قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو کیا بند کرنے کی تیاری ہے؟

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ کی قیادت میں دہلی مجلس کے وفد کا ہنگامی دورہ، ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد نے وفد کی باتوں اور مطالبات کو بغور سنا اور اس پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی  

نئی دہلی: (پریس ریلیز) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان وزارت تعلیم حکومت ہند ملک کا سرگرم ادبی و لسانی ادارہ ہے۔اس ادارے کا قیام ملک بھر میں اردو،عربی و فارسی زبان کو فروغ دینا ہے۔ یکم اپریل1996 /کو قائم کیے گئے اس ادارے سے ملک کے محبان اردو کو کافی امید ہے اس لیے وہ اس ادارے کی موجودہ خستہ حال صورت حال کو لیکر فکر مند ہیں۔مسلسل شکایات کے پیش نظر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر اور محب اردو جناب کلیم الحفیظ نے دہلی مجلس کے ایک موقر وفدکے ساتھ آج 27/جون بروز پیر این سی پی یو ایل کا ہنگامی دورہ کیا۔ ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد سے ملاقات کی اور حالات کا جائزہ لیا۔وفد میں صدر کے علاوہ جنرل سکریٹری شاہ عالم،میڈیا انچارج اور ترجمان ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی، تنظیمی سکریٹری راجیو ریاض کے علاوہ کراول نگر کے انچارج سرتاج علی اور شاداب نیڈوری وغیرہ شامل تھے۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے کلیم الحفیظ نے کہا کہ این سی پی یو ایل جو ایک فعال ادارہ تھا ان دنوں بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔گزشتہ ۶/ مہینے سے مجلس عاملہ تشکیل نہیں دی گئی جس کی وجہ سے مالیاتی و کئی اہم کام متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ادارے کا سالانہ بجٹ100/ کروڑ روپے ہے لیکن اس میں 20/فیصد کی تخفیف کی گئی ہے جومناسب قدم نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی اردو کی خبروں کی ایجنسی یواین آئی کے بجٹ کو بھی روک دیا گیا ہے جس سے نہ صرف ایجنسی بلکہ اردو کے اخبارات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یواین آئی کی وجہ سے خبروں کا ایک معیار پیدا ہوا ہے اور اردو کے اخبارات میں خبروں کے تعلق سے یکسانیت پیدا ہوئی ہے لیکن اردو دشمنی کے سبب اس پر بھی حملہ کیا جا رہا ہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے اردو دنیا رسالہ کا مدیر مقرر نہیں کیا گیا۔کیا یہ اچھی بات ہے؟ کیا اس پر سوال نہیں اٹھایا جائے گا؟ این سی پی یو ایل کے ذریعہ کمپوٹر سینٹر کھولے جا رہے تھے لیکن اس میں بھی کمی آئی ہے۔ان اداروں میں بچے نہ صرف کمپوٹر سیکھتے ہیں بلکہ اردو، عربی اور فارسی زبان کا کورس بھی کر لیتے ہیں لیکن اس پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ وزارت تعلیم کی جانب سے امیر خسرو، غالب، پریم چند سمیت کئی ایوارڈ دیے جانے کا اعلان کیا گیاتھا لیکن اس پر بھی کوئی کام نہیں ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ عالمی سمینار اور قومی سمینار بھی منعقد نہیں ہو رہے ہیں۔ صدر کلیم الحفیظ نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر این سی پی یو ایل کے پروگراموں میں آر ایس ایس کے لوگوں کو کیوں مدعو کیا جاتا ہے؟ آخر ان کا اردو زبان اور ادارے سے کیا رشتہ ہے؟ انھوں نے کہا کہ سینٹر کے اساتذہ کو محض چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جو ناکافی ہے، مہنگائی کے اس دور میں کم از کم دس ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ دی جائے۔ انھوں نے کہا کہگزشتہ پانچ سال سے پبلی کیشنس آفیسر کی تقرری نہیں کی گئی۔ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟فوری طور پر تقرری کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے نئے ملازمین کی پنشن بھی روک دی گئی ہے جو مناسب نہیں ہے۔ اس کو بحال کیا جائے۔ ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کو میڈیکل سہولیات دی جائے۔انھوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ مذمورہ بالا جو بھی مسائل ہیں انھیں حل کیا جائے ورنہ دہلی مجلس اس مسئلہ کو پرزور طریقہ سے سڑک سے سنسد تک اٹھائے گی۔ مرکزی وزیر اور دیگر ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے اس کی شکایت کرے گی اور ضروری ہوا تو اس کے لیے احتجاجی مظاہرے بھی کرے گی۔اس موقع پر شیخ عقیل نے وفدکی باتوں کو بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ جو بھی شکایات ہیں وہ جائز ہیں لیکن حکومت کی طرف سے فنڈ بھی مل رہا ہے اور کام بھی ہو رہا ہے۔ کورونا کی وجہ سے کچھ کام رہ گئے ہیں جنھیں فوری طور پر کیا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ کچھ غلط فہمیاں بھی ہیں جو دور کی جائیں گی۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com