کیا وقت یوں ہی گذر جائے گا؟

کیا وقت یوں ہی گذر جائے گا؟

قاسم سید

جمہوریت دراصل اکثریتی آمریت کی خوبصورت دیدہ زیب شکل ہے۔ یہ دنیا کا سب سے لچیلا اور عوام کی خواہشات سے قریب تر نظام ہے، مگر یہ ایسا شامیانہ ہے جس میں اکثریت کی جارحانہ ذہنیت اقلیت کے حقوق کا بے رحمی سے قتل کرتی ہے اور اسے اپنا باج گزار بناکر رکھتی ہے۔ چونکہ ہر فیصلہ کثرت رائے کی بنا پر ہوتا ہے، اس لئے صحیح اور غلط کی تمیز بے معنی ہے۔ اس میں معقولیت تلاش کرنا بے سود ہے۔ ہندوستانی جمہوریت اس کی مثال ہے، جہاں ناانصافیاں اکثریت کی حمایت کا جامہ پہن کر انصاف کی ترجمان بن جاتی ہیں۔ دیواستبداد جمہوری قبا میں پائے کوب ہے اور دنیا آزادی کی نیلم پری سمجھتی ہے۔ اکثریت اپنی تہذیب و ثقافت، سماجی روایات اور مذہبی رسوم و عقائد کو آئین میں دیے گئے تحفظات کے باوجود اقلیتوں پر بالجبر تھوپنے کے لئے ہر حربہ آزماتی ہے۔ راشٹرواد اور حب الوطنی کے نئے مفاہیم انھیں پریشان کرتے ہیں، انھیں مقدس گائے بناکر قومی نغموں و نعروں کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے، جو اقلیت کے مذہبی عقائد سے براہ راست متصادم ہوتے ہیں اور لوگوں کو صرف ایک بیانیہ کی جانب رکھ کر لہو گرمایا جاتا ہے۔ لارنس رابرٹ کا کہنا ہے کہ فاشزم راشٹرواد کی کھال پہن کر ڈراتا ہے جہاں مخالفت، مزاحمت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ دید و نادیدہ دشمنوں کے خوف اور قومی سلامتی خطرے میں ہے کا مسلسل پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، تاکہ عوام کو ریاستی سکیورٹی اور راشٹرواد کے نام پر بنیادی حقوق سے دست برداری پر آمادہ کیا جاسکے۔ لوگ اذیت رسانی، سزا، قفل اور قید کے اندھادھند استعمال کو معمول کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کرسکیں۔ راشٹرواد کو ایک مشترک دشمن یا قربانی کے بکرے کی تلاش رہتی ہے اور اس کے لئے کمزور بکرے پر فوکس کیا جاتا ہے، تاکہ عوام قومی دیوانگی کے نشہ میں سرشار رہ کر مسلسل شک کرتے رہیں۔ جنگی اداروں اور اکائیوں کی کارکردگی و کردار کو خصوصی طور پر ابھارا جاتا ہے تاکہ قومی وسائل کا بڑا حصہ اس پر وقف رہے اور عام آدمی بنیادی مسائل سے صرف نظر کرے اور راشٹرواد کے نام پر ہر تکلیف، محرومی کو سہتا رہے اور اپنے مسائل کو بھول جائے۔ جنگی اکائیاں راشٹرواد کی شان و شوکت اور ہیبت و قوت کا اظہار بنی رہیں۔ علاوہ ازیں میڈیا کا براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول راشٹرواد کے نام پر کیا جاتا ہے تاکہ کوئی متبادل ذریعہ لوگوں کے ذہن میں جائز اور ضروری سوال نہ اٹھاسکے اور اگر کوئی ایسا کرنے کی ہمت کرے تو وہ راشٹردروہی، غدار اور قومی سلامتی کا دشمن قرار دیا جاسکے۔ راشٹرواد یا حب الوطنی کے کاروبار میں میرٹ سے زیادہ وفاداری اور تعلق کو اہمیت ملتی ہے۔ احتساب بدعنوانی کا نہیں مخالفت کا ہوتا ہے۔ ایک مخصوص ٹولہ ملک کی یکجہتی کے نام پر تمام اختیارات، پالیسی اور وسائل پر قابض ہوکر پارٹی اور سرکار کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہے۔ طاقت کو مزید وفاداریاں اور خاموشی خریدنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اقلیتوں میں اتنا خوف و دہشت حاوی ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی جان کی سلامتی کے لئے گڑگڑانے پر مجبور کردی جاتی ہیں۔ راشٹرواد خوف اور نفرت کی دودھاری تلوار کے ذریعہ اپنی طاقت اور رقبہ میں اضافے کرتا ہے۔ سڑکوں پر کمزور طبقات کو دوڑا دوڑاکر پیٹا اور مارا جاتا ہے، تاکہ ان کے دل میں بنیادی حقوق کے حصول کا تصور بھی کپکپی پیدا کردے۔ جینے اور رہنے کے لئے کچھ نعرے تراشے جاتے ہیں، ان کی پاسداری پر ہی چلنے پھرنے کی اجازت ملتی ہے۔ مذہبی علامات کو تقدس کا ہالہ پہناکر ان کی پرستش کرائی جاتی ہے۔ کھانے پینے کا مینو بھی طے کرنے کی کوشش ہوتی ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اقلیتیں اپنے مذہبی عقائد کے تحفظ کے لئے ان کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی قیادت پہلے ہی ہتھیار ڈال چکی ہوتی ہے یا اس کی ’کمزوریاں‘ دبائو بنانے کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپاتی۔

ہندوستان کی موجودہ صورت حال تقریباً ایسے ہی حالات کی عکاسی کررہی ہے۔ ’راشٹرواد‘ کے بڑھتے مہیب سائے اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہر شخص غیریقینی کیفیت میں مبتلا ہے۔ رائٹر سے لے کر عام شہری شدید قسم کے کنفیوژن میں ہیں، انھیں ڈراکر رکھا جارہا ہے، مزعومہ دشمن کی نشان دہی کرکے اس کے ڈانڈے اقلیتوں سے ملاکر ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ سیکولر شناخت رکھنے والے ان کی حمایت یا مزاحمت کرنے کے بارے میں ہزار بار سوچتے ہیں کہ اب اقلیتی کاز کی حمایت کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ راشٹرواد کے نئے تصورکے مخالف ہیں اور آپ کی حب الوطنی مشتبہ ہے اور یہ الزام موجودہ صورت حال میں کوئی بھی اپنے سر لینے سے ڈرتا ہے۔ مودی اور یوگی کی جوڑی جس نئے ہندوستان کی تخلیق میں سرگرم ہے، اس میں اگر مقدس گائے کی حرمت کے تحفظ کے لئے کسی کو چوراہے پر دن دہاڑے جان سے بھی مارنا پڑے تو یہ مہنگا سودا نہیں، خواہ وہ الور کی سڑکیں ہوں یا دادری کی گلیاں، دہلی کی شارع عام ہو یا جھارکھنڈ کا گائوں، آسام کے جنگلات ہوں یا ہماچل کے پرپیچ راستے، ایسے ہر مقام پر بے گناہ نوجوانوں کو دوڑا دوڑاکر اتنا مارا کہ وہ جان سے چلے گئے۔ کہیں محض اس لئے گوبر اور گائے کا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا کہ وہ جانوروں کو خریدکر لے جارہے تھے اور اس میں گائے بھی تھیں، یعنی انسانی جان کی حرمت پر گائے کا تقدس حاوی ہوگیا ہے اور ایسے واقعات کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کرکے اقلیتوں کو خوف میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ جب پاکستان کو گالیاں دی جاتی ہیں تو اس کی آڑ میں اصل نشانہ اقلیت ہوتی ہے۔ یہ لوگ جان بوجھ کر جناح کے دو قومی نظریہ کو پال پوس رہے ہیں، اس کی پرورش کررہے ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ ہٹلر نے نفرت کی کھیتی اگائی تو جرمنی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا اور دیوار برلن کھڑی کردی گئی۔ اسی طرح راشٹرواد کو ہوا دینے والا مسولینی بھی عبرت کے انجام کو پہنچا۔ ملک کی موجودہ قیادت ہزا سالہ ’غلامی‘ کا انتقام چند سالوں کے اندر لینا چاہتی ہے۔ ملک میں رہنا ہے تو یہ کہنا ہوگا، یہ بولنا ہوگا، ورنہ سب کو سرحد پار پہنچا دیا جائے گا۔ یعنی اس ملک کے جملہ حقوق خاص طبقہ کے نام ہیں۔ اگر آپ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو شرائط نامہ پر دستخط کرنا ہوں گے، ورنہ اخلاق اور پہلو خاں بنادیے جائیں گے۔ اب ایسے واقعات پر احتجاج کی آوازیں اتنی بلند اور طاقتور نہیں ہیں جو حکمراں صفوں کو تشویش میں مبتلا کردیں۔ کانگریس نے کمال عیاری کے ساتھ سافٹ ہندوتو کی راہ چل کر گرم ہندوتو کے لئے کارپیٹ بچھایا، اس کا آغاز آنجہانی اندرا گاندھی نے ڈاکٹر کرن سنگھ کے ذریعہ بوٹ کلب پر ہندو وراٹ سمیلن بلاکر کیا تھا اور ہندو کارڈ کھیلنے کی باضابطہ ابتدا کی۔ اس پر ان کے لخت جگر راجیو گاندھی چلے اور بابری مسجد کا تالہ کھلواکر رام للا کے درشن کے پٹ کھول دیے۔ اس کو نرسمہا رائو نے آگے بڑھایا اور بابری مسجد شہید کرادی اور رام للا بھی براجمان کرادیے۔ عملاً ہندوستان بہت پہلے ہندو راشٹر بن چکا ہے، صرف اعلان باقی ہے۔ مسلمانوں پر ریزرویشن کی پابندی، مسلم اکثریتی آبادی کی پارلیمانی سیٹوں کو ایس سی ایس ٹی کے لئے ریزرو کردینا اور دلت اکثریتی علاقوں کو جنرل کوٹہ میں رکھنا اس کا ایک حصہ رہا ہے، تاکہ اقلیتوں کو آئینی اداروں میں نمائندگی سے محروم کردیا جائے۔ سرکاری نوکریوں میں آزادی سے قبل 30 فیصد تھے اور اب محض تین فیصد رہ گئے ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت اب تک کے بدترین خطرہ سے دوچار ہے، کہا جاتا ہے کہ 2019 کے عام انتخابات آخری بھی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ملک کو صدارتی نظام میں بدلنے پر غور ہورہا ہے۔ اقلیتوں کو پرسنل لاء کے لالے پڑرہے ہیں۔

یہ حالات بردباری، سنجیدگی، متانت اور تدبر کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ہم فی الحال اتنی زحمت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ مسلک و ذات برادری میں تقسیم ملت و قیادت آزمودہ نسخوں کے ذریعہ ہی سارے مسائل حل کرنا چاہتی ہے۔ پے در پے کانفرنسوں اور ان کی تعداد میں اضافہ، قراردادوں کے حجم اور الفاظ کی شدت میں اضافہ اور احتجاجی جلسوں کے انعقاد میں تیزرفتاری کے علاوہ اور کوئی فارمولہ بظاہر نظر نہیں آتا۔ سب سے زیادہ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلم قیادت کا سواد اعظم اب بھی ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں اور نہ ہی جماعتی مفادات کا حصار توڑنے کے لئے تیار ہے۔ ملک کو ہندو راشٹر کی گود میں دھکیلا جارہا ہے اور ہمارے پاس کوئی حکمت عملی نہیں کہ ایسا ہونے پر کیا رویہ اپنایا جائے۔ انھیں یہ دور کی کوڑی لگتی ہے۔ دور کی کوڑی تو بی جے پی کا تیرہ ریاستوں میں برسراقتدار آنا بھی تھا۔ پارلیمانی الیکشن میں محض دو سال بچے ہیں، مگر یوپی میں بدترین ہار اور مسلمانوں کی پارلیمانی اداروں میں نمائندگی میں تشویشناک حد تک کمی کا علاج ڈھونڈنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہورہی ہے۔ مسلمانوں کو چوہوں کی طرح مارا جارہا ہے، کہیں کوئی ہلچل نہیں۔ آخر سوچ کیا رکھا ہے کہ ہمارے گھر محفوظ رہ جائیں، کسی کا جلے تو جلے۔ حضرات ہماری گھیرا بندی کی جارہی ہے اور دائرہ لگاتار تنگ ہورہا ہے۔ آپ کی خاموشی ڈرا رہی ہے۔ اس دو طرفہ مار کو مسلم اقلیت نہیں سہ سکے گی۔ بیانوں سے آگے بڑھئے اور مل جل کر روڈ میپ تیار کیجئے۔ تاریخ چپ بیٹھنے والوں کو معاف نہیں کرتی۔

qasimsyed2008@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *