نہ تم جیتے نہ ہم ہارے

نہ تم جیتے نہ ہم ہارے

قاسم سید

سیاست کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس سینہ میں دل نہیں ہوتا وہ بے رحم‘ سنگدل‘مفاد پرست‘خودغرض ہوتی ہے۔ اپنے قول وفعل میں تضاد پر شرماتی نہیں اگر انسانی اقدار اور روایات اس کی روح سے نکل جائیں تو حیوانیت و درندگی کا جامہ پہن لیتی ہے ۔ بے شرم وحیا بن جاتی ہے یہ اس صور ت میں ہوتا ہے جب اس کا واحد مقصد اقتدار ہو‘خدمت نہیں۔بے وفائی وہرجائی پن اس کی سرشت میں داخل ہے۔ جذبہ وفاداری خال خال ہی ملتا ہے جس طرح بھیڑئیے کے بارے میں مشہور ہے کہ اسے بھوک لگتی ہے تو وہ اپنا پرایا نہیں دیکھتا‘ اگر سامنے اس کی نسل موجود ہوتو اسے بھی چیرپھاڑ کر کھاجاتا ہے کیونکہ اس کی پہلی اور آخری ترجیح پیٹ بھرنا ہے اسی طرح جب سیاست داں کی پہلی اور آخری ترجیح اقتداربن جائے تو شرافت‘انسانیت ‘روایات‘ اقدار‘ وعدے‘ دعوے ‘بقدرِ پیمانہ تخیل بھی نہیں رہتےانہیں روند کر جاتی ہوئی لیلائے اقتدار کا پلوتھام کر بے حیائی کی سارے حدیں پار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا‘جہاں تک ہندوستانی سیاست کا تعلق ہے وہ فرقہ واریت اور سیکولرازم کے کھلونوں سے کھیلنے کی عادی ہے۔ جب جی چاہا من پسند کھلونا اٹھالیا جی بھر گیا تو دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھادیا اس کے جواز کے لئے اس کے پاس ہزاروں دلائل ہوتے ہیں اور دلائل بیان کرتے وقت آنکھوں میں شرم کاپانی نظر نہیں آتا۔ خاص طور سے سیکولر ازم ایک میمنہ ہے جو کبھی گود میں تو کبھی دانتوں کے درمیان ہوتا ہے کب کوئی سیکولرازم کا جاپ کرتے چین کی طرح فرقہ واریت کے ڈوکلام میں داخل ہوجاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا اور کب کوئی فرقہ واریت کے شہر میں زندگی گزارتے سیکولرازم کی سرائے میں پناہ لینے آجاتا ہے اس کا احساس بھی نہیں ہوپاتا۔ یہ دو قبیلے آزادی کے بعد سے ہی نہ صرف ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے آرہے ہیں بلکہ عوام کے ساتھ بھی سنگین مذاق کر رہے ہیں۔ خاص طور سے سیکولر قبیلہ اقلیتوں اور دلتوں کو بکری کی طرح استعمال کرتا آیا ہے جو شیر کا شکار کرنے کے لئے مچان کے نیچے باندھی جاتی ہے اس کی تازہ ترین مثال ہم سب کے محبوب اپوزیشن اتحاد کے علمبردار‘ سنگھ مکت بھارت بنانے کا عزم دکھانے والے نتیش کمار جی ہیں جو نہ جانے کب سے آشیانہ بدلنے کے لئے پرتول رہے تھے اوران کی بے قراری رہ رہ کر سامنے آتی تھی ایک کمزور بہانے کی آڑ لے کر راتوں رات شب خون مارااور پھر وہیں چلے گئے تھے جہاں کے لئے ان کی روح تڑپ رہی تھی۔ انہیں وزیراعظم اور بی جے پی نے اس طرح سینہ لگایا جیسے کسی ماں کو اس کا میلہ میں کھویا ہوا بیٹا مل گیا ہو۔ جے بھیم کرتے کرتے وہ جے شری رام کہنے لگے۔ سنگھ مکت بھارت کی تعبیر کو سنگھ یکت بھارت میں ڈھونڈیں گے۔ انہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ دو سال قبل بہار کے عوام سے جن طاقتوں کا ڈر دکھاکرووٹ مانگا تھا ان کے اعتماد کا خون ہوسکتا ہے۔ یہ سراسر وعدہ شکنی ہی نہیں فریب اور اعتماد شکنی ہے۔ ان کے جذبات سے کھلواڑ ہے۔ ظاہر ہے ایک ایماندار سیاستداں کسی بدعنوان سے سمجھوتہ کیسے کرسکتا ہے۔ حالانکہ یہ کہتے وقت بھول جاتے ہیں نیا گٹھ بندھن میں وہ شخص شامل تھا جو سزا یافتہ ہے اور اس پر بدعنوانی کے سنگین مقدمات چل رہے تھے یہ گڑ کھاکر گلگلوں سے پرہیز کرنے والی بات بھی کہی جاسکتی ہے۔

نتیش کمار ایک اچھے شریف انسان ہوسکتے ہیں وہ عملا بے داغ شبیہ کے ایماندار سیاست داں بھی کہے جاسکتے ہیں مگر نظریاتی طور پر وہ کرپٹ اور دیوالیہ ہیں وہ نہ بی جے پی کے لئے مخلص رہے اور نہ ہی اب لالو پرساد یا مہا گٹھ بندھن کے لئے وہ جن بنیادوں پر بی جے پی سے الگ ہوئے تھے جن خدشات نے انہیں سترہ سال کی رفاقت توڑنے پر مجبور کیا تھا اور جس الارم نے راستہ بدلنے پر مجبور کیا تھا اگر وہ سب حقیقی نہیں تھے تو وہ خطرات اور خدشات پہلے سے زیادہ سنگین اور تباہ کن انجام کے ساتھ شراروں سے شعلوں میں بدل چکے ہیں۔ انہوں نے مودی کو پی ایم امیدوار بنانے کے ساتھ ہی این ڈی اے سے رشتہ منقطع کیا تھا مودی کے ہیئت قلب میں بظاہر تو کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے جن خدشات وخطرات کو ڈھال بنا کر جن توقعات کی بنیاد پر این ڈی اے سے نجات حاصل کی تھی کیا وہ پوری نہیں ہو رہی تھیں یا انہوں نے اپنا گول بدل دیا۔ کیا وہ وزیراعظم بننے سے متعلق مایوس ہوگئے اور ان کی ترجیحات تبدیل ہونے کے ساتھ ہی قبلہ وکعبہ بدلنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیا سیکولر مورچہ کے ساتھ رہنے سے ان کی آرزوئوں کو آسودگی حاصل نہیں ہو رہی تھی کہ وہ جائیں ادھر کو ہوا تھی جدھر کی کے لئے مجبور ہوگئے۔

دراصل جس طرح سے حالات نے کروٹ لی اور آنا فانا سب کچھ ہوتاچلا گیا اس سے یہ اندازہ لگانا قطعاً غلط نہیں ہے کہ پورا اسکرپٹ پہلے سے تیار تھا‘ ساری منصوبہ بندی کے ایک ایک نکتہ پر ریہرسل کرلی گئی تھی اور بابری مسجد انہدام کی طرح نتیش کا فیصلہ بھی اچانک نہیں تھا۔ اس کا تیجسوی معاملہ سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔ یہ کمزور سابہانہ ہے جو کسی معقول انسان کے گلے نہیں اترسکتا۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ استعفیٰ کے محض کچھ لمحہ کے بعد بی جے پی ہائی کمان آگے کے حالات پر غور کرنے کے لئے سہ رکنی کمیٹی بناتی ہے تھوڑی دیر بعدخبر آتی ہے کہ پٹنہ میں بی جے پی ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں نتیش کمار کی حمایت کا فیصلہ کرلیاگیا۔یہ ممبران پھر نتیش کے گھر پر پہنچ جاتے ہیں اور انہیں این ڈی اے کا لیڈر چن لیتے ہیں پھر رات کو ہی گورنر سے مل کر حکومت سازی کا دعویٰ کردیاجاتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ تک گورنر سے صلاح ومشورہ ہوتا ہے۔رات کے ڈیڑھ بجے وہاں سے واپسی ہوتی ہے اور سشیل کمار مودی ڈپٹی سی ایم بنادئیے جاتے ہیں۔ حلف برداری کا وقت جو شام پانچ بجے تھا وہ اچانک ہی صبح 10بجے کا ہوجاتا ہے اور آر جے ڈی کو گورنر گیارہ بجے ملنے کا وقت دیتے ہیں۔ آخر نتیش کمار کو جلدی کیاتھی انہیں کس بات کا اندیشہ تھا اور ہے جو انہوں نے بغیر تاخیر بی جے پی سے سیاسی شادی کا اعلان کردیا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے کسی سی ایم کو مستعفی ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ یہ جو ش ومحبت یہ بے قراری بے تابی اور محبت کی لہریں اندرون دریا کب سے ساحل اظہار پر سرپٹکنے کے لئے بے تاب تھیں بس مناسب موقع کا انتظار تھا۔ آگ تو دونوں طرف لگی تھی اور وہ تیر جو رقابت میں بی جے پی کی آئیڈیا لوجی پر چلائےجاتے ہیں ان کار خ دوسری طرف موڑدیا گیاہے۔ اب دیش کو تباہی کی طرف لےجانے والی پارٹی یقینی طور پرراشٹر بھکت اور دیش پریمی بتائی جائے گی۔ مہاگٹھ بندھن میں سوکیڑے نکالے جائیں گےاور ایک دوسرے کے خلاف دل کی بھڑاس باہر نکلے گی۔ کل تک جو بی جے پی کو چمٹے سے چھونے کو بھی پاپ سمجھتے تھے اب اسے آغوش میں دبائے دلار دکھاتے نظرآئیں گے۔ یہ ہے ہندوستانی سیاست کا مکروہ چہرہ۔ ڈھونگی فرقہ پرست اور ڈھونگی سیکولر کا اصلی چہرہ جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے اور شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کرکے آنے والے طوفان کے گذرجانے کا خواب دیکھتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ لالو دوھ کے دھلے ہیں ۔ انہوں نے سیاسی پاپ نہیں کئے ہیں‘ان کا پورا خاندان بظاہر بدعنوانی کےحمام میں ننگا لگ رہا ہے۔سب پر بے نامی جائیداد رکھنے کا الزام ہے اور تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ اگر لالو نے سنگین غلطیاں نہ کی ہوتیں توعوام انہیں سیاسی بنواس پر نہ بھیجتے۔ انہوں نے بہار کے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا اور پنا گھر بھرتے رہے ۔ اس کی سزا بھی ملی مگر لالو کی تمام تر بدعنوانیوں‘بدنامیوں اور اقربا پروری کے باجود ایک بات جو لالو کے حق میں جاتی ہے اور انہیں ہندوستان کے دیگر سیاست دانوں نےممتاز کرتی ہے وہ سیکولر اقدار کے ساتھ ان کا عہد وفاداری ہے جس پر ہلکا سا بھی داغ نہیں ہے وہ ملک کے اکلوتے ایسے سیاست داں ہیں جنہوں نے کبھی فرقہ پرست کہی جانے والی قوتوںسے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے ساتھ رفاقت کی راست یا بالواسطہ کی کوشش نہیں کی شاید ان کی یہی غلطی موجودہ آزمائشوں کا ایک سبب ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف نتیش کمار نے بھلے ہی بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکاربنالی ان کی ایماندارانہ شبیہ کو اور جلا مل گئی اور داغ اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گامگر اپنا اعتبار کھونے کی سمت میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں۔

یہ خسارہ بہت بڑا ہے جو لوگ ان پر اعتبار کر نے لگے تھے وہ خود کویقینا ٹھگا سا محسوس کرنے لگے ہوں گے۔ حالانکہ غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو اس میں کچھ غلط بھی نہیں جب سیاست صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کا نام ہے اور ساراکھیل اقتدار کا ہے تواس میں اصول ونظریہ کی جگہ کہاں رہ جاتی ہے ۔ دراصل ہم نے سیکولرازم کو ایمان کا جزولاینفک بنالیا ہے اور جو اس کی صدا لگاتا ہے اس کی طرف لپک پڑتے ہیں یہ سادہ لوحی یا حماقت ہمیں لگاتار محرومیوں کی طرف دھکیل رہی ہے جس سے دل لگاتے ہیں وہ تھوڑی دور چل کر دغا دے جاتا ہے اور ہم پھر کس راہرو کو ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔ سیکولرازم ان کے لئے ضرورت ہے اور ہمارے لئے عقیدت ‘ان کے لئے کھلونا ہے ہمارے لئے وہ واحد راہ نجات ‘یہ حکمت عملی کی غلطی ہے ملک کی 14فیصد آبادی گھڑی کے پنڈولم کی طرح ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہے۔ اسے قرار نہیں۔ کوئی جائے پناہ نہیں ۔ سوال کسی کے دھوکہ دینے کا نہیں دھوکہ کھانے کا ہے۔ نتیش کمار تو ایک علامت ہیں یہاں تو قدم قدم پر ایسے نتیش کمار ہیں۔ ان پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ واقعہ یا ایسے واقعات دل شکنی کاباعث بن سکتے ہیں لیکن جو سیکولرازم اور فرقہ واریت کے ڈھکوسلوں سے واقف ہیں ان کے لئے یہ تفریح طبع کاسامان ہیں۔2019سامنے کھڑا ہے اور بظاہر مودی کے سامنے کوئی بھی نہیں ہے۔ بہار جو مضبوط چٹان کی طرح تھانتمستک ہوگیا۔ دیکھنا ہے کہ عام انتخابات تک اور کون کون سجدہ سہو کرتاہے ۔ سیکولرازم جارح ہندوتو کے آگے عصائے سلیمانی لگ رہاہے کیا پتہ قدرت نے کچھ اور سوچ رکھا ہو کیونکہ ہم نے اپنے حصہ کا کام بھی قدرت کو سونپ رکھا ہے۔

qasimsyed2008@gmail.com

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *