لو جہاد معاملہ: لڑکی کو عدالت سے ملی راحت، شوہر اور دیور کی فوری رہائی کا کیا مطالبہ

7

سی جے ایم عدالت نے پنکی کو اس کی مرضی کے مطابق اس کی سسرال بھیج دیا۔ پنکی کے مبینہ بیان کے مطابق تعصب کے چلتے ناری نکیتن میں اس کے ساتھ بد سلوکی کی گئی۔

مرادآباد: (ناظمہ فہیم) لَو جہاد کے نام پر تقریباً دس دن سے سماجی و ذہنی اذیت جھیل رہی بجنور کی بیٹی و مرادآباد کے کانٹھ کی بہو پنکی کو آج عدالت سے راحت ملی ہے۔ سی جی ایم عدالت نے پنکی کو اس کی مرضی کے مطابق اس کی سسرال بھیج دیا ہے۔ اس سب معاملے میں پولس کی خوب کرکری ہوئی۔ پنکی کے مطابق تعصب کے چلتے ناری نیکیتن میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ وہاں موجود ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے انجکشن لگایا جس کے بعد مجھے درد ہوا اور بلیڈنگ شروع ہوگئی۔ اس کے اگلے دن پھر مجھے انجکشن لگائے گئے۔ تین دن تک میں تڑپتی رہی، پر کسی نے خیال نہیں کیا بعد میں مجھے ضلع اسپتال پہنچایا گیا جہاں میرا علاج ہوا۔ مگر تب تک میرا حمل ذائع ہو گیا تھا۔
حالانکہ سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر نرملا پاٹھک کا کہنا ہے کہ پنکی کا حمل پوری طرح ٹھیک ہے۔ پنکی نے عدالت سے گہار لگائی ہے کہ اس کے شوہر اور جیٹھ کو فوری رہا کیا جائے۔ پنکی کی حالت بگڑنے پر پھیلی خبروں کے بعد بال آیوگ کے صدر ڈاکٹر وشیش گپتا بھی ضلع اسپتال پہنچے اور اس متعلق ساری جانکاری لی۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق پنکی کو بلیڈنگ تو ہوئی ہے مگر اس کے حمل کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے جبراً حمل گرائے جانے کی خبروں کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے، مگر پھر بھی سارے معاملات کی جانچ کی جا رہی ہے۔
واضح ہو کہ 22 سالہ پنکی نے راشد نام کے ایک شخص سے نکاح کر لیا جس کا رجسٹریشن کرانے کے لئے تقریباً ماہ بعد پنکی و اس کا شوہر راشد اور سلیم کانٹھ تحصیل پہنچے۔ جہاں بجرنگ دل سے جڑے کچھ کارکنان نے انہیں پکڑ لیا اور پولس کے خوالے کر دیا۔ جس کے بعد پولس نے پنکی کے والدین کو خبر دی اور بعد میں پنکی کی والدہ کی شکایت پر 484/20، دفعہ 3/5 جبراً تبدیلی مذہب کے تحت پولس نے مقدمہ درج کرلیا اور راشد و اس کے بڑے بھائی سلیم کو جیل رسید کر دیا ،جبکہ پنکی کو ناری نکیتن پہنچا دیا۔
حالانکہ پنکی لگاتار یہ کہہ رہی تھی کہ میں بالغ ہوں اور اپنی مرضی سے میں نے یہ نکاح کیا ہے پر پولس نے ایک نہ سنی۔ پنکی کے مطابق ناری نیکیتن میں اس کے ساتھ لگاتار بدسلوکی کی جاتی رہی۔ پولس نے کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے پنکی کو 164 کے بیان کے لئے سی جی ایم عدالت میں پیش کیا، جہاں پنکی نے اپنے بیان میں صاف کہا کہ میں بالغ ہوں اور میں نے اپنی مرضی سے یہ نکاح کیا ہے۔ جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پنکی کو حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارے۔ اب وہ اپنی سسرال میں رہنا چاہتی ہے تو اسے حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہے۔ عدالت کے حکم کے بعد کانٹھ پولس نے پنکی کو اس کی سسرال پہنچا دیا۔
پنکی کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر و جیٹھ کو فوری رہا کیا جائے اور ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہو جنہوں نے میرے حمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ پولس کپتان پربھاکر چودھری نے صحافیوں کو دیئے بیان میں کہا کہ پولس نے لڑکی کی والدہ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا تھا اور اس کی سچائی جاننے کے لئے پوری طرح سے کارروائی کی گئی۔ لڑکی کی اسناد سے اس کی عمر ۲۲ سال ہے۔ عدالت میں ہوئے بیان کے بعد آئے فیصلے کے مطابق لڑکی کو اس کی سسرال کے حوالے کر دیا ہے۔ آگے کی جانچ جاری ہے۔ تفتیش کے بعد ہی اس مقدمہ میں مزید کارروائی کی جائیگی۔ حالانکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں پولس نے پوری طرح لاپرواہی برتی اور بجرنگ دل کے کارکنان کے دباؤ میں کام کیا۔ فرقہ پرستوں کو اگر اسی طرح سے اہمیت دی جاتی رہی تو ایک دن یہاں جنگل راج ہوگا۔