"مہان بھارت کی سب سے بڑی ضرورت امن وامان کا قیام ہے"

“مہان بھارت کی سب سے بڑی ضرورت امن وامان کا قیام ہے”

آصف تنویر تیمی

سیتامڑھی،بہار
ہمارے دیش کے ہر باعزت شہری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ دیش تیزی کے ساتھ ترقی کرے۔ملک میں امن وامان اور خوش حالی ہو۔غربت وافلاس اور بے روز گاری کا خاتمہ ہو۔بطور خاص بد امنی کا پورے طور پر ازالہ ہو۔ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب کا مکمل آئینہ دار بنے۔سب ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔کسی کو کسی سے گلہ شکوہ نہ ہو۔نفرت کی جگہ محبت کی شمع روشن ہو۔پورے ملک میں قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہو۔جو لوگ ہماری قدیم ہندوستانی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں ان کی سخت نوٹس لی جائے۔انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے،تاکہ ملک کی سالمیت بحال رہے،ملک ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچے۔”سب کا ساتھ اور سب کا وکاس” حقیقت کی شکل اختیار کرسکے۔
آزادی سے قبل (انگریزوں) کا ہندوستان،آزادی کے وقت کا ہندوستان،آزادی کے بعد کا ہندوستان اور اب کا ہندوستان۔اگرانصاف کے ساتھ ہندوستان کے مذکورہ ادوار کا جائزہ لیاجائے تو ایک تاریخ کے طالب علم کو بہت بڑا فرق نظر آئے گا۔ہر دور دوسرے سے مختلف دکھے گا۔انگریزوں کے زمانے کا ہندوستان جو ظلم وبربریت کا ہندوستان تھا۔ملک ہمارا اور حکمرانی انگریزوں کی تھی،وہ ہمارے ساتھ من مانی کرتے تھے۔اپنے حقوق کے لئے ہم ان کے رحم وکرم کے محتاج تھے۔ظلم وزبردستی کا وہ کونسا کھیل ہے جو غریب ہندوستانیوں پر اس وقت کھیلا نہ گیا ہو۔خیر ہم نے سب کو برداشت کیا۔وقت اور حالات سے لڑتے رہے۔اپنی قوتوں اور طاقتوں کو یکجا کیا۔ہندو مسلم کی تفریق کئے بغیر ہم نے آزادی کی جنگ چھیڑی اور بالآخر ہزاروں جانی ومالی قربانیوں کے بعد 1947 میں یہ ملک انگریز کے ناپاک چنگل سے آزاد ہوا۔ملک کی آزادی میں سب کا خون بہا۔جس طرح ہندووں نے قربانی دی مسلمان بھی پیش پیش رہے۔تاریخی کتابیں مسلم مجاہدین کے سنہرے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔
کبھی فرصت میں سن لینا
بڑی لمبی ہے داستاں میری
ملک آزاد ہوا۔گاندھی ونہرو خاندان نے آزادی کی لڑائی کی قیادت کی تھی۔ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آئی۔سارے ہندوستانیوں نے ان کی قیادت تسلیم بھی کی۔ملک آگے بڑھتا رہا۔انگریز جاتے جاتے ملک کو اجاڑ گئے تھے، ملک کے مخلص قائدین پھر سے ملک کو ہرا بھرا کرنے میں لگ گئے۔اندر وباہر سے مضبوطی فراہم کرتے رہے۔سرحدوں پر دشمنوں کا جم کر مقابلہ کیا۔ملک کو ایٹمی طاقت کا حامل بنایا۔ملک میں امن وامان قائم ہوا۔بھارت پاکستان کی تقسیم کے بعد ہندو مسلم میں جو دوری اور دشمنی پیدا ہوگئی تھی وہ دھیرے دھیرے ختم ہوئی۔سب لال قلعہ کے فصیل میں باہم کھڑے ہوکر اپنی اجتماعیت کا ثبوت دینا شروع کیا۔ملکی سیاست میں سب کا حصہ رہا۔سب ایک خوشحال ہندوستان کا خواب دیکھتے اور اس کے لئے شب وروز جتن کرتے رہے۔اور بہت حد تک کامیاب بھی رہے۔
سیاست مضبوط ہوئی۔ملک کا جمہوری نظام خوب پھلا پھولا۔ملک کے آئین نے سب کو جینے کا حق دیا اور سب آزادانہ جیتے رہے۔ اس کے لئے اللہ کے بعد امبیڈکر صاحب اور ان کی پوری ٹیم کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔ہر ہندوستانی ملکی آئین کا پابند ہے اور رہے گا۔
وقت اور حالات کے ساتھ سیاسی پارٹیاں بنتیں اور بکھرتی رہیں۔ہر پارٹی کے اپنے مقاصد اور عزائم رہے۔دیگر مقاصد کے ساتھ دیش اور دیش کے عوام کی ہمہ جہت خدمت سب کا اہم اجنڈا رہا۔مگر کون سی پارٹی اپنے منشور میں کتنی کامیاب رہی یہ تو ان کی کارکردگی سے پتہ چلتا ہے۔
علاقائی پارٹیاں تو بہت ساری ہیں مگر ملکی سطح پر دیکھیں تو کانگریس،بی جے پی،سماج وادی پارٹی،بہوجن سماج پارٹی اور لالو پرشاد یادو کی راشٹریہ جنتا دل نمایاں نظر آتی ہے۔آر ایس ایس کو بھی بی جے پی میں شامل مانیں ویسے ان دنوں دونوں میں خوب ٹھنی ہے لیکن نظریاتی طور پر دونوں ایک ہی ہیں۔کانگریس ملک کی سب سے قدیم اور بڑی سیاسی جماعت ہے، خدمات بھی اس کی زیادہ ہیں،اگر چہ بعض ناعاقبت اندیش اس کا سرے سے انکار کریں۔1947 سے 2014 تک کانگریس کسی نہ کسی طرح ملکی سیاست اور حکومت پر حاوی رہی۔ بیچ کے کچھ سالوں میں بی جے پی بھی سینٹر میں رہی۔اس میں سب سے اچھا دور اٹل جی کا رہا۔انہوں نے اپنی پارٹی کو نام اور پہچان دیا۔مستقبل کے لئے زمین ہموار کی۔جس کا بڑا فائدہ نریندر مودی نے اٹھایا اور آج گدی نشیں ہیں۔سیاہ وسفید کے مالک ہیں۔
2014 میں کانگریس کو زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا۔اس نے ماضی میں جو کچھ کیا تھا اس کے لئے ملک کی عوام نے اسے سبق پڑھایا۔بی جے پی بھاری اکثریت اور عوام کے اعتماد کے ساتھ حکومت میں آئی۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مودی سرکار کے قیام میں مسٹر مودی کی محنتوں کا بڑا رول رہا۔ان سے ہم نے یہ سیکھا کہ اگر کوئی محنت کرے تو کامیاب ضرور ہوتا ہے۔نیز موجودہ وقت میں بہتر نتیجہ کے لئے چرب زبانی اور میڈیا کا ساتھ بھی ضروری ہے، صرف واضح اور صاف ستھرے منشور کے ساتھ الیکشن جیتا نہیں جاسکتا۔
خیر بی جے پی مرکز میں آئی لوگوں کے الگ الگ تاثرات اور خدشات تھے۔مسلم برادری کی اکثریت کے خلاف 2014 کا نتیجہ تھا۔مرتا کیا نہ کرتا مودی جی ہم سب کے وزیر اعظم بن گئے۔ملک کے آئین کے مطابق سبھوں نے تسلیم کرلیا۔اکثریتی طبقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ناپاک عزائم کے حاملین نے بھی طبلہ بجایا۔سینہ چوڑا کیا۔مونچوں پر ہاتھ پھیرا۔جیسے انہیں ان کا کھویا ہوا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔
الیکشن میں عوام سے کئے گئے وعدوں کے نبھانے کی باری آئی۔کالا بازاری بند ہوگی،کالا دھن واپس آئے گا،ہر شخص کے کھاتے میں پندرہ لاکھ ہوگا،روزگار ملیں گے۔بجائے کہ مودی جی عوام کو ووٹ کے بعد نوٹ دیتے انہوں نے نوٹ بندی کا اعلان کرادیا۔سب کے پیسے چھین لئے۔بینک کا چکر لگ گیا۔پیسہ جمع کرانے اور نکالنے میں کئی معصوم جانیں گئیں۔کرپشن روکنے کے نام پر عوام نے اسے بھی برداشت کیا۔اس کا کتنا فائدہ ہوا یہ تو خود ریزروبینک نے بتلادیا کی سارا بلیک منی بینک میں سفید ہوکر واپس آگیا۔نئے نوٹ چھاپنے میں جو پیسے خرچ ہوئے وہ ملک کا مالی خسارا ہوا۔
پندرہ لاکھ کا وعدہ صرف وعدہ ہی رہا۔روزگار دینے کے بجائے جی ایس ٹی نافذ کرکے لاکھوں افراد کے چھوٹے چھوٹے کل کارخانے ختم کردیئے۔لوگ پہلے سے زیادہ بے روزگار ہوگئے۔جی ایس ٹی کو بھی اکثریت کی ظاہری طور پر حمایت حاصل رہی۔کربھی کیا سکتے تھے اپنے پاوں میں خود ہی کلہاڑی ماری گئی تھی،جاتے تو کہاں جاتے،کرتے تو کیا کرتے۔لوگوں کے سامنے حکومت کی تعریف کرو،پیچھے میں گالی دو والی صورت پیدا ہوگئی۔
مودی جی کو لوک سبھا الیکشن کی جیت کے بعد سب سے بڑا دھکا دلی کے الیکشن اور پھر بہار کے مہا گٹھ بندھن کے ذریعہ لگا (جو بعد میں نتیش کی نذر ہوگیا،نتیش جی مودی جی کے ہوگئے)لیکن یوپی کی جیت نے بی جے پی کو حوصلہ دیا۔اب مودی جی کے ساتھ یوگی جی بھی اتر پردیش کے مکھیا بن گئے۔یوگی جی کی شخصیت اور کام دونوں معروف تھے۔آتے ہی کھانے پینے پر دھیان دیا۔بیف کے نام پر غیر سرکاری بچڑ خانے بند ہوگئے۔جانوروں کو انسانوں سے زیادہ تحفظ فراہم ہوگیا۔مدرسوں کی سخت نگرانی شروع ہوگی۔امید تھی کہ یوپی میں امن وامان رہے گا مگر وہ نہ ہوسکا قتل اور فساد جاری رہا۔ملک دشمن عناصر بے خوف دندنانے لگے۔اقلیت طبقہ میں ڈر خوف کا ماحول پیدا ہوگیا۔جگہ بہ جگہ معصوم مارے جانے لگے،بھیڑ جلاد بن گئی،بھیڑ نے کئی جانیں لیں۔اور ریاستی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔اسی بیج گجرات کا ریاستی الیکشن ہوا جہاں کانگریس نے دھول چٹائی بڑی مشکل سے بی جے پی حکومت بچی۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ محض تین چار سالوں میں مودی حکومت رو بہ زوال ہے۔لوگوں کا اعتماد اس سے اٹھ رہا ہے۔دیش کی جنتا یہ سمجھنے لگی ہے کہ مودی حکومت میں خواب تو اچھے دکھائے جاتے ہیں مگر مگر وہ خواب ہی رہتے ہیں حقیقت کبھی نہیں ہوتے۔
پچھلے دنوں 26/جنوری کو یوپی کے کاس گنج میں جو فساد برپا کیا گیا۔ترنگا کے نام پر درندگی ہوئی۔معصوموں کا خون ہوا۔یوگی جی کی پولیس دنگائیوں کا ساتھ دیتی رہی۔وہ نہایت شرمناک ہے۔ملک سے کسے محبت نہیں؟شاید جتنی محبت ہم کرتے ہوں دوسرے نہ کریں۔اور تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ہماری ضرورت وطن کو پڑی ہے ہم نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔اور ان شاء اللہ آگے بھی ہم ملک کی تعمیر وترقی کے لئے اپنی ہمہ جہت خدمات دیتے رہیں گے۔مگر آج ملک کا بہی خواہ ایسے لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جو ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر، یا بھڑ کاو بھاشن دے کر ملک کے امن وامان کو غارت کرنا چاہتے ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ اس ملک کی سالمیت امن وامان میں ہے۔ملک ترقی اسی وقت کرے گا جب امن ہو۔ترقی سے فائدہ بھی اسی وقت ہوگا جب ملک میں سکون واطمینان ہو۔ورنہ ساری ترقی بے سود اور بے کار ثابت ہوگی۔
ہمیں اپنے ملک کے لئے سوچنا چاہئے،منفی سوچ کو بدلیں،مثبت سوچنے کی عادت ڈالیں۔ذات اور مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف ملک کی ترقی کی خاطر اپنا نیتا چنیں۔سیاست کو مذہب کا رنگ نہ دیں۔
بھارتئے جنتا پارٹی اگر چاہتی ہے کہ عوام کا اس پر اعتماد بحال ہو،2019 میں بھی مرکزی کرسی ہاتھ آئے تو اس کے لئے اسے اپنا نظریہ بدلنا ہوگا۔سب کو اپنانا اور گلے لگانا ہوگا۔سب کا خون یکساں ہوتا ہے،سب کے بچے بچے ہوتے ہیں اس کو ماننا ہوگا۔ورنہ یاد رکھیں!ظلم کی ٹہنی بہت دنوں تک ہری نہ رہتی۔عوام کو بہت دنوں تک دھوکے میں بھی نہیں رکھا جاسکتا۔عوام ہوشیار ہے آج نہیں تو کل ضرور سبق سکھائی گی جیسا کہ کانگریس کو سکھایا ہے۔
ہوشیار!خبردار!موقع سے فائدہ اٹھاو!عوام کی طاقت ہی ملک کی اصل طاقت ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *