سچ کہہ دوں اے برہمن ....

سچ کہہ دوں اے برہمن ….

قاسم سید
مسلم پرسنل لا کے تعلق سے حکومت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور اس وقت سیاسی اعتبار سے سب سے کمزور طبقہ کی نہ کسی کو ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے دکھ درد جاننے کی۔ اپوزیشن پارٹیاں اپنے حصے بخرے سمیٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خود کا وجود لب دم ہے، اس لئے وہ کسی اور کے بارے میں کیوں سوچیں گی۔ ویسے بھی ہم نے سیکولر سیاست کی منافقت، دھوکہ بازی اور مکاری کے بداثرات محسوس نہیں کئے اور نہ ہی مسلم نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی، اضطراب اور مایوسی کا ادراک کرسکے ہیں۔ جب گئوماتا کے نام پر کسی پہلو خاں اور لوجہاد کے بہانے غلام محمد کے بے رحمانہ قتل کی وارداتیں سامنے آتی ہیں تو دل اچھل کر حلق میں آجاتا ہے، کیونکہ ایسے سنگین واقعات کے بعد بھی سناٹا اتنا گہرا ہے کہ روم روم دھڑکنے لگتا ہے۔ ہر ایک اپنے حصار میں قید اور سرمستیوں میں اتنا ڈوبا ہے کہ گرد و پیش میں کیا قیامت برپا ہورہی ہے اسے فکر ہی نہیں۔ اللہ کارساز ہے، سوچ کر خراٹوں کی رفتار بڑھا دیتا ہے، اسے بے حسی کہیں یا بے غیرتی، خوف کہیں یا مصلحت، کوئی نام دیں، غلامی، وفاداری نبھانے کا بھی خراج دینے میں کہیں ناگواری نظر نہیں آتی بلکہ کبھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ نگاہیں آقائوں کے چہرے پر رہتی ہیں کہ مبادا کبھی زور سے آواز نکالنے پر ’کبیدہ خاطر‘ نہ ہوگئے ہوں۔

حکومت کے ناپاک عزائم کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے اس پر اتفاق نہیں ہوسکتا۔ ایک طبقہ ممولہ کو شہباز سے لڑانے پر مصر ہے تو دوسرا عدالتی لڑائی تک معاملہ محدود رکھنے کے حق میں، حالات جوش و خروش کے ساتھ ہوش و عمل اور خوداحتسابی کے متقاضی ہیں، اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ جب مسلم خواتین کی ’مظلومیت‘ کا راگ بھیروی گایا جاتا ہے تو ہماری طرف سے ہندوستانی خواتین کی مظلومیت کے قصے سنائے جاتے ہیں۔

مٹھی بھر لوگوں کی نادانی و غیراسلامی حرکتوں سے اسلام اور مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو قصور ہمارا ہے۔ شاہ بانو کیس کے نتائج سودمند ہونے کی جگہ گھاٹے کا سودا ثابت ہوئے ۔ راجیو گاندھی سرکار نے مسلمانوں کی ملک گیر تحریک کے دبائو میں آکر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو رد کرکے مسلم خواتین بل پاس کیا تو دوسری طرف فرقہ پرستوں کو خوش کرنے کے لئے بابری مسجد پر لگا تالا کھلوادیا، جس کا انجام بابری مسجد کی شہادت پر ہوا۔ اور اب یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تین طلاق کے معاملہ میں عدالتی لڑائی ہارنے پر جس کا امکان زیادہ ہے، کیونکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے مقدمہ کی بنیاد بہت کمزور رکھی ہے، بورڈ کے سامنے تحریک چلانے کے علاوہ بظاہر اور کوئی راستہ نہیں رہے گا تو کیا تاریخ خود کو پھر ایک بار دہرائے گی اور اس کے انجام کے طور پر کہیں ہم بابری مسجد کو تو نہیں کھودیں گے، کیونکہ سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے۔ اس مرتبہ لڑائی کی نوعیت مختلف ہے۔ مرکز میں ایسی حکومت برسراقتدار ہے جو اس طبقہ کو سبق سکھانے کے موڈ میں ہے، جس نے اوّل روز سے اس کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے۔ شاہ بانو کیس کے بعد سے عقوبت خانوں کے دروازے کھل گئے تھے۔ مذکورہ بل سے مسلم مردوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، البتہ خواتین کے لئے عدالتوں کے دروازے مزید کھل گئے۔ پھر نان و نفقہ سے متعلق مقدمات کی باڑھ آگئی۔ مختلف عدالتیں ایک کے بعد ایک خلاف شریعت اور پرسنل لا کے خلاف فیصلے دیتی رہیں۔ بورڈ ہاتھ پر ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔ اگر سائرہ بانو، تین طلاق، حلالہ اور تعدد ازدواج کے خلاف سپریم کورٹ نہ آتی تو شاید ہماری آنکھیں بھی نہ کھلتیں۔ غلطیوں کا اعتراف کرنے سے آدمی بڑا بنتا ہے، دوسروں کی طرف فوراً پتھر اچھال کر اور طعن و تشنیع کا سہارا لے کر صرف ذہنی دیوالیہ پن کا ہی اظہار ہوسکتا ہے۔ دلشاد بیگم نامی مطلقہ خاتون نے نان و نفقہ کا مقدمہ کیا۔ سیشن کورٹ نے شوہر کی اس دلیل پر کہ مسلم پرسنل لا کے تحت وہ نان و نفقہ کا مکلف نہیں، مقدمہ خارج کردیا۔ دلشاد بیگم ممبئی ہائی کورٹ پہنچیں جس نے جنوری 2007 میں اس فیصلہ کو الٹ دیا۔ جسٹس پی ایچ رپلے نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ سابق شوہر نے طلاق کے اسباب، مصالحت کے لئے ثالثوں کا تقرر اور مصالحت میں ناکامی جسے قرآنی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اس لئے عورت نان و نفقہ کی مستحق ہے۔ اس پر کوئی احتجاج نہیں ہوا، نہ ہی چیلنج کیا گیا۔ بعض عدالتوں کی طرف سے لگاتار پرسنل لا مخالف فیصلے آتے رہے۔ ایسا ہی فیصلہ 2001 میں ممبئی ہائی کورٹ اور 2002 میں سپریم کورٹ نے دیا۔ 2جنوری 2003 کو دہلی کے ٹرائل کورٹ نے کہا کہ قرآن نے مخصوص حالت میں ایک سے زائد شادی کی اجازت دی ہے۔ 10 فروری 2015 کو سپریم کورٹ کی دونوں بینچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ تعدد ازدواج اسلام کا لازمی جزو نہیں اور قرآن میں دی گئی اجازت کو قرآن کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ نومبر 2015 میں گجرات ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ بیوی کی رضامندی کے بغیر ایک سے زائد شادی اور یکطرفہ طلاق آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ قرآن ذاتی اغراض، جنسی تسکین کے لئے ایک سے زائد شادی کے خلاف ہے اور مسلمان اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس ناپسندیدہ غلط حرکت کے جواز میں قرآن کی غلط تعبیر و تشریح سے گریز کریں۔ وقفہ وقفہ سے عدالتی فرمودات آتے رہے ہیں، جو بتاتے ہیں کہ شرعی احکامات کے تعلق سے عدالتیں فیصلے دیتی رہی ہیں جو ہمیں غور و فکر اور خود احتسابی کی بھی دعوت دیتے ہیں۔ عدالتیں آخری امید ہوتی ہیں مگر وہ جذبات پر نہیں، مقدمہ کے دوران پیش ثبوتوں، دلیلوں اور ٹھوس دستاویز کی روشنی میں فیصلہ سناتی ہیں، گرچہ یہ تجربہ مایوس کن رہا ہے، اس میں عدالتوں کا قصور ہے یا پیروکاروں کا، یہ اہم سوال ہے، کیونکہ ہم زیادہ تر جنگیں ہارتے آئے ہیں۔ شریعت میں مداخلت کا معاملہ ہو یا بابری مسجد قضیہ کی طویل ترین لڑائی ہم قانونی و عدالتی جنگوں میں شکست کا طویل ترین ریکارڈ رکھتے ہیں۔ بہت سی باتیں صیغہ راز میں ہی اچھی رہتی ہیں ورنہ پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے سے شرمندگی ہوتی ہے۔

دراصل جو لڑائی بورڈ کو اپنے معاشرہ میں چھیڑنی چاہیے تھی وہ اس نے حکومت کے خلاف چھیڑدی اور ماحول لگاتار ٹکرائو والا بنتا جارہا ہے۔ سرکار نے بڑی چالاکی سے طلاق ثلاثہ کو سیاسی مسئلہ بنادیا اور بورڈ اس کھیل میں جانے انجانے میں پھنس گیا۔ شاہ بانو کیس ایک تازیانہ تھا اس سے سبق نہیں لیا گیا۔ اس وقت عائلی قوانین پر توجہ دی گئی ہوتی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن پلان بنایا جاتا تو شاید یہ حالات پیش نہ آتے۔ مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ باتیں صرف کتابیں ہوکر رہ گئی ہیں۔ علماء نے اپنی تقاریر میں عائلی قوانین کی تفہیم کی کوئی ضرورت ہی نہیں سمجھی اور اب جبکہ پانی سر سے اوپر ہوکر گزر رہا ہے، تین طلاق دینے والوں کا سوشل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بورڈ کہیں نہ کہیں محسوس کررہا ہے کہ تین طلاق غیرشرعی اور شیطانی فعل ہے، جیسا کہ مولانا منت اللہ رحمانی نے اپنی ایک کتاب میں صاف طور پر کہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بورڈ از خود کوئی راستہ نکال سکتا ہے یا نہیں۔ عدالتی فیصلہ اگر خلاف آئے گا تو پھر اگلا عملی قدم کیا ہوگا۔ تحریک چلائی جائے گی، شاہ بانو کیس کی طرز پر عوامی احتجاجات کا اہتمام ہوگا اور سرکار کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ کورٹ کے فیصلہ کو پلٹ کر قانون سازی کرے، کیونکہ بورڈ نے حلف نامہ میں کہا ہے کہ قانون سازی کا اختیار عدالت کو نہیں پارلیمنٹ کو ہے۔ کیا ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ حکومت ہمارے جذبات و شریعت کی پابند رہے جبکہ اس کا موڈ اور تیور کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ کیا کچھ لو اور دو کا کوئی فارمولہ سامنے آئے گا؟ کیا ہم ذہنی طور پر ٹکرائو کے لئے تیار ہیں؟ اس سے کس کو سیاسی فائدہ پہنچے گا اور مسلمانوں کو کیا فائدہ اور نقصان ہوگا۔ شریعت کے تحفظ کے لئے جان کی قربانی مانگی جائے گی۔ کیا ملک اور خود مسلمان اس کے لئے متحمل ہیں؟ کیا موجودہ سنگین حالات میں یہ امکان ہے کہ پارلیمنٹ اس طرز پر کوئی بل لائے۔ ایک اور پہلو ہے جس پر صاف جواب دینے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے کسی خاص مسلک کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سنایا اور ایک ساتھ تین طلاق کو ممنوع قرار دیا تو اس فیصلہ کو خلاف شریعت مانا جائے گا یا خلاف مسلک؟ اس وقت کیسا طرز عمل ہونا چاہئے اور فی نفسہٖ طلاق دینے پر ہی پابندی لگادی گئی تب کیا طریقۂ کار اپنایا جائے گا۔ ظاہر ہے ایسے تمام سوالات مفروضات و قیاسات پر ہیں، خدا کرے ایسی صورت حال پیدا نہ ہو اور فیصلہ ہمارے حق میں آئے، لیکن نہ آنے کی صورت میں کیا ہوگا؟ اس پر پیشگی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر سماج کی طرح مسلم سماج پر بھی فرد کی آزادی اور اختیارات کے بے جا استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ مسلم سماج صرف وہی نہیں ہے جو مدرسوں میں زیرتعلیم ہیں یا مدرسہ کا تعلیم یافتہ ہے، وہ لوگ جن کو دین کی ہوا چھوکر بھی نہیں گئی لیکن مسلم سماج کا حصہ ہیں۔ بین مذاہب شادیوں کا رجحان اب یہاں بھی اجنبی نہیں رہا۔ شادی بیاہ میں بے جا اسراف و شاہ خرچی اب علمائے کرام کے یہاں بھی فراخ دلی کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔ جہیز کے لین دین سے کوئی اچھوتا نہیں، اب تو جہیز میں مدرسہ دیے جانے کی خبریں آنے لگی ہیں۔ آخر ان مسائل کو کب ایڈریس کیا جائے گا، صرف حکم نامہ جاری کرنے سے کام نہیں چلنے والا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی اخلاقی حیثیت بھی کمزور ہوتی جارہی ہے، کیونکہ ایسے عناصر کا غلبہ ہوگیا ہے جو سیاسی عزائم رکھتے ہیں۔

طوفان آنے سے قبل کوئی میکانزم تیار کرنے خود احتسابی پر توجہ دینے اور وسیع بنیادیوں پر کم از کم مشترکہ پروگرام کی بے حد ضرورت ہے۔ جو بھی مسلمانوں کے نمائندہ پلیٹ فارم ہیں، خواہ کوئی نام ہو، کسی ملک کے ہوں مگر ان کا اعتبار اور وقار ہے، اہم مقتدرہ شخصیات جو کسی تنظیم یا ادارہ سے وابستہ نہیں، لیکن ملک گیر اثرات رکھتی ہیں کیا اتنی گنجائش بھی نہیں کہ ملت مظلوم کی خاطر عارضی طور پر ہی سہی دو تین بنیادی ایشوز پر ایک ساتھ بیٹھ جائیں، ان کے ٹوٹے حوصلوں کو توانائی دیں اور مورال کو بلند کریں، ملک گیر دورے پر نکل کر ڈھارس بندھائیں، حالات بہت سنگین ہیں اور یہ کسی کو نہیں بخشنے والے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ بات سمجھنے میں بہت دیر ہوجائے۔

qasimsyed2008@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *