اس اجلاس میں اس مدے پر ہنگامہ برپا ہونا لازمی ہے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ ملک میں یہ پیغام جائے کہ کانگریس اور بایاں محاذ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں اور بی جے پی ایک اصلاحی قدم اٹھا رہی ہے۔ صدر جمہوریہ کا اپنے خطاب میں اس بل کا ذکر کرنا اور وزیر اعظم کا اس مسئلہ پر بیان دینے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اب پورے اجلاس میں اس کے ارد گرد ہی سیاست رہے گی۔صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند نے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’میں امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ جلد اس بل کو قانونی شکل دے گا اور طلاق ثلاثہ پر قانون بننے کے بعد مسلمان بہو بیٹیاں عزت کے ساتھ بغیر خوف کے زندگی گزار سکیں گی۔ مسلم خواتین کو مضبوط بنانے کے لئے یہ بل لایا گیا ہے اور اسے جلد منظور کراکر حکومت ان کی ترقی اور مفادات کی حفاظت کرنا چاہتی ہے‘‘۔واضح رہے مسلم سماج کی اکثریت طلاق ثلاثہ کو غلط مانتی ہے اور اس نے عدالت کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے لیکن حکومت جو طلاق ثلاثہ پر بل لائی ہے اور اس میں اس عمل کو مجرمانہ شمار کیا ہے اس کو لے کر نہ صرف مسلمانوں میں تحفظات کو لے کر خدشات ہیں بلکہ ملک کی ایک بڑی اکثریت اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔حقیقت تو یہ ہے جس ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہو، جس ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مستقل اضافہ ہو رہا ہو، جس ملک میں سرحدوں پر ہمارے جوان شہید ہو رہے ہوں ، جس ملک میں کسان خود کشی کر رہے ہوں اور جس ملک میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہو ؟ کیا حکومت کے لئے ان مسائل کا حل ضروری ہے یا پھر طلاق ثلاثہ اہم ہے؟۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *