ترنگا یاترا میں بھگوا جھنڈا کیوں؟

ترنگا یاترا میں بھگوا جھنڈا کیوں؟

خبردرخبر۔(541)
شمس تبریز قاسمی
کاس گنج فساد کا آج چوتھا دن ہے ،دھیرے دھیرے پورا معاملہ صاف ہوگیاہے کہ کون مجرم ہے اور کون بے گناہ ،کن لوگوں نے فساد بھڑکا نے کا منصوبہ بنارکھاتھا اور کس طرح میڈیانے چنگاری کو شعلہ بنانے کا کام کیا ،افسوس کی بات یہ ہے کہ معتدل ہونے کا دعویدار آج تک چینل نے اس واقعہ میں زی نیوز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور یکطرفہ رپوٹنگ کرکے اشتعال انگیز ماحول بنایا ،مسلمانوں پر ترنگایاتر ا کی مخالفت اورپاکستان زندہ باد جیسا نعرہ لگا نے کا الزام عائد کیا حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ۔اے بی پی نیوز ، انڈین ایکسپریس ،این ڈی ٹی وی سمیت کئی میڈیا ہاوئس نے حقائق پر مبنی رپوٹنگ کرکے بروقت معاملہ کو صحیح رخ دیا ورنہ کاس گنج دوسرا مظفر نگر بن سکتاتھا،ملت ٹائمز کو اپنے ذرائع سے بھی یہی معلوا ہے کہ 26 جنوری کو وکاس گنج کے ویر عبد الحمید چوک پر کچھ مسلم نوجوان ترنگا لہرانے کی تیاری کررہے تھے،کرسیاں لگائی جارہی تھی اسی دوران وہاں پر بجرنگ دل اور اے بی وی پی کے ممبران ستر سے زائد بائک سے ترنگا یاتر ا کے نام پر پہنچ گئے جس کی تعداد ڈیڑھ سو سے قریب تھی ،وہاں پہونچ کر وہ” ہندو ،ہندو ہندوستان ،ملا بھاگوپاکستان،ہندوستا ن میں رہنا ہے تو وندے ماتر م کہنا ہوگا“ جیسے نفر ت انگیز نعرے لگانے لگے، ترنگااتار کر ان لوگوں نے وہاں بھگوا جھنڈا بھی لگانے کی کوشش کی ، سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی بجرنگ دل کے نوجوان بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ فرقہ وارانہ نعرے لگانے کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے،مسلم نوجوانوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہاں سے جاﺅ،ترنگا کی بے حرمتی نہ کر واور مین روڈ پر اپنی ریلی نکالو لیکن ترنگا یاتر ا پر نکلے بجرنگ دل کے جوانوںنے ہنگامہ اور پتھراﺅ شروع کردیا ، دونوں طرف سے نوک جھوک بڑھ گئی جس کے بعد بجرنگ دل کے لوگ اپنی گاڑیوں کو وہیں چھوڑ کر بھاگ گئے ،کچھ دیر میں پولس پہونچی اور اس نے گاڑیوں کو ضبط کیا ،تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بجرنگ دل والوں نے ایک بھیڑ کے ساتھ آکر مسلم آبادی پر حملہ کردیا ،توڑ پھوڑ کرنے لگے ، مسلم بستی پر فائرنگ شروع کردی ،ہتھیار چلانےوالوں میں کچھ ناتجربہ کار بھی تھے چناں چہ بجرنگ دل کے ایک غنڈے کی فائرنگ سے اسی کی ٹیم کا حصہ  اور بجرنگ دل سے وابستہ چند ن  گپتا نام کے ایک لڑکے کی موت ہوگئی ،مسلم نوجوان محمد نوشاد فسادیوں کی فائرنگ میں شدید زخمی ہوگیا ،علی گڑھ جارہے محمد ارقم پر بجرنگ دل والوں نے گھیر کر جان لیوا حملہ کیا ،گاڑی کی چابھی چھین لی ۔فی الحال یہ دونوں زیر علاج ہیں۔

فساد کی اطلاع ملنے کے بعد پولس دوبارہ پہونچی اور وہاں کرفیو لگادیاگیا،دوسری طرف بجرنگ دل والوں نے گاندھی مورتی چوراہے پر چندن کی لاش لاکر رکھ دیا ،جہاں ایم پی دیویندر سنگھ راجپوت نے اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہاکہ جب تک انصاف نہیں ملے گا تب تک ہم نہیں ہٹیں گے ،میں اطلاع ملتے ہی فورا فورس لیکر آیا ہوں ،اس حادثہ میں ہمارے لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہے ،منصوبہ بند طریقے سے یہ سازش کی گئی ہے جس میں سے ہمارا ایک آدمی شہید ہوگیاہے ،ذرائع کے مطابق مقامی ایم ایل اے نے بھی زہریلی تقریر کی ، ایم پی کی موجودگی میں کہاگیاکہ آج ہی کاٹ دیں گے آج کاٹ دیں گے ۔کاس گنج کے رہائی محمد قمر عالم بتاتے ہیں کہ بجرنگ دل والے چندن کی لاش کو بیس کیلومیٹر دو رجلانا چاہتے تھے لیکن انتظامیہ نے اجازت نہیں دی جس کی بناپر 27 جنوری کی صبح انہیں قریب میں آخری رسومات کی ادائیگی کرنی پڑی اور لوٹتے وقت دوبارہ مسلمانوں پر حملہ شرو کردیاگیا ،شناخت کرکے مسلمانوں کی دکان جلائی گئی ،گاڑیاں نذر آتش کی گئی،مکانات پر پتھراﺅ کئے گئے ،راستے میں جو نظر آیا اس پرحملہ کردیاگیا اور پولس یہ سب تماشا دیکھتی رہی ۔علی گڑھ کے کمشنر نے بھی پورے فساد کیلئے پولس کو ذمہ دار ٹھہر ایاہے ۔دوسری جانب بجرنگ دل کا دعوی ہے کہ وہ ترنگا یاترا کررہے تھے جسے مسلمانوں نے روکنے کی کوشش کی ،پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان پر پتھراﺅ بھی کیاگیا، وکاس گنج پولس کا کہناہے کہ ترنگا یاترا کیلئے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی اور مین روڈ کے بجائے یہ لوگ ایک گلی سے گزرتے ہوئے ویر عبد الحمید چوک پر پہونچ گئے تھے جہاں مسلم نوجوان یوم جمہوریہ کی تقریب منانے کی تیاری کررہے تھے ۔
کاس گنج میں مسلمانوں کی کڑورں کی املاک تباہ کردی گئی ہے ،شناخت کرکے مسلم دکانوں کو نذر آتش کیاگیاہے ،پورے علاقے میں خوف وہرا س کا ماحول ہے ،ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ فساد اتفاقی طورپر ہواہے بلکہ پہلے اس کی تیاری کی گئی تھی ،سی سی ٹی وی فوٹیج اور جائے ورادات پر موجود لوگوں کی شہادت سے یہی ثابت ہورہاہے کہ بجرنگ دل اور اے بی و ی پی نے ویر عبد الحمید چوک پر ترنگا کی جگہ بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی تھی ،اشتعال انگیزنعرے کی آواز بھی ویڈیومیں صاف سنائی دے رہی ہے دوسری طرف مسلم نوجوان وہاں خاموشی کے ساتھ کھڑ ے دکھ رہے ہیں ،کچھ انہیں انہیں سمجھارہے ہیں،ساتھ ملکر یوم جمہوریہ کی تقریب منانے کی بات کررہے ہیں لیکن ردعمل میں اے بی وی پی اور بجرنگ دل کے کارکنان ہنگامہ کررہے ہیں،ملابھاگو پاکستان اور ہندوستان میں رہنا ہے تو ہر ایک کو وندے ماتر م کہنا ہوگا کے کے نعرے لگارہے ہیں،کاس گنج معاملے میں میں جو لوگ مسلمانوں پر ترنگایاترا کی مخالفت کا الزام عائد کررہے ہیں انہیں اس سوال کا تشفی بخش جوا ب دینا چاہیئے کہ وہاں اے بی وی پی اور بجرنگ دل کے لوگوں کے ہاتھ میں بھگوا جھنڈا کیوں ہے ؟،کیا ضرورت پڑگئی تھی ترنگا یاترا میں بھگوا جھنڈا کی ؟ سچائی یہ ہے کہ آر ایس ایس نے ابھی تک ترنگاکو تسلم نہیں کیا ہے ،ان کا ایجنڈا بھگوا جھنڈا کو نیشنل علم قراردینا ہے اور اسی کی عملی مشق ان کے غنڈوں نے گذشتہ 26 جنوری کو کاس گنج میں کرنے کی کوشش کی تھی وہ ترگا یاترا کے نام پر بھگوا یاترا تھی ۔ملت ٹائمز)
stqasmi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *