میانمار میں صرف ایک ماہ میں 7 ہزار مسلمانوں کا قتل عام ،ثبوت مٹانے کیلئے لاشوں کو نذر آتش کیا گیا یا پھر دریاﺅں میں بہادیا گیا

میانمار میں صرف ایک ماہ میں 7 ہزار مسلمانوں کا قتل عام ،ثبوت مٹانے کیلئے لاشوں کو نذر آتش کیا گیا یا پھر دریاﺅں میں بہادیا گیا

ینگون(ملت ٹائمزایجنسیاں)
میانمار کے صوبہ راکھین میں ایک ماہ کے دوران 7ہزار کے قریب مسلمانوں کا قتل اب تک ہوچکاہے ،راکھین روہینگیا نیشنل آرگنائزیشن کے سربراہ نوری اسلام نے کہا ہے کہ راکھین میں 7 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے۔نوری اسلام کا کہنا ہے کہ قتل عام کی پردہ پوشی کرنے کے لئے قتل کئے جانے والے مظلوموں کو جلا کر یا پھر دریاوں میں بہا کر قتل عام کے نشانات مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا انفارمیشن سوسائٹی کی طرف سے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق اسلام نے انٹرنیشنل میڈیا انفارمیشن سوسائٹی کے سربراہ آسلان دیمیرجی اور نائب سربراہ احمد آچی کائے کے ساتھ ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ صرف فوجی ہی نہیں اب متعصب بدھسٹ بھی قتل عام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تقریباً تقریباً ہمارے تمام دیہاتوں پر دھاوا بولا اور انہیں جلا کر مسمار کر کے ختم کر دیا ہے۔ لیکن اس سب کے مقابل دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔

نوری اسلام نے کہا کہ مسئلے کے پائیدار حل کے لئے اقوام متحدہ کو ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔انٹرنیشنل میڈیا انفارمیشن سوسائٹی کے سربراہ دیمیرجی نے بھی کہا کہ فوج اور بدھ راہبوں کی زیر قیادت بتدریج شدت پکڑتے حملوں کے خاتمے کے لئے ترکی نے بڑے پیمانے پر جدوجہد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ رخائن کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے ترکی کے 81 اضلاع سے امدادی مہموں کا آغاز کیا گیا ہے۔
دیمیرجی نے کہا ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ نے بھی راکھین کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کیں اور نہ ہی کر سکتا ہے اور ہمارے ذرائع ابلاغ نے رخائن میں بدھسٹ برمی حکومت کی مظالم کو پوری دنیا تک پہنچایا ہے۔
واضح رہے کہ میانمار کی فوج مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف جدوجہد کے بہانے سے رخائن میں شہریوں کے خلاف حملوں میں 25 اگست سے لے کر اب تک ہزاروں مسلمانوں کو ہلاک کر چکی ہے۔
ترک اخبار ٹی آر ٹی نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ترک میڈیا کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ترکی پہلے دن سے ہی اپنے ذرائع ابلاغ، سیاست، فلاحی اداروں اور عوام کے ساتھ ہمارا ساتھ دیتا چلا آ رہا ہے۔ خاص طور پر ترک میڈیا ہماری آواز بن گیا اور درپیش حالات کو صرف ترکی ہی نہیں عالمی رائے عامہ تک پہنچایا۔ اس پر ہم علیحدہ سے ترکی کے شکر گزار ہیں۔

 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *