یہ سیلاب جنوں اور کیا لے جائے گا؟

یہ سیلاب جنوں اور کیا لے جائے گا؟

قاسم سید

کیا ہم بہت تیزی کے ساتھ ’ نوبھارت نرمان ‘ کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں، کیا ملک کی نظریاتی بنیادوں کے پتھر تبدیل کئے جارہے ہیں، موب لنچنگ یا نام نہاد گؤ رکشکوں کے ذریعہ بے دریغ بے خوف و خطر قانون ہاتھ میں لے کر محض بیف کے شبہ کے بہانے انفرادی قتل کے واقعات کا تسلسل خدانخواستہ ہمیں کسی ممکنہ خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے یا خوف و دہشت کی فضا کے دباؤ میں ضرورت سے زیادہ سوچنا شروع کردیا ہے۔ کیا ساری امیدیں چھوڑ دی جائیں اور اب اصلاح احوال کی گنجائش نہیں بچی۔ مزید یہ کہ موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کی بہتر حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے کہ بغیر ٹکرائو اور تصادم کے خود کو اس طوفان بلاخیز سے ثابت و سالم بچاکر لے جایا جائے۔ مسلم قیادت کے سواد اعظم کی خاموشی نے نئی نسل کو مضطرب و پریشان سا کردیا جائے، اس خلیج کو دور کیسے کیا جائے؟ وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انفرادی قتل کے واقعات جن کے متاثرین کا تعلق اقلیتی فرقہ سے ہے، ان کے صبر و برداشت اور ہمت و جرأت کا ٹسٹ تو نہیں ہے؟ کیا یہ آنے والے وقت میں اجتماعی قتل عام کی ریہرسل تو نہیں؟ کیا مارنے والے اور مرنے والوں کو ذہنی تربیت کے مرحلہ سے گزارا جارہا ہے؟ اخلاق سے لے کر جنید تک لامتناہی سیریز اگر ایسے خدمات اور واہمے پیدا کرتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پانی کہاں تک پہنچ گیا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اب تک صبر و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے اقلیتی فرقہ کو اکسانے کی کوشش ہورہی ہے، اس کے ردّعمل کا انتظار کیا جارہا ہے اور کیا کم و بیش 20 کروڑ کی آبادی کو اس طرح دبایا جاسکتا یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ امرناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد اس بہانے دیدہ و نادیدہ قوتوں نے ملک کی فضا کو جس سمت میں لے جانے کی کوشش کی ہے، ہریانہ کے حصار کا واقعہ اس کا ایک ٹریلر ہے، جس میں مسجد کے سامنے اشتعال انگیز نعرے بازی، مسجد کے امام یا پھر تاجر کے ساتھ بدسلوکی، اسے تھپڑ مارنا، گلی گلوچ کرنا، بھارت ماتا کی جے بولنے کے لئے پرتشدد طریقہ سے مجبور کرنا، ہریانہ سے مسلمانوں کو نکال دینے اور مشتبہ مسلمانوں کو زندہ جلادینے کی دھمکی دینا اس بدلتی ذہنیت کا چیختا چنگھاڑتا نظارہ ہے، جو راشٹر بھکتی کے خوبصورت کور میں لپٹی ہوئی ہے۔ یہ سفاکانہ ذہنیت ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ کشمیر کے بگڑتے حالات اسے سنجیونی بخش رہے ہیں۔ فوج کو مقدس گائے کا اوتار بناکر اس پر انگلی اٹھانے والوں کی تکابوٹی کرنے کا پیغام عام کیا جارہا ہے۔ راجستھان کے وزیر سیاحت کے ایسے نادر مشورے اور ہریانوی وزیر کا حصار واقعہ کو فطری ردّعمل کہہ دینا محض بیان بازی یا سستی شہرت کی ہوس کا اظہار نہیں بلکہ اس کی ذہنیت کو غذا دیا جانا ہے کہ جو ہمارے ساتھ نہیں یا ہمارے موقف کے خلاف ہے وہ دیش دروہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے اس پیغام کو گھر گھر پہنچایا جارہا ہے۔ دیش دروہوں کو پاکستان بھیج دینے، ملک سے نکال دینے کی باتیں دراصل یہ سمجھانے کی کوشش ہے کہ ایسے عناصر ملک کے وفادار نہیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے جس کا پاکستان مستحق ہے۔ جب پاکستانی بولا جاتا ہے تو اس کا وہی مطلب ہوتا ہے جو ہر شخص کو معلوم ہے۔ آنے والے وقت میں یہ آگ اور بھڑکائی جائے گی۔ اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ سیاسی پارٹیاں حواس باختہ ہیں، ان کی چولیں ہلادیں گئی ہیں۔ پے درپے شکستوں نے فکری دیوالیہ پن کی شکار ان پارٹیوں سے سوچنے سمجھنے کی قوت چھین لی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ 2019 میں یہ مضبوط چیلنج پیش کرنے کی اہل نہیں ہوسکیں گی۔ صدارتی الیکشن اور جی ایس ٹی پر ان کا سرپھٹول سامنے ہے۔

یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد جو پارٹیاں ملک پر قابض رہیں وہ خالص سیکولر اقدار اور آئین کی پاسداری کرنے والی تھیں، ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں تھا، انھوں نے ملک کی جڑوں کو مضبوط کرنے، سیکولر جمہوری قدروں کو پروان چڑھانے اور قومی یکجہتی کی روح کو طاقت دینے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے ہوں گے تو کیا یہ باندھ اتنے کمزور ثابت ہورہے ہیں کہ تین سال کی بارش کا زور برداشت کرنے میں ناکام ہیں؟ کیا مودی کی تین سال کی محنت 67 سالوں پر بھاری پڑرہی ہے؟ آخر کیوں اتنی مختصر مدت میں سیکولرازم، جمہوریت، آئین، اظہار رائے کی آزادی سب کچھ خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔ اس کا مطلب یہ کیوں نہ لیا جائے کہ صرف ہاتھ تبدیل ہوئے، مگر فکر اور ذہنیت یکساں تھی۔ طریقہ کار کا فرق تھا ورنہ تمام پارٹیاں بنیادی طور پر ہندوتو کی پرورش کرتی رہیں۔ کسی نے سافٹ ہندوتو کی حکمت عملی اپنائی تو کوئی ہارڈ ہندوتو کے راستے پر چلتا رہا۔ کانگریس ایسی ندی تھی جس میں سارے نظریاتی تالابوں کے لئے قبولیت کا مادہ تھا۔ اگر ان پارٹیوں میں واقعی نظریاتی فرق ہوتا تو بے شرمی کے ساتھ پارٹیاں بدلنے والے نظریاتی خلیج کو کیسے پاٹ لیتے۔ کانگریس کا لیڈر بی جے پی میں اور آر ایس ایس کا تربیت یافتہ کانگریس میں کیسے ایڈجسٹ ہوجاتا۔ شنکر سنگھ واگھیلا اور سنجے نروپم اچانک سیکولر ہوجاتے ہیں اور ریتا بہوگنا اور اترپردیش میں ایک دن کا وزیر اعلیٰ بننے کا شرف حاصل کرنے والے جگدمبیکا پال بی جے پی کا دامن تھام لیتے ہیں۔ جن کی زندگی سیکولرازم کی مالا جپنے میں گزر گئی، ساکشی مہاراج کو سماج وادی پارٹی راجیہ سبھا پہنچاتی ہے اور کلیان سنگھ کے ساتھ انتخابی سمجھوتہ کرلیتی ہے، جو بابری مسجد انہدام کے جرم میں سپریم کورٹ سے سزایافتہ ہیں۔ کسی حد تک لیفٹ کو چھوڑکر سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ آج ملک کے جو بھی حالات ہیں، یہ سب ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے ہندوتو فورسز کی نگہبانی کی، آر ایس ایس بھلے ہی ایک تنظیم ہے مگر یہ ایک ذہنیت اور فکر کا نام ہے، جس کے ترجمان ہر پارٹی میں موجود ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں۔ آخر جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی نہرو کابینہ میں اہم وزیر تھے۔ نرسمہا رائو کا پورا کردار سامنے ہے۔ وی پی سنگھ نے بی جے پی کی حمایت سے سرکار چلائی۔ جنتا پارٹی کے تخم میں بی جے پی موجود تھی، اس وقت وہ کسی اور نام سے تھی۔

سیکولر پارٹیاں ہماری سیاسی مجبوری تھیں اور ہیں، کیونکہ ان کے بغیر چل نہیں سکتے۔ ہم ان کی مجبوری تھے، مگر ان کی طرف سے یہ مجبوری کسی حد تک ختم ہوگئی ہے۔ مسلم مسائل کو اٹھانے کے بارے میں وہ بہت حساس اور الرٹ ہوگئی ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ منھ بھرائی کے الزام نے انھیں کمزور کردیا ہے، جبکہ یہ سراسر جھوٹ فریب ہے۔ ایک ہزار سال حکمرانی کے نشہ میں گزارنے والا طبقہ ملک کی تقسیم اور 60 سال کی آزادی میں سب سے نچلی سطح پر پہنچادیا گیا، لیکن اب اس کے وجود، مذہبی تشخص کو چیلنج درپیش ہے۔ اس کی زندگی، جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ آنے والے وقت میں سول سوسائٹی ہی واحد امید کا مرکز ہے، جو آج بھی بے خوف و خطر ’’ ناٹ از مائی نام ‘‘ سے باہر نکلتی ہے اور بڑھتے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت رکھتی ہے۔ جن آوازوں میں جان ہے، خواہ وہ بہار میں ہو یا مغربی بنگال میں ان کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ نتیش کمار جیسے لیڈر اپنی سودھا کے حساب سے سفر طے کرتے ہیں۔ وہ 17 سال بی جے پی کے ساتھ رہے، آگے بھی رہ سکتے ہیں۔ ہمارا دل بہت بڑا ہے، ہر کسی کو معاف کرنے اور اس کے گناہوں کو بھلانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ مولانا آزاد ہمارا ’سیاسی شدھی کرن‘ کرگئے تھے۔ انھوں نے تاکید کی تھی کہ مسلمان الگ سے کوئی سیاسی پارٹی نہ بنائیں، بلکہ کانگریس کو ہی اپنا ملجا و ماویٰ سمجھیں۔ یہ تاکید ایسی پتھر کی لکیر بن گئی کہ مسلمانوں نے کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائی، اگر بنائی بھی تو کسی کی بی ٹیم بن گئی یا بارہویں کھلاڑی کی طرح ’تولیہ‘ اٹھانے کا کام ضرور کرتی رہی اور مسلمانوں نے بھی لائق اعتبار و توجہ نہیں سمجھا اور مولانا آزاد کی وصیت کو حرز جاں بنالیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر موجودہ حالات میں جبکہ گائوں گائوں کشیدگی کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے، ہندو افتخار کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہماری توقعات کے برعکس مودی کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے۔ ملک کے ہر اہم عہدہ پر بی جے پی قابض ہورہی ہے، زیادہ تر ریاستوں میں اقتدار ہے۔ فی الحال رخصتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور مسلمانوں میں خوف و ہراسانی کے ساتھ اضطراب ہے۔

تو کیا اس کا علاج صرف کانفرنسیں اور بیانات ہیں؟ کیا کانفرنس سے کبھی کوئی علاج ہوا ہے؟ کبھی ان کا فالواپ بھی ہوا ہے؟ ہم آج بھی منھ ٹیڑھے کئے بیٹھے ہیں۔ ہر کوئی فرماتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ کہیں بھی بیٹھنے کو تیار ہے، مگر اس کے باوجود جب مل بیٹھنے کی باتیں ہوتی ہیں تو سب کی مصروفیات، شرعی عذرات نکل آتے ہیں۔ یہ آنکھیں ایسا منظر دیکھنے کو ترس گئی ہیں جب ملت کے سربراہان بے کس و بے بس ماحول کو جرأت و عظیمت میں بدلنے کے لئے ایک چھت کے نیچے نظر آئیں۔ کوئی جماعتی حصار سے نکلنے کو تیار نہیں تو کوئی مسلکی بندشیں توڑنے میں بے عزتی سمجھتا ہے۔ کسی کے پاس وسائل نہیں تو کوئی اپنے وسائل میں دوسرے کو شریک کرنا نہیں چاہتا۔ نفسانفسی اور تحفظات نے ملت کا بھرکس نکال دیا ہے۔ اب تو پانی ناک تک آگیا ہے، سیلاب جنوں اور نہ جانے کیا کیا بہا لے جائے گا۔ طوفان نوح نے کسی کو نہیں بخشا۔ جب آفت آتی ہے تو متقی عابد پرہیزگار بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ ہندو افتخار کی متعدی بیماری نے جو جنون، دیوانگی اور دہشت پیدا کی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک چھت کے نیچے آنا ہوگا، ورنہ قصائی کی چھری دربہ میں موجود کسی مرغی کو نہیں بخشے گی۔ نہ مسلک، نہ جماعتیں، نہ ادارے، نہ ٹرسٹ، کچھ نہیں بچے گا۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے اور مشاورت میں ہی عافیت ہے۔ یہ قرآنی راستہ ہے۔ جب بھی اس سے روگردانی کی گئی عذاب مسلط کردیے گئے۔ یہ وقت نفس کی قربانی کا ہے، وسائل کو مجتمع کرنے کا ہے۔ ورنہ کرتے رہیے کانفرنسیں، کون سنتا ہے، دیتے رہیے اردو اخبارات میں بیانات، کون نوٹس لیتا ہے۔

qasimsyed2008@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *