آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے؟

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے؟

حرف حق: پروفیسر اختر الواسع

ابھی کاس گنج کے زخم تازہ تھے اور مسلمانوں پر یہ واضح کیا جا رہا تھا کہ انہیں جشن جمہوریت میں شامل ہونے یا منانے کا حق نہیں ہے اور ان کے لیے دو ہی جگہیں ہیں یا تو قبرستان یا پاکستان کہ کشمیر جنت نظیر سے ایک مکروہ آواز آئی کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ایک نیا پاکستان مانگنا چاہیے۔ مفت کا یہ مشورہ کسی ایسے مفتی صاحب نے دیا ہے جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں حکومتِ جموں و کشمیر نے مقرر کیا ہے۔
اس طرح کے بیانات ہندوستانی مسلمانوں سے محبت کا نہیں بلکہ عناد کا مظہر ہیں۔ یہ ان سے التفات نہیں بلکہ انتقام کے جذبے کے آئینہ دار ہیں۔ جب کسی کے اس طرح کے دوست ہوں تو اسے دشمنوں کی قطعاً ضرورت نہیں رہتی۔
ستر سال پہلے ایک دفعہ ملک کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ہندوستان میں پاکستانی، پاکستان میں ہندوستانی (مہاجر) اور بنگلہ دیش میں بہاری ہیں۔ اس تقسیم کے نتیجے میں برصغیر میں نفرت، فرقہ وارانہ عناد و فساد کا جو تباہ کن عمل دیکھنے کو ملتا رہا ہے اس کے بعد ایک بار پھر تقسیم کی بات کرنا خود کو جان بوجھ کر اندھے کنوئیں میں ڈھکیلنے جیسا ہے۔
جن لوگوں نے پاکستان بنائے جانے کا مطالبہ کیا تھا ان لوگوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ یہ سب اپنے فائدے میں نہیں کر رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے طبقے کی سماجی مراعات اور پیشہ ورانہ مفادات کے لیے کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ ہندو مہاسبھا اوران جیسی حاشیہ پر پڑی تنظیموں کی اس چھوٹی سی تعداد کی خواہشات کی جانے انجانے تکمیل میں لگے ہوئے ہیں جو دل سے چاہتی تھی کہ مسلمانوں کو تقسیم کے ذریعہ ہندستان سے دیش نکالا دے جائے۔
پاکستان بن جانے کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب پر عیاں ہے ۔ مہاجر جو پاکستان کے خالق تھے وہ مخلوق آج تک نہیں بن پائے۔ پاکستان بننے اور ترک وطن کے بعد یہاں سے جانے والوں پر کیا گزری اس کا اندازہ ۳۵۹۱ء میں کراچی میں بیٹھ کر محشر بدایونی کے اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے کہ :
بیٹھے ہوئے ہیں دھوپ میں سایہ نہیں نصیب
چپ ہیں کہ بام و در کو خفا کرکے آئے ہیں
پاکستان میں کراچی سے راولپنڈی اور پھر اسلام آباد دارالخلافہ کی منتقلی کا فیصلہ ہو یا سرکاری ملازمتوں میں مہاجروں کے ساتھ تعصب اور امتیاز کی پالیسی یا پھر وزیر اعظم لیاقت علی خان کا دن دہاڑے قتل ، اسی نے بالاخر مہاجروں کو جارحانہ مدافعت پر مجبور کیا اور الطاف حسین کی قیادت میں پہلے مہاجر بعد میں متحدہ قومی مومنٹ وجود میں آئی۔ اس زمانے میں یہاں سے جانے والے کچھ ایسی بے کسی اور ذہنی انتشار کا شکار تھے جس کو جلال لکھنوی کے اس شعر سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ :
آگئے سو ئے حرم و اعظ کے بہکانے سے ہم
ورنہ راضی ہم سے بت خانہ تھا، بت خانے سے ہم
آج ایک ایسی دنیا میں جو ایک گاؤں میں تبدیل ہو رہی ہے مذہبی بنیادوں پر ملکوں اور قوموں کی تقسیم صرف اور صرف بیمار ذہنیت کی پیداوار ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہندوستان میں مسلمان مسائل سے دوچار نہیں ہیں۔لیکن وہ کون سا خطہ زمین ہے جہاں مسلمان یا دیگر انسانی گروہ مسائل سے دوچار نہیں ہیں اور ہمیں انتہائی دکھ کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اگر دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ کہیں اذیت ناک صورت حال اور بربریت سے دوچار ہیں تو وہ پاکستان میں ہیں اور نفرت و تشدد کا عفریت نہ صرف پاکستان بلکہ اپنے ہمسایہ ملکوں افغانستان اور ہندوستان کے لیے بھی آزمائش کا سبب بنا ہوا ہے۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ خود افغانستان کا برسراقتدار طبقہ ہر زمانے میں اس بات کو دہراتا رہا ہے۔ ہندستان میں لال قلعہ پر حملہ ہو یا پارلیمنٹ پر یا ممبئی میں انسانی جانوں اور املاک کا اتلاف ہو ، وہ جگ ظاہر ہے۔
اس پس منظر میں جو لوگ نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان نہ حاکم ہیں اور نہ محکوم بلکہ وہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں اقتدار میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم نے پہلے بھی کہا اور پھر کہتے ہیں کہ بیشک ہمارے مسائل ہیں۔تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہوئی نفرت نے نہ جانے کتنی بار فرقہ ورانہ فسادات کی شکل اختیار کی جو یقیناً ہمارے ملک کے لیے کلنک ہے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ ہمارے یہاں خود مسلمانوں نے درگاہوں، امام بارگاہوں اور مساجد کو نشانہ نہیں بنایا۔ ہمارے یہاں اسکولوں میں معصوم بچے اور بچیوں کو سرکار سے انتقام لینے کے لیے موت کے گھاٹ نہیں اتارا گیا۔ ہندوستان میں عدلیہ اور سول سوسائٹی نے ہمیشہ مسلمانوں یا کسی بھی کمزور طبقہ کے خلاف تشدد اور نا انصافی کے خلاف ایکشن بھی لیا ہے اور بلند آہنگی کے ساتھ صف بند ہو کر ظالموں کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے۔
آج جو لوگ ادھر ادھر سے سرحد پار کے اپنے آقاؤں کے اشارے پر مسلمانوں سے ہمدردی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں اور ہندوستان کے خلاف بے دردی سے دشنام طرازی کر رہے ہیں انہیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان میں ہم یرغمالی نہیں ہیں اور ہمارے مسائل و مصائب آدھے سے زیادہ تقسیم وطن اور تخلیق پاکستان کی دین ہیں۔سرحد پار سے اٹھنے والی ہر وہ آواز جو بظاہر ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں اٹھائی جاتی ہے وہ ان کے لیے سم قاتل ثابت ہوتی ہے۔ اس کا مقصد بھی مسلمانوں کی ہمدردی نہیں ہوتا ہے بلکہ انہیں دو قومی نظریہ کی تائید و توثیق نہ کرنے کی سزا دینا ہوتا ہے اور ہندوستان میں بعض ناعاقبت اندیش اور مٹھی بھر یرقان زدہ ذہنیت کے عناصر پاکستان کے اس کھیل کو سمجھنے میں ناکام رہ کر مسلمانوں کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔
ایک بات سب پر واضح رہنی چاہیے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے ملک کو کبھی پاکستان نہیں بننے دیں گے بلکہ ہم اسے گاندھی، نہرو ،مولانا آزاد یا ڈاکٹر امبیڈکر ، رفیع احمد قدوائی ، راج گوپال اچاریہ اور سردار پٹیل کا وہ ہندوستان بنائے رہیں گے جو ۶۲ جنوری ۰۵۹۱ء کو انتہائی قابل قدر، منصفانہ اقدار پر مبنی سیکولر جمہوری مزاج اور ناقابل تنسیخ بنیادی حقوق کے مجموعے کی صورت میں نافذ ہوا تھا۔
آخر میں ہم مسلمانوں کے ناعاقبت اندیش دوستوں سے ایک اور بات عرض کرنا چاہیں گے کہ نظام مصطفیٰ کے نعرے لگانے والو یہ مت بھولو کہ نظام مصطفی کے لیے اخلاق مصطفی بنیادی شرط ہے اور اس لیے ضروری ہے کہ ہم غیر مسلم اکثریتی ملکوں اور معاشروں میں بحیثیت اقلیت مسلمانوں کے لیے جن حقوق کے طلب گار ہیں مسلم اکثریتی ملکوں اور معاشروں میں غیر مسلم اقلیتوں کو وہ سب سے پہلے دے کر دکھائیں کیوں کہ ہمارے آقا و مولا محسن انسانیت جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی سبق سکھا یا ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو ۔
آج ضرورت نئے پاکستان بنانے کی نہیں بلکہ ہم عصر دنیا میں جو عالمی گاؤں بن چکی ہے اسے حلف الفضول ، میثاق مدینہ اور خطبہ حجة الوداع سے علمی ، نظری اور عملی طور پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ (ملت ٹائمز)
(مصنف مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے پریسیڈنٹ ہیں اس سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے صدر اور ڈاکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *