یہ اک اشارہ ہے کسی آفت ناگہانی کا ....

یہ اک اشارہ ہے کسی آفت ناگہانی کا ….

یاور رحمن
بابری مسجد مسلہ پر مولانا سلمان حسنی ندوی کا موقف شاید اتنا غلط نہ ہو جتنا غلط اس موقف کے اظہا ر و اعلان کا طریقہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر انہوں نے اس قدر متنازعہ بیان کیوں دیا ؟ کوئی دباؤ تھا، مجبوری تھی یا محض طلب شہرت ؟؟؟
حالانکہ ان سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے اس قسم کی ملاقاتیں کی تھیں۔ وہ لوگ سلمان صاحب کی طرح جذباتی اور زود گو نہیں تھے۔ وہ کافی ‘سمجھدار اور منجھے’ ہوئے لوگ تھے ۔ بورڈ کے موقف سے براہ راست اختلاف کی انکے اندر ہمّت نہیں تھی۔ اس لئے وہ ہلکے سے رد عمل پر ہی ‘شانت’ ہو گئے۔
بابری مسجد مسلے پر اپنے ایک مضمون میں معروف ہندو اسکالر ارون شوری نے “ہندوستان کی مسجدوں” نامی اک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بابری مسجد کے رام مندر ہونے کا دعوی کیا تھا۔ وہ کتاب مولانا سید ابو الحسن ندوی مرحوم کے والد سید حکیم عبد الحی کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔ ارون شوری اپنے دعوے کے ثبوت میں وہ کتاب پیش نہیں کر سکے۔ انکا کہنا تھا کہ ہزار کوشش کے با وجود وہ کتاب انھیں نہیں مل سکی ۔ “اسے غائب کر دیا گیا”۔
اس کی حقیقت بس اللّه ہی جانتا ہے ۔ ویسے بھی کسی شخص واحد کا اپنی میسر معلومات کی بنا پر کسی بات کا لکھ دینا دلیل آخر نہیں بن سکتا۔ یہ ثبوت تو خود فریق ثانی کو بلکہ یوں کہئے کہ مدعی کو پیش کرنا ہے جو وہ آج تک پیش نہیں کر سکا۔
ارون شوری کے اس مضمون کا یہاں بیان اس لئے کیا کہ خود مولانا علی میاں وی پی سنگھ کی وزارت عظمیٰ کے دور میں بابری مسجد ‘زمین’ کی ملکیت کا زبانی حق وی پی سنگھ کو سونپ چکے تھے، لیکن اپنی سادگی میں اٹھائے گئے اس قدم کا انھیں جیسے ہی احساس دلایا گیا، وہ ایک لمحے میں سنبھل گئے اور آنجہانی وی پی سنگھ سے فون پر معذرت کرتے ہوئے اپنے سابقہ بیان کو واپس لے لیا۔ یہ واقعہ خود بورڈ کے صدر رہ چکے معروف عالم دین مولانا مجاہد الاسلام قاسمی مرحوم نے راقم الحروف کو سنایا تھا۔
اب جو مولانا سلمان ندوی صاحب نے نیا شوشہ چھوڑا ہے تو جی چاہتا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ حضرت ! یہ محض اپنے بزرگوں کے نقوش قدم کو چومنے کی ایک معصومانہ کوشش ہے یا کچھ اور ؟ کیونکہ آپ کے انتہائی جذباتی اور نا مناسب بیانات و خطابات کی فہرست حکومتوں کے ریکارڈ میں بھی محفوظ ہوگی! اللّه آپ پر رحم کرے ، اس ملک میں باہمی اتحاد و اتفاق کی باتیں کرنا تو آپ علما کا شیوہ ہی نہیں رہا۔ قوم کے مسائل نے آپ لوگوں کو ملک میں موجود دوسرے 80 کروڑ انسانوں کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی کہاں دیا ؟ آپ ندوی ہوں، مدنی ہوں، نعمانی ہوں چاہے اشرفی ہوں یا اویسی ہوں ، آپ میں سے ہر ایک اپنے اپنے ذاتی اکھاڑے کا خود ساختہ خلیفہ ہے۔ آپ کو امّت کے مسائل نے فرصت ہی کہاں دی کہ آپ کبھی اسلام کے خلاف مٹھی بھر دشمنوں کے پروپیگنڈوں کا جواب اپنے بہترین عملی اسلامی رویے سے دیتے؟ اپنے وسائل کا استعمال ایسی نوجوان نسل کی تربیت کے لئے کرتے جو پورے ہندوستان کے لئے ایک نعمت ثابت ہوتی؟ مگر افسوس کہ آپ جیسے لوگ جب ٹی وی چینلوں پر ایسی باتیں بول رہے ہوتے ہیں تو ہم جیسوں کو بڑی شرمناک ہنسی آ رہی ہوتی ہے ۔
بہر حال ، سلمان صاحب کے اس ایپی سوڈ میں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ اور شرمناک سین تھا وہ انڈیا ٹی وی کو دیے گئے انکے exclusive انٹر ویو کا تھا جس میں حضرت ‘زود گو’ نے بڑ بولے پن کی انتہا کر دی ۔ انہوں نے بورڈ کے ترجمان اور امّت کے ‘نذیر’مولانا سجاد نعمانی کی اس تقریر کی موبائل کلپ تک سنا دی جس میں حضرت نذیر نے اپنی قوم کو آر ایس ایس کی قربت کا حوالہ دے دے کر اس قتل عام سے جی بھر کے ڈرایا ہے جس کی جھلک ہم روہنگیا میں دیکھ چکے ہیں۔
ذرا سوچیے، انڈیا ٹی وی پر اس طرح کی بات دہرانا اور ایک معروف عالم دین کا دوسرے معروف عالم دین اور بورڈ کے ترجمان کی تقریر کا یہ کلپ دکھانا نفرت کی اساس پر دو حصّوں میں منقسم عام لوگوں پر کیا اثر ڈالے گا ؟ یقینی طور پر اس کا زبردست منفی اثر خود مسلمانوں پر پڑے گا جو پہلے ہی خوف و سراسیمگی کا شکار ہو چکے ہیں ۔ پھر ان شریر نفس ظالموں کو اسی ‘کلپ دار بحث’ نے ایندھن فراہم کیا ہوگا جو کمزور مسلمانوں کو جھنڈ میں گھیر کر مارتے بھی ہیں اور اپنے مظالم کی ویڈیو بنا کر وائرل بھی کرتے ہیں۔ انکے بد کردار رہنما اپنی تقریروں اور اپنے بیانوں میں یہی دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ وہ روہنگیا کا سین یہاں بھی دہرائیں گے ۔
ایسے حالات میں بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی کا جو بزعم خود نہ صرف آر ایس ایس سے بیحد قریب ہیں بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اسکے ٹریننگ کیمپوں میں بھی جاتے رہتے ہیں، ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کو اس طرح ڈرانا سمجھ میں نہیں آتا۔ مردہ قوموں کے قائد نئی روح پھونکتے ہیں نہ کہ ڈرا ڈرا کر خود اپنی ہی مردہ قوم کا کچومر نکالتے ہیں۔ نہ جانے کیوں وہ بورڈ کے معاملات میں کم اور مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے میں اپنی قوت زیادہ صرف کرتے ہیں ۔

بورڈ اور اس کے زمداروں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔ صرف ایک ہی مسلک خاص کی ‘با لا دستی’ کی روش نے اسے پہلے ہی کمزور کر دیا تھا، اب نئی صورت حال نے اسے سخت خطرے سے دو چار کر دیا ہے ۔ بورڈ کے صدر کی حد سے بڑھی ہوئی سادگی اور سیکرٹری جنرل صاحب کی ‘ جنریلی’ نے اسے اندرونی خلفشا ر کا شکار کر دیا ہے۔ تین طلاق کے مسلہ پر بورڈ کی ناکامی خود ہی محل نظر ہے ۔ شاید اسی لئے سلمان ندوی صاحب کی اس بے وقت اور غیر حکیما نہ راگنی کو عوامی سطح پر ایک خاموش حمایت ملتی دکھائی دے رہی ہے ۔
بہر حال ، بڑی ذہانت کے ساتھ بابری مسجد معاملے میں اک نئی بحث کا آغاز کرا دیا گیا ہے ۔ اب انجام جو بھی ہو، یہ صورت حال دنیا کے سامنے مسلمانوں کو شرمندہ کرنے والی بھی ہے اور کمزور کرنے والی بھی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *