نکاح فسخ   کرنے کاحق صرف  شریعت کے مطابق مقررکئے گئےقاضی کوہوتاہے

 نکاح کرنےسے پہلےہی  مسلم پرسنل لایعنی شریعت کے عائلی قوانین کوسیکھ لیاجائے۔ مولانارشیداحمدندوی

ممبئی(پریس ریلیز)

آئیے مسلم پرسنل لاسیکھیں کے عنوان سے سلسلہ وارمحاضرات کا تیرہواں موضوع فسخ نکاح کے اسباب واحکام پرجناب مفتی محمد فیاض عالم قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ، ناگپاڑہ ممبئی نےگزشتہ اتوارکوبلال اسکول نزدبلواس ہوٹل،مولاناشوکت علی روڈ، گرانٹ روڈ(ایسٹ)ممبئی میں پیش کیا، جس میں آپ نے بتایاکہ اسلام میں نکاح کی حیثیت عبادت کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کو اسلامی تہذیب وتمدن میں شمار کیاہے۔انھوں نے مزیدکہاکہ نکاح کامقصدعفت وعصمت کی حفاظت، نسل انسانی کی افزائش،اورمیاں بیوی کے درمیان باہمی تسکین اورطمانیت قلب ہے،یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اپنائیت اورپیارومحبت کافطری طورپراحساس ہوتاہے۔مختصرسی زندگی میں حاصل ہونے والی خوشیاں دوبالاہوجاتی ہیں،دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی خوشی اورغم میں برابرکےشریک ہوتے ہیں،اسی طرح غم وآلام،ذہنی اورقلبی پریشانیوں کو ایک دوسرےکے ذریعہ ہلکاکرکرتے ہیں؛  لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ بعض دفعہ میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ رشتہ بجائے راحت وسکون کے دردسری اورایک مصیبت کی شکل اختیارکرلیتاہے،نکاح کے جومقاصدہیں وہ فوت ہوتےنظرآتے ہیں،ایسی ناگفتہ بہ صورت حال سے خلاصی کے لیےشریعت نےتفریق  کی گنجائش رکھی ہے، یعنی دونوں میاں بیوی کے لیے یہ گنجائش ہے وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائے۔تفریق کی تین شکلیں ہیں۔طلاق خلع اورفسخ نکاح،طلاق کاحق شوہر کودیاگیاہے جب کہ خلع کاحق بیوی کو دیاگیاہے، مگر خلع ہونے کاشوہر کی رضامندی شرط ہے،پس اگرمیاں بیوی کے درمیان ناگفتہ بہ حالات پیداہوجانے کےباوجود شوہر طلاق نہ دے یابیوی کے مطالبہ پرخلع کو قبول نہ کرےتو فسخ نکاح کاراستہ اختیار کیاجاتاہے،قاضی صاحب نے کہاکہ فسخ نکاح کےاسباب بہت زیادہ ہیں، من جملہ  شوہرکاعلم وفضل،حسب ونسب،مال ودولت،دینداری اورپیشہ میں عورت کاہم پلہ نہ ہونا،مہرمیں غیرمعمولی کمی،نابالغ اولاد کابالغ ہونے کے بعد نکاح کوبرقراررکھنے یاختم کرنے کااختیارہونا،شوہرکا اپنی بیوی کی صنفی ضرورت کو پورانہ کرنایا نہ کرسکناہے، اسی طرح شوہرکاپاگل یا مہلک بیماری مثلاایڈس،کینسروغیرہ میں مبتلاہوجانا،شوہرکاغائب اورلاپتہ ہوجانایاغائب اورلاپتہ رہنا، بیوی کاخرچہ نہ دینا،اس کے ساتھ گالم گلوچ یامارپیٹ کرنا،شوہرکااپنی حالت کے بارے میں عورت کو دھوکہ میں رکھ کرغلط بیانی کرکےنکاح کرنا،یامیاں بیوی کے درمیان سخت نفرت کاپیداہوجانافسخ نکاح کے اسباب  میں سےہیں۔ان اسباب کے ثابت ہوجانے پرشرعی ضابطہ کے مطابق مقررکیاہواقاضی میاں بیوی  کانکاح توڑکرسکتاہے۔

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی نےشرعی ضابطہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ کوئی آدمی  از خود قاضی نہیں بن سکتاہے، بلکہ قاضی بنایاجاتاہے، پس ہندوستان جیسے ممالک میں قاضی بنائے جانےکے لیےضروری ہے کہ پہلے کسی کو اپناامیربنایاجائےاوروہ قاضیوں کاتقررکرے،چنانچہ بہار،اڑیسہ جھاڑکھنڈ، آندھراپردیش،کرناٹک وغیرہ  کے مسلمانوں نے اپناامیرمنتخب کررکھاہےاوران کی طرف سے قاضیوں کی تقرری ہوتی ہے۔انھوں نے مزیدکہاکہ آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈچوں کہ مسلمانوں کا متحدہ پلیٹ فارم ہے، اورمسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے،اس لیے اس کےصدرمحترم کی طرف سے قاضیوں کی تقرری  ازروئے شرع درست ہےاورا نھیں بھی نکاح فسخ کرنےکاحق حاصل ہے۔قاضی محمد فیاض عالم قاسمی نے کہاکہ حکومت کی طرف سےبعض علاقوں میں نکاح پڑھانے کےلئے قاضی مقررہوتے ہیں وہ شرعی قاضی نہیں ہیں، انھیں تنازعات کے سننے اورفیصلہ کرنے کاحق نہیں ہوتاہے،اورنہ ہی ان کو نکاح فسخ کرنے کاحق ہوتاہے۔اگرکسی نے کردیاتو ایسی عورت کادوسرے مرد سے نکاح کرناجائز نہیں۔پروگرام کےصدرجناب مولانارشید احمد ندوی جنرل سکریٹری انجمن اہل سنت والجماعت ممبئی نے کہاکہ اگرشریعت کے مطابق عورتوں کے حقوق ادا کئے جائیں، ان کی راحت وآرام کاخیال رکھاجائے اورانھیں کسی بھی قسم کی ذہنی یاجسمانی اذیت نہ دی جائےتو فسخ نکاح کی نوبت ہی نہیں آئے گی، انھوں  نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ خود کی اوراپنی اولاد کی شادی کرانے سے پہلے مسلم پرسنل لاکے تحت آنے والے سارے مسائل کو سیکھ لیاجائے تو معاشرہ کی بے راہ روی پربہت حد تک قابوپایاجاسکتاہے۔ واضح رہے کہ آئیے مسلم پرسنل لاسیکھیں کے عنوان سے ہراتوارکو بعد نمازمغرب شریعت کےعائلی قوانین پربلال اسکول نزد بلواس ہوٹل، مولاناشوکت علی روڈ، گرانٹ روڈ ایسٹ ممبئی میں تفصیلی لیکچردیاجاتاہے۔ مزیدتفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔7201635993

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *