ملا کی اذاں اور ہے ....

 ملا کی اذاں اور ہے ….

قاسم سید
اترپردیش انتخابات کے نتائج نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ہمارا یقین یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑی افتاد آتی ہے، قدرتی آفت کا شکار ہوتے ہیں تو دراصل یہ ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جب مرکز میں مودی سرکار نےاقتدار سنبھالا تو بھی اسے بداعمالیوں کا نتیجہ سمجھا گیا۔ اس کے ڈھائی سال بعد یوپی کے الیکشن ہوئے اور بی جے پی غیرمتوقع طور پر فاتح بن کر ابھری اس پر مستزادیوگی آدتیہ ناتھ کو باگ ڈور سونپی گئی تو اس کو بداعمالیوں کا ثمر بتایا گیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ڈھائی سال کے وقفہ میں بداعمالیوں کا سنگین سلسلہ جاری رہا اور ان سے دور رہنے اور توبہ واستغفار کی توفیق نہیں ملی اور آئندہ جو بھی بھیانک افتاد آئے گی وہ بھی سو فیصد بداعمالیوں کاہی نتیجہ ہوگا یعنی ہمیں اپنی بداعمالیوں پر اصرار ہے اور رہے گا۔ اپنا عمل بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے اور تقدیر کا بہانہ بناکر عمل کی زحمت سے فارغ کرتے رہیں گے۔ رویوں میں موجود ضد، ہٹ دھرمی، جارحیت، سفاکیت اور کٹرپن ہر موقع پر اپنی بے رحمانہ جبلت کا اظہار کرتا رہتا ہے ، حالات کی سنگینی کو سمجھنے اور اس کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنے کی تکلیف گوارا کرنے کا وقت شاید ابھی نہیں آیا ہے۔ گرمی گفتار کے ساتھ سردی کردار نے کسی لائق نہیں چھوڑا کروٹ بدل کر پھرخراٹے لینے کی عادت چھوڑنے کے لئے قطعی تیارنہیں ۔ صرف قنوت نازلہ پڑھنے اور دافع شر دعاؤں کا ورد کرنے سے مصائب وآلام کے کارواں گزر جاتے تو اس کی سب سے زیادہ مستحق ذات گرامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی ( ہمارا سب کچھ آپؐ پر قربان ہو)۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ شعب ابی طالب سے لے کر فتح مکہ تک آپ ؐ کی زندگی کا ہر پہلو عمل سے عبارت ہے اور اصولی موقف پر جمے رہنے کا اظہار ہے۔ پائے مقدس کے جوتے شہدوں کی سنگ باری سے خون سے بھر گئے مگر آپؐ کی زبان مبارک سے کلمہ اُف تک نہیں نکلا اورناہی ناپاک کام کرنے والوں کے لئے بددعا کی دین کاپیغا م پہنچانے میں بے پناہ صعوبتیں برداشت کیں حتیٰ کہ وطن سے نکال دیاگیا۔پہلی لڑائی ہوئی تو تمام وسائل جمع کرکے میدان جنگ میں لے آئے پھر دست دعا درازکئے اور سب کچھ خدا کے حوالے کردیا ہے ۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جو ہمارے بے حسی پرمبنی رویہ کو شرمسار کرسکتی ہیں لیکن سبق لینے کے لیے تیار نہیں ہیں ہمارا رویہ خود اپنوں کے ساتھ کیسا شفقت بھرا اور مواخاۃ کا ہے،اس پر روشنی ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی ہر غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا اور ہرمعاملہ میں سازش کے پہلو تلاش کرنا غلامانہ زندگی کے بنیادی او صاف ہیں۔ اللہ کے درکے علاوہ ہر چوکھٹ پر حاضری اور سجدہ ریزی کا جنون بھرا شوق کہاں لے کر جائےگا کہنا مشکل ہے۔
قوموں کی زندگی دھوپ چھاؤں کی طرح ہے۔ ہر عروج کو زوال ہے اور زوال کو عروج یہ قانون قدرت ہے مگر اس کی کچھ شرائط ہیں سربلندی غیر مشروط نہیں۔ اس کے لیے زبردست محنت اور قربانی دینی پڑتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم سے مخصوص معاہدہ نہیں کیاہے، وہ اسی کو اقتدار و طاقت کی کرسی سونپے گاجو ملت اس کے تقاضوں کو پورا کرے گی، اس کی شرائط کو مانے گی۔ جب بغداد میں بداعمالیوں کا گھڑا بھر گیا علما کی خانہ جنگی اور فروعی فقہی مسائل پر ایک دوسرے کا سر توڑنے اور مناظرہ بازی حد سے آگے بڑھ گئی ، عام آبادی ہر طرح کے فسق و فجور میں مبتلا ہوگئی تو اللہ نے بغداد کا دھارا موڑ دیا۔ چنگیز خاں کی اولادکے ہاتھوں جو مارے گئے وہ سب کلمہ گو تھے ۔ جن کے سرکاٹ کر میناربنائے گئے فرزندان توحید کے ہی سر تھے جس خلیفہ کو نمدے میں لپیٹ کر ہاتھی کے پاؤں تلے کچلا گیا وہ خلیفۃ المسلمین کا لقب اختیار کئے ہوئے تھا۔ پھر خداوند قدوس نے چنگیز خان کی اولاد سے ہی اپنے دین کا کام لے لیا جس کو اقبال نے کہاتھا : ’’ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے‘‘۔ سرکاٹنے والے سروں کا تحفظ کرنے والے بن گئے۔ جو اللہ کی طے کردہ شرائط و ضوابط کو مانتا ہے صدق دلی سے عہد کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ پکڑتا ہے سماج کے کمزور ترین طبقہ کو دنیاچلانے کے لیے منتخب کرلیتا ہے اور کریمی لیئر کے لوگ ان کے ماتحت بنادیا جاتے ہیں صرف انتم الاعلون یاد رکھنے سے کام نہیں چلتا بلکہ ان کنتم مومنین کے تقاضوں اور مطالبوں پرعہد وپیما کرنےکے ساتھ عملی طور پر ثبوت دینا ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ نہ پہلے غیر مشروط تھا نہ آج ہے۔ جب ہزار سجدوں سے نجات پانے کے لیے گراں سمجھنے جانے والے ایک سجدہ کی عظمت کو نہیں سمجھاجائے گا وہ مدد جس کا وعدہ قرآن میں جگہ جگہ کیاگیا ہےآنے والی نہیں ہے۔ قدرت کا عذاب تو نوح کے بیٹے کو بھی نہیں بخشتا ۔ خدا کے ڈر کو دل سے نکال کر مودی اور یوگی جیسے ناموں کا ڈر اور خوف ان کو لرزا تارہے گا۔ نام بدلتے رہیں گے مگر خوف ودہشت کی نفسیات سے نجات نہیں ملنے والی۔
دراصل سیاسی طور پر بے شعور بھیڑ کو مہذب بنانے اور اونچ نیچ بتانے والے ہی راستہ کھو بیٹھے ہیں ۔ ہم اپنے امراض کی تشخیص سے ڈرتے ہیں اس لیے کہ جب بھی ایماندارانہ تشخیص وذاتی احتساب کریںگےتوورغلانے اور غلط کاموںپر اکسانے کاقصوروار صرف شیطان رجیم ہی نہیں ہوگا۔ ہماری خود غرضیاں، وقتی مفاد کے حصول کے لیے سب کچھ کر گزرنے کی ہوس اورخدائی احکامات سے دوری و بیزاری کا بھی اعتراف کرنے پر مجبور ہوں گے۔ وہیں اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ بھیڑوں کے چرواہوں نے شیر سے خفیہ مفاہمت کرلی۔ وہ ریوڑ کو ادھر سے ادھر ہانکتے رہے اور ہمارے اعتماد کا خون کرتے رہے جب چرواہے کی نیت میں فتورآجائے اور اپنی ذمہ داری میں کوتاہی برتنے لگے تو پھر بھیڑوں کی خیرنہیں رہتی ۔ یہ چرواہے قصائی کے ہاتھوں فروخت کرتے رہے اور بھیڑے احتجاج کی ہلکی سی منحنی آواز نکال کر خاموش ہوگئیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی رونے ،ٹسوئے بہانے، ایک دوسرے کی غلطیاں بتانے ،ہر معاملہ میں سازش کاپہلو تلاشنے اور مشیت الٰہی کہہ کر پرانے ڈھرے پر چلتے رہیں گے یا اسی ملبہ میں سے تعمیر کا عزم لے کراٹھیں گے ۔ایسا پہلی بارنہیں ہواہے کہ اہل اسلام پر فکری و نظریاتی یلغار کے ساتھ ذاتی تشخص اور وجود کو بنانے کی کثیر پہلو حکمت عملی کے حصار میں خود کو گھرا ہوا محسوس کررہے ہوں۔ بغداد سے لے کر اسپین تک اور خود ہندوستان میں انگریزوں کے عہد میں کیا کچھ نہیں ہوا مگر بفضل تعالیٰ ایسی نابغۂ روزگار شخصیات درمیان تھیں جن پر اعتماد و بھروسہ تھا وہ جو کہتے تھے اس پر لبیک کہاجاتا۔
اس وقت بھی میر جعفر اور میر صادق کی طویل فہرست تھی معاشرہ کبھی یک رنگی نہیں رہا اگر کلمہ حق کہنے والے ہیں تو اس کا رد کرنے والے بھی موجود رہے ہیں اگر ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ ہیں تو میر صادق اور میر جعفر کے کردار بھی ہیں۔ گاندھی ہیں تو گوڈسے بھی ہیں خیر وشر کا معرکہ ہر دور میں رہا ہے۔ آدم کی تخلیق ہوئی تو شیطان بھی سامنے آگیا۔ کوئی بھی فوج صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہارتی ،بارہا ایسے مراحل نکلے ہیں جب چھوٹے گروہوں نے بڑے گروہوں پر غلبہ حاصل کیا ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا جنگ حوصلہ ہارنے سے خوف دہشت کے دلوں میں گھونسلا بنانے سے بازی جاتی ہے ۔ واویلا اور ہائے توبہ مچانے والے پہلے تو میدان میں جانے سے گریز کرتے ہیں اورپھر دباؤ میں چلے بھی گئے تو عبداللہ ابن ابی کی طرح درمیان میں ہی اپنے حامیوں کے ساتھ واپس آجاتے ہیں۔ یہ عناصر مختلف ناموں سے ہرزمانہ میں موجود رہے ہیں اور اس وقت تک چوہے کی طرح سماجی ڈھانچہ کو کترتے ہیں جب تک ان کی شناخت نہیں ہوجاتی۔ ہمیں ایسے عناصر سے ہمہ وقت الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
اب تک ہم غلامان سیکولرزم کے طورپر اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں نہ جانے کیوں سیکولرزم اپنی جاہ وحشمت اور بلاشرکت غیر نے اقتدار کے باوجود لگاتار کمزور ہوتا گیا اور ہندتو نظریہ پھلتا پھولتا رہا حتی کہ اب صدارتی کرسی کے لیے بھی نام سوچا جانے لگا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں اور خدا کی غلامی کی طرف لوٹیں ہمیں تو نیکی پھیلانے اور برائیاں روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانی آبادی سے منتخب کیا تھا تو کیااس فریضہ سے غفلت اور خدا سے نافرمانی اس کے رسولؐ کے احکامات کو اپنی زندگی سے بے دخل کرنے کی سزاتو نہیں مل رہی ہے اور اگر بد اعمالیوں کا یہی مفہوم ہے تو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف مراجعت کیوں نہیں ہوتی۔ دین کے نام پر دنیا بنانے اور اپنی سلطنت کو وسیع تر کرنے میں دن و رات مصروف یہ قبیلہ تک ادھر ادھر گلیوں میں گھومتا رہے گا نامرادیوں اور بدبختیوں کا سفرختم نہیں ہوگا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *