طلاق ثلاثہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سینئر وکلا ئ،اسلامی اسکالرس اور دانشوران کی خصوصی نشست، بورڈ سے کچھ اہم اور ضروری گزارشات

طلاق ثلاثہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سینئر وکلا ئ،اسلامی اسکالرس اور دانشوران کی خصوصی نشست، بورڈ سے کچھ اہم اور ضروری گزارشات

مسلمانوں اور آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کو عدلیہ میں نظر ثانی کیلئے جاناچاہئے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے منہ پر تھپڑ ہے اور یہ کہاگیا ہے کہ تمہاری شریعت کا فیصلہ اب ہم کریں گے ،یہ واضح طور مسلم پرسنل لاءمیں مداخلت ہے ،اور مکمل طور پر سیاسی فیصلہ ہے ،سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کا فیصلہ اس لائق نہیں ہے کہ اس کا استقبال کیا جائے ،ا اگر آج نے ہم نے یہ فیصلہ قبول کرلیا تو کل ہوکر ایک اور دوسرا فیصلہ آجائے گا کیوں کہ یہ سمجھ لیں گے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیا ہے اور پھر ہندوستان کو اندلس بننے میں وقت نہیں لگے گا۔ایڈوکیٹ محمود پراچہ

نئی دہلی(ملت ٹائمزپریس ریلیز)
طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے سلسلے میں آج انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک مباحثہ کا انعقاد کیا گیا،اس مباحثہ میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سینئر وکلائ،متعدد یونیورسٹیز کے پروفیسران ،اسلامی اسکالرس اور دانشوران حضرات نے شرکت اور تقریبا شرکاءکی اکثریت نے یہ کہاکہ سپریم کور ٹ کا حالیہ فیصلہ چوردراوزے سے اسلام میں مداخلت کوشش ہے اور یکساں سول کوڈ لانے کی راہ ہموار کرناہے ،تقریب کے صدر جناب افضل وانی پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مباحثہ کا مقصد بتاتے ہوئے کہاکہ اس مباحثہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد مسلمان کیا چاہتے ہیں ،اس فیصلہ کو قبول کرنا چاہتے ہیں یا اس کو مسترد کرنا چاہتے ہیں اس پر ایک مباحثہ کیا جائے ،انہوں نے بتایاکہ یہ مباحثہ آج اس لئے یہاں رکھاگیاہے کہ کل 10 ستمبر کو بھوپال میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی میٹنگ ہورہی ہے جس میں سپریم کور ٹ کے فیصلہ پر لائحہ عمل طے کیا جائے گا ایسے میں یہ مباحثہ بورڈ کیلئے کوئی فیصلہ لینے میں معاون ثابت ہوگا،انہوں نے بتایاکہ اس مباحثہ میں جو بات آئی ہے اس بے بورڈ کے ذمہ داران تک پہونچائے جائے گی تاکہ وہ میٹنگ میں اس کو بھی سامنے رکھیں۔انہوں نے اپنے صدارتی خطا ب میں کہاکہ جب کسی کو کسی پر اپنا نظام تھوپنا ہوتاہے تو پہلے اس کو اس کے اپنے نظام کے تئیں بد ظن کیا جاتاہے اور یہ ذہن نشیں کرایاجاتاہے کہ تمہارا نظام اب قابل عمل نہیں رہ سکاہے ،انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں یہی ہورہاہے ،مسلمانوں کو یہ ذہن نشیں کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام کانظام اب فرسودہ ہوچکاہے ،اسے بدلنے کی ضرورت ہے اور تین طلاق پر آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے،سینئر ایڈوکیٹ محمود پراچہ نے صاف موقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں اور آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کو عدلیہ میں نظر ثانی کیلئے جاناچاہئے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے منہ پر تھپڑ ہے اور یہ کہاگیا ہے کہ تمہاری شریعت کا فیصلہ اب ہم کریں گے ،یہ واضح طور مسلم پرسنل لاءمیں مداخلت ہے ،اور مکمل طور پر سیاسی فیصلہ ہے ،سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کا فیصلہ اس لائق نہیں ہے کہ اس کا استقبال کیا جائے ،انہوں نے کہاکہ اگر آج نے ہم نے یہ فیصلہ قبول کرلیا تو کل ہوکر ایک اور دوسرا فیصلہ آجائے گا کیوں کہ یہ سمجھ لیں گے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیا ہے اور پھر ہندوستان کو اندلس بننے میں وقت نہیں لگے گا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے پروفیسر عرشی خان نے محمود پراچہ کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ یہ فیصلہ نہ قابل عمل ہے اورنہ قابل اطمینان ہے ،نظر ثانی کی اپیل دائرکرکے آخری حدتک لڑنی چاہیئے ،ہتھیا ر ڈالنا بہت بڑی غلطی ہوگی ۔
مرکزی جمعیت اہلحدیث کے جنرل سکریٹری مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے کہاکہ یہ مسلم پرسنل لاءمیں مداخلت ہے اور یکساں سول کوڈلانے کی راہ ہموار ہورہی ہے ،انہوںنے یہ بھی کہاکہ اس فیصلے سے اہل حدیث مسلک کے لوگوں کو ہر گزخوش نہیں ہونا چاہیئے ،انہوںنے سپریم کورٹ کے فیصلہ کیلئے کسی حدتک مسلم پرسنل لاءبورڈ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا اور کہاکہ اگر حلف نامہ میں صراحت ہوتی ہے کہ ان کے یہاں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تین طلاق ایک ہی مانی جاتی ہے تو پھر عدلیہ کہتی کہ ان کے یہاں پہلے سے گنجائش ہے ،انہوں نے احمد بخاری کی باتوں سے بھی اتفاق کیا ۔معروف ایڈوکیٹ مشتاق احمد نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ یہ فیصلہ مکمل طورپر سیاسی ہے ،جان بوجھ کر اسے ایشوبنایاگیا ہے تاہم مسلمانوں کو نظر ثانی کی اپیل نہیں کرنی چاہیئے اور زمینی سطح پر جاکر یہ بتانا چاہیئے کہ اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیاہے اس لئے ہم طلاق بدعت دینے سے رکیں ،علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے پروفیسر شکیل صمدانی ،پروفیسر وسیم احمد اور معروف ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کو نظر ثانی کی اپیل نہیں کرنی چاہیئے ،پروفیسر صمدانی نے یہ بھی کہاکہ بورڈ طلاق بدعت دینے والوں کیلئے سزا تجویز کرے۔

مولانا عبد الحمید نعمانی نے اپنی تقریر میں کہاکہ آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کو چاہئے کہ عدلیہ اور حکومت سے تین طلاق دینے والوں کے سلسلے میں قانون بنانے اور سزا تجویز کرنے کا مطالبہ کرے اور مسودہ خود مسلمان تیار کریں ،انہوں نے یہ بھی کہاکہ جب تمام جرائم کے وقوع کو تسلیم کیا جاتاہے تو پھر طلاق ثلاثہ کے حرام ہونے کے باوجود اس کے وقوع کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتاہے ؟۔ خلیل اللہ مسجدبٹلہ ہاﺅس کے امام اور آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن مولانا یعقوب نے کہاکہ یہ فیصلہ شریعت کے خلاف ہے ،سپریم کورٹ ہو یاعالمی عدالت کسی کے بھی فیصلہ سے طلاق کا وقوع نہیں رک سکتاہے ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر محترمہ حسینہ حاشیہ نے کہاکہ جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے خواتین کو اہمیت نہیں دی تو مجبورا کچھ خواتین بی جے پی کے یہاں چلی گئی اور بھر بی جے پی کا ایک وویمن ونگ خواتین مسلم پرسنل لاءبورڈ کے نام سے بنااور یوپی میں اکثریت سے جیتنے کے بعد اس ایشو چھیڑا گیا جس کی منصوبہ بندی بہت پہلے کی گئی تھی، تاہم یہ شریعت میں مداخلت ہے ۔فاطمہ مہر نے کہاکہ تین طلاق کا درد سب سے زیادہ وہ خواتین جھیلتی ہیں جو جاہل فیملی ہیں ان کیلئے کوئی حل نکلنا چاہیئے ،نشا ءرحمن نے کہاکہ یکبارگی تین طلاق خواتین کے حق میں بہت اہم ہے،پریشان حال فیملی اس سے نجات پاتی ہے ۔ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے کہاکہ ایک ہندوخاتون جائیداد کے کیس میں ہائی کورٹ میں اپنے بھائی کے خلاف جیت گئی تھی لیکن سپریم کورٹ میں اسے پلٹ دیا گیا اور کہاگیا کہ مسلمانوں میں بھی ایسے غیر منصفانہ امور پائے جاتے ہیں ، جس سے مطلب واضح ہے کہ عورتوں کے نام پر اسلام کو نشانہ بنایاگیاہے ،انہوں نے یہ بھی کہاکہ سائرہ بانو کیس میں شوہر نے ازدواجی زندگی بحال کرنے کیلئے عدلیہ میں درخواست دی تھی لیکن بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی،انہوں نے ایڈوکیٹ محمود پراچہ کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست عدلیہ میں دائر ہونی چاہیئے اور عورتوں کو محض بے وقوف بنایاگیاہے۔مولانا اشرف الکوثر مصباحی نے کہاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے ،بی جے پی حکومت ایک سازش کے تحت یہ سب کررہی ہے ،ہمیں مسلک سے اوپر اٹھ کر تمام مسلمانوں کیلئے سوچناہے ،مباحثہ میں مولانا ظفر الدین برکاتی نے کہاکہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے او رکسی کور ٹ کے روک دینے سے طلاق کا وقوع نہیں رک سکتاہے ۔پروفیسر خواجہ عبد المنتقم نے کہاکہ جذباتیت کے دائرے سے نکل مسلمانوں کے مفاد کیلئے سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ایڈوکیٹ اطہر علی نے کہاکہ مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے وہ نظر ثانی کیلئے اپیل نہ دائر کیں ۔
اس مباحثہ میں اور بھی لوگوں نے شرکت کی اور اپنے خیالات اظہار کیا جس میں مولانا خالدحسین ندوی ، صحافی صفی اختر ،حامد خان،عطاﺅ الرحمن ،انیس اسلم ،مفتی صدر حسین ،انیس اسلم ،ایڈوکیٹ تاجدار صدیقی،مفتی حبیب اللہ نعمانی ،اقبال احمد ،مفتی عبد اللہ طارق، نوراللہ ،سہیل عابدین، محمد وسیم ،محمد اظہر ،منصور عالم وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں ۔
واضح رہے کہ آئی او ایس نے مباحثہ میں آئی تجاویز کی کا پیاں آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے صدر۔سکریٹری اور دیگر ذمہ داروں کو بھیج دی ہے تاکہ آج 10 ستمبر کو بھوپا ل میں ہونے والی میٹنگ میں وہ ان امور کو بھی پیش نظر رکھیں ۔

 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *