اردو کو مسلمان اور پاکستان کی زبان قرار دینے والی سوچ اردو زبان کیلئے اصل خطرہ :منیش سسودیا

4

اردو گھر نئی دہلی میں آل انڈیا اردو میڈیا ایسوسی ایشن اور انجمن ترقی اردو ہند کے اشتراک سے اردو میڈیا کے کردار پر مذاکرہ
نئی دہلی (عبدالرشیدملت ٹائمز)
ہندوستانی جمہوریت میں اردو میڈیا کے کردار کے عنوان پر، اردو گھر نئی دہلی میں آل انڈیا اردو میڈیا ایسوسی ایشن اور انجمن ترقی اردو (ہند) کے اشتراک سے ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں بطور مہمان خصوصی نائب وزیر اعلیٰ دہلی منیش سسودیا نے شرکت کی، انہوں نے کہا کہ کہ اردو کو کمزور کہنا غلط ہے اس لئے کہ اردو وہی زبان ہے جس نے ملک کی آزادی میں اہم رول ادا کیا اور ہم یہ توقع کرتے ہیں بلکہ ہمیں یقین ہے ہندوستان میں جمہوریت کے قیام میں یہ زبان کسی بھی زبان سے زیادہ اہم رول ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا اردو کے بغیر ہندوستانی معاشرے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اردو کو اگر خطرہ ہے تو اس سوچ سے ہے جو اس کو مسلمانوں کی زبان قرار دیتی ہے اور اپنے پروپیگنڈے میں یہاں تک بڑھ جاتی ہے کہ اس کے بولنے اور اس کے فروغ کے لئے کام کرنے والوں کو پاکستانی کہنے اور پاکستان چلے جانے کی بات کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے میں یقین دلاتا ہوں کہ اس زبان کو ہمیشہ کی طرح نفرت کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ہے اور دہلی حکومت سے اردو اخبارات اور اردو صحافت کی بقا کے لئے جو بھی بن پڑے گا وہ کرے گی انہوں نے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں جس طرح دیگر زبانوں کو پڑھانے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں اسی طرح اردو پڑھانے کے لئے ٹیچرز کا انتظام ضرور بضرور کیا جائے گا اگر ہم سنسکرت اور دوسری زبان پڑھنے والوں کو ٹیچر مہیا کراتے ہیں تو اردو والوں کو بھی ٹیچر مہیا کرائیں گے، انہوں نے کہا کہ جب تک اردو کو سیاسی چشمے سے دیکھا جاتا رہے گا اس کا مسئلہ حل نہیں ہوگا جو ذہنیت اس کے خلاف مشن کے طور پر کام کر رہی ہے اک مشن کے تحت ہی اس کو جواب دینا ہو گا میں دیکھتا ہوں کہ نیوز چینلوں نے ایسی فضا بنا رکھی ہے جو نہیں دیکھتا ہے لگتا ہے کہ پورا ملک آپ کے حوالے ہے جبکہ معاشرے میں نکل کر دیکھا جاتا ہے تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک بکتا ہے ہر طرف امن و امان کی فضا محسوس ہوتی ہے۔
پرو گرام کی صدارت مولانا انور علی قاسمی (صدر آل انڈیا اردو میڈیا ایسوسی ایشن) نے کی جبکہ نظامت کے فرائض آل انڈیا اردو میڈیا ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری جاوید رحمانی نے انجام دیئے مہمان مکرم کے طور پر وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی پروفیسر شہپر رسول اور معروف ادیب و شاعر فاروق ارگلی نے شرکت کی۔ اطہر فاروقی نے کلیدی خطبہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ اردو صحافت کو درپیش مسائل ہوا میں حل نہیں ہونگے اور نہ ہی اردو اکادمی کے سیمیناروں، مشاعروں اور مذاکروں سے اردو کا کچھ بھلا ہوگا اس کے لئے ہمیں اپنی بات کو تسلیم کرانے کے لئے جمہوری طریقے اپنانے ہونگے، بڑی شدت سے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہماری بات کو جس طرح سنا جانا چاہیے تھا نہیں سنا جارہا. انہوں نے کہا کہ دہلی کی موجودہ سرکار نظام تعلیم کی درستگی کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے لیکن اردو تعلیم کے لئے جو ہونا چاہئے تھا وہ اب تک نہیں ہوا۔ مولانا انور علی قاسمی نے کہا کہ کسی بھی سرکار کے لئے اردو صحافت ایک پل کا کام کرتی ہے اور عام آدمی پارٹی کو برسر اقتدار لانے میں اسنے بڑا کردار نبھایا ہے مگر اردو اخبارات اور اردو صحافیوں کی توقعات پر وہ کھری نہیں اتر پائی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس نے اردو صحافت کو یکسر نظر انداز کیا تو مبالغہ نہ ہوگا جبکہ اس سے قبل کی حکومتوں نے دوسروں کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی گلے لگائے رکھا.

https://www.facebook.com/jawaid.rahmani.7315/videos/10211294691956723/

ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں جمہوریت کی بحالی اردو صحافت کی وجہ سے ہوئی لیکن اب جمہوریت کو بچانا بھی اردو صحافت کی ذمہ داری ہے ۔اردو صحافیوں کواپنی ذمہ داریاں اداکرنی ہوگی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آج کل اردو اخبارات وہ کام نہیں کررہے ہیںجو انہیں کرنا چاہیئے ۔ موجودہ حکومت میں زیاد ہ تراردو اخبارات یکطرفہ خبریں شائع کرتے ہیں ۔صرف ایجنسیوں پر اعتماد کرتے ہیں یا ترجمہ شدہ خبریں لگاتے ہیں ۔ میڈیا کے حقیقی کردار اور ملک وملت کو درپیش مسائل سے نمٹنے والی رپوٹ اور تجزیہ اردو اخبارات میں ندارد ہیں۔
پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے کے اپنے دائرہ کار ہوتے ہیں اسی طرح اردو اکادمی دہلی کا بھی اپنا ایک دائرہ ہے مگر حکومت کی بہترین سرپرستی کی وجہ سے وہ بہتر سے بہتر خدمات انجام دے رہی ہے مجھے مجھے وہ لوگ اردو کے تئیں مخلص معلوم نہیں ہوتے جو کہتے ہیں کہ ہم خادم اردو ہیں چونکہ میرا یہ ماننا ہے کہ ہم خادمی اردو نہیں بلکہ اردو ہماری خادم ہیں میں زمانے سے اردو پڑھا رہا ہوں مگر اپنے آپ کو خادم اردو کہنے میں ڈر محسوس کرتا ہوں جبکہ کچھ لوگ اردو کے اخبار نکال کر اور اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خادم اردو ہیں . سعید احمد نائب صدر اول انڈیا اردو میڈیا ایسوسی ایشن نے تمام مہمانان دکا شکریہ ادا کیا فاروق ار گلی وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔

SHARE