یہ رسم غلط لیکن ہندوستانی مسلمانوں کی اہم ضرورت

یہ رسم غلط لیکن ہندوستانی مسلمانوں کی اہم ضرورت

محرم کا جلوس اسلام میں رسم بن گیا ہے اس لئے اس کو ختم نہیں کرنا چاہیئے ،تعزیہ بنانے کے بجائے کوئی علامتی چیز بنالی جائے اور اس موقع پر غیر ممنوعہ ہتھیار کے استعمال کی مشق کی جائے ،لاٹھی ،تلوار اور نیزہ کا استعمال سیکھاجائے ،ا اگر آپ محرم الحرام کے جلوس کو ختم کردیں گے ، حکومت کے سامنے یہ واضح کردیں گے کہ یہ ہمارا کوئی تہوار نہیں ہے،ہم اسے نہیں منائیں گے تو یہ پھر ان چیزوں کا رکھنا بھی غیر قانونی ہوجائے گا ، بندوق ،ریوالور اور بم کی طرح لاٹھی وغیرہ کا رکھنا بھی جرم کے دائرے میں آئے گا:مولانا عبد الحمید نعمانی

خبردرخبر(526)
شمس تبریز قاسمی
دسویں محرم الحرام کو جلوس نکالنا، تعزیہ بنانا ،اس کا طواف کرنا،واقعہ کربلاکو یادکرنا اور حضرت حسین کا ماتم منانا بر صغیر میں مسلمانوں کا مذہبی شعاربن گیاہے، اسے اسلامی شعار کا حصہ سمجھاجاتاہے ،لیکن درحقیقت مذہب ،شریعت اور دین سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے ،صدیوں بعد اسلام میں اس خرافات کی ایجاد ہوئی ہے ،کہاجاتاہے کہ تیمورلنگ تعزیہ کا بانی ہے ،مغل بادشاہوں کے توسط سے ہندوستان میں تعزیہ داری کے کلچر کو فروغ ملا اور پھر بلاتفریق پورا ہندوستان تعزیہ داری کی رسم اداکرنے لگا۔شیعہ ۔سنی دونوں نے دسویں محرالحرام کو جلوس نکالنے کا سلسلہ شروع کردیا ،عید الاضحی کے فورا بعد دسویں محرم کے دن جلوس نکالنے کی منصوبہ بندی ہونے لگی تاہم گذشتہ بیس پچیس سالوں کے دوران اس رسم کو ختم کرنے کی کوششیں بھی ہوئی ہیں ،اہل حدیث مسلک کے لوگوں نے اس کو شرک وبدعت قراردیتے ہوئے سرے سے ختم کرنے کامطالبہ کیا ہے،دیوبند یوں نے بھی اسے خلاف شریعت قراردیتے ہوئے سماج اور معاشرہ سے ختم کر نے کی اپیل کی ہے ،بہت سے گاﺅں اور علاقوں میں تعزیہ کو ختم کرنے کیلئے نویں ،دسویں محرم الحرام کو جلسہ کا اہتمام کیا جاتاہے لیکن مرکز میں بی جے پی کی سرکار آنے ،ہجومی دہشت گردی کے واقعات روہنما ہونے اور مسلمانوں کے خلاف ہندوشدت پسندی کے بڑھتے آثار کو دیکھنے کے بعد تعزیہ اور دسویں محرم کے جلوس کو ختم کرنے کی یہ تحریک ایک مرتبہ پھر ماند پڑگئی ہے ،جولوگ اسے ختم کرنے کی مہم چلارہے تھے وہ مسلسل پیش پیش ہیں ، منظم انداز میں جلوس نکال رہے ہیں، لاٹھی اور تلوار کا استعمال کرنا سیکھارہے ہیں ،مسلمانوں سے یہ رسم باقی رکھنے کی اپیل کررہے ہیں اور یہ بتارہے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ بہت اہم ضرورت ہے ۔

کربلا کے جلوس کا ایک منظر

میراپنا خیال تھاکہ تعزیہ داری شرک ہے ،اس دن جلوس نکالنا سرے سے غلط اور اسلام کے خلاف ہے ،حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے غم میں شریک ہونے کا یہ طریقہ مکمل طور پر غیر اسلامی ہے ،اس لئے یہ سب بند ہوجانا چاہیئے، طالب علمی کے زمانے میں اس کا تذکرہ ایک مرتبہ میں نے اپنے استاذ محترم فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی(مہتمم جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی ) کے سامنے کیا تو انہوں نے کہاکہ یہ سب باتیں صحیح ہے لیکن محرم کا یہ جلوس نکلنا چاہیئے ،یہ ہماری ملی اور سماجی ضرورت ہے ،غیر مسلموں پر ہمارے طاقت کا اثر پڑتاہے ،اس سے مسلمانوں کی شوکت اور وقار وابستہ ہے ،اس بہانے ہمارے نوجوانوں لاٹھی اور تلوار کے استعمال کا طریقہ بھی سیکھ لیتے ہیں ۔
گذشتہ شب اچانک ایک ملاقات نظام الدین دہلی میں واقع روزنامہ خبریں کی آفس میں مشہور عالم دین مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب سے ہوگئی ،میرے ساتھ مولانا حفظ الرحمن قاسمی اور فیصل نذیر بھی تھی ۔ملاقات کے دوران گفتگو طویل ہوگئی اور مولانانعمانی کی معلوماتی باتوں سے ہم سب دیرتک مستفید ہوتے رہے ،اسی دوران بات تعزیہ اورمحرم کے جلوس پر آگئی۔انتہائی بصیرت کے ساتھ مولانا نعمانی نے بتایاکہ محرم کا جلوس اسلام میں رسم بن گیا ہے اس لئے اس کو ختم نہیں کرنا چاہیئے ،تعزیہ بنانے کے بجائے کوئی علامتی چیز بنالی جائے اور اس موقع پر غیر ممنوعہ ہتھیار کے استعمال کی مشق کی جائے ،لاٹھی ،تلوار اور نیزہ کا استعمال سیکھاجائے ،انہوں نے کہاکہ اگر آپ محرم الحرام کے جلوس کو ختم کردیں گے ، حکومت کے سامنے یہ واضح کردیں گے کہ یہ ہمارا کوئی تہوار نہیں ہے،ہم اسے نہیں منائیں گے تو یہ پھر ان چیزوں کا رکھنا بھی غیر قانونی ہوجائے گا ، بندوق ،ریوالور اور بم کی طرح لاٹھی وغیرہ کا رکھنا بھی جرم کے دائرے میں آئے گا۔انہوں نے بتایاکہ ہمار جھارکھنڈ کے علاقے میں ایک مرتبہ ہندو مسلم کے درمیان لڑائی ہوگئی ،مسلمانوںپر زیادتی کا الزام عائد کیاگیا ،جب پولس نے چھاپہ ماری کرکے گھروں کی تفتیش کی تو وہاںسے لاٹھیاں وغیرہ برآمد ہوئی ،پولس نے کہالگتاہے تلوار یںاور لاٹھیاں اسی فساد کیلئے جمع کی گئی تھی ،مسلمانوں نے جواب دیا یہ سب ہمارے پاس شروع سے ہے ، محرم کے جلوس میں ہم اس کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ بات عقل سے بھی لگتی ہے اور ضرورت بھی ہے کہ محرم الحرام کا جلوس باقی رہنا چاہیئے ،تعزیہ کے نام پر غیر ممنو عہ ہتھیار ،تلوار ،لاٹھی اور نیزہ وغیرہ کے استعمال کا طریقہ سیکھ لینا چاہیئے،مشکل وقت میں اپنا دفاع کرنے کیلئے یہ سب طریقہ آنا چاہیئے ، بسا اوقات ان چیزوں کی بیحد ضرورت پیش آتی ہے ،ان چیزوں کا علم ہونے کی وجہ سے بآسانی ہم خود کو اور اپنی کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ البتہ تعزیہ کے نام پر جو شرک وبدعت رائج ہے اسے ختم کرکے صرف بطور علامت باقی رکھنا چاہیئے، غلو سے احتراز کرنا چاہیئے ۔ تعزیہ کی تزئین ،سجاوٹ ،اونچائی اور خوبصورتی کے بجائے تمام تر توجہ غیر ممنوعہ ہتھیاروں کے سیکھنے پر ہونی چاہیئے ۔

 

 

Comments: 2

Your email address will not be published. Required fields are marked with *