مفتی اعجاز ارشدقاسمی پر ایڈوکیٹ فرح فیض کا حملہ !

مفتی اعجاز ارشدقاسمی پر ایڈوکیٹ فرح فیض کا حملہ !

”تھپڑ مہیلا نے اٹھایا کیا پلٹ وار اپراد ہے ؟ مارتے وقت شیرنی جوابی میں پیٹی گئی تو مہیلاکا رونا رونا ؟۔حالاں کہ میں ہر ہسنا کے خلاف ہوں لیکن یہاں مولوی کو دوشی بنانے والی سوچ بیحد خطرنا ک ہے ۔
خبر درخبر(564)
شمس تبریز قاسمی
عورت جب کسی پر حملہ کرتی ہے تو شیرنی کہاجاتاہے ،اپنا دفاع کرتی ہے تو بہادر خاتون کا خطاب ملتاہے لیکن جب وہ کسی پر حملہ کرتی ہے ،کسی مرد کو اکساتی ہے ،اس کی عزتوں سے کھلواڑ کرتی ہے اور ردعمل میں اسے کس کچھ کہاجاتاہے یا اس پر حملہ ہوتاہے تو پھر وہ مظلوم بن جاتی ہے ،مہیلا اور عورت کہ کر ہمدردی بٹوری جاتی ہے ۔کل زی میڈیا گروپ کے چینل زی ہندوستان میں مفتی اعجاز ارشد قاسمی اور ایڈوکیٹ فرح فیض کے درمیان جو کچھ ہو اہے اس کی حقیقت یہی ہے جس کا ہم نے شروع میں تذکرہ کیاہے ۔
زی ہندوستان پر طلاق کے مسئلے پر ڈبیٹ چل رہی تھی ،پینلسٹ میں مفتی اعجاز ارشدقاسمی ،ایڈوکیٹ فرح فیض ،عنبر زیدی اور آر ایس ایس سے وابستہ یا سر جیلانی تھے ،فرح فیض نے پہلے ہی کہ رکھا تھاکہ آج ہم پر حملہ ہوسکتاہے ۔اس کے بعد فرح فیض نے اور عنبر زید ی دونوں نے طلاق ،حلالہ سمیت کئی مسئلوں کو لیکر اسلام کے خلاف زہر اگلنا شروع کیا ،مسلم پرسنل لاءپر پابندی عائد کرنے کی بات کی ،طلاق ،حلالہ ،تعددازدواج اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاءپر پابندی عائدکرنے کیلئے اس نے سپریم کورٹ میں پی آئی ایل بھی داخل کررکھی ہے ،ڈبیٹ میں وہ شروع سے زہر اگل رہی تھی ،حافظ سعید کا چمچہ،ڈھونگی اور اس جیسے قبیح الفاظ استعمال کررہی تھی ،ایک مرتبہ عنبر زیدی اور فرح فیض کھڑی بھی ہوجاتی ہیں،ایک دو منٹ بعد مفتی اعجاز ارشد قاسمی کھڑے ہوجاتے ہیں ،فور افرح فیض بھی کھڑی ہوجاتی ہے چند ہی سکنڈوں میں مفتی اعجاز ارشدقاسمی پر تھپر رسید کردیتی ہے ،مفتی اعجاز ارشدقاسمی نے پلٹ وار کرتے ہوئے تین تھپر فرح فیض کو جڑدیا۔پھر یاسر جیلانی کیمرا مین نے چھڑایا ۔
یہ صورت واقعہ ہے جسے ایک بڑی تعداد جان چکی ہے اور بار بار ویڈیو میں کلپ میں دیکھ چکی ہے ۔آئیے ذرا انصاف سے جائزہ لیتے ہیں کہ اس کیلئے اصل ذمہ دار کون ہے کیا ایک عورت کو مرد پر ہاتھ اٹھانے کا حق ہے؟ ،کیا کسی عورت کو یہ زیب دیتاہے کہ وہ مرد پر حملہ کردے ؟،کیا یہ عورت کی بہادری ہے کہ وہ مباحثہ کو جنگ میں تبدیل کردے ؟۔ حملہ ہونے کے بعد اعجاز ارشدقاسمی کے پاس دور استے تھے یاتو وہ خاموشی کے ساتھ پٹائی کھاتے رہتے ،دوسرا راستہ اپنا دفاع کرنا تھا ۔انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کی اور پلٹ وار کرکے فرح فیض پر بھی تھپڑ لگادیا ۔یہ معاملہ چل ہی رہاتھا کہ زی میڈیا کی آفس میں پولس پہونچ گئی ،100 نمبر پر کال کرکے شکایت درج کرادی گئی ،پولس مفتی اعجاز ارشد قاسمی کو حراست میں لے گئی ،آج و ہ ضمات پر رہا ہوجائیں گے ۔فرح فیض کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہوگئی ہے۔
مفتی اعجاز ارشدقاسمی خاموش رہتے ،پلٹ وار نہیں کرتے تو بھی ان کے بارے میں یہی کہاجاتاکہ شرم کرو!ایک عورت سے مار کھاکر آگئے ،قانونی طور پر اس حملہ آور خاتون کا کچھ ہوتا بھی نہیں ۔جذباتی عمل کہکر نظر انداز کردیا جاتا،بلکہ اس معاملے میں بھی مفی اعجاز ارشد قاسمی کو ہی لعن طعن کیا جاتاکہ عورتوں سے انہوں نے بحث کیوں کی اس لئے انہوں نے بروقت جو کچھ کیا بہتر کیا ،اپنے دفاع کیا ،بچاﺅ میں ہاتھ اٹھایا ،ہندوستان کا قانون ہر شہری کو اپنے دفاع اور تحفظ کا حق دیتاہے ۔ذمہ دار فرح فیض ہے ،وہ خاتون ہے جس نے یہ حرکت کی ،ایک مرد پر ہاتھ اتھایا ۔
رات میں ایک جگہ میں اولاکیب سے جارہاتھا ،ڈرائیو ر غیر مسلم تھا،یہی معاملہ چل پڑ ا تو اس نے برجستہ کہاجو عورت ایک پرائے مرد پر ہاتھ اٹھاسکتی ہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ کیسا رویہ اپناتی ہوگی ۔پرکاش سنگھ نام کے ایک فیس بک یوز ر نے جو کچھ لکھاہے اسے بھی ذرا غو ر دیکھیئے اور جائزہ لیجئے ۔پرکاش سنگھ لکھتے ہیں ۔”تھپڑ مہیلا نے اٹھایا کیا پلٹ وار اپراد ہے ؟ مارتے وقت شیرنی جوابی میں پیٹی گئی تو مہیلاکا رونا رونا ؟۔حالاں کہ میں ہر ہسنا کے خلاف ہوں لیکن یہاں مولوی کو دوشی بنانے والی سوچ بیحد خطرنا ک ہے ۔“
مفتی اعجاز ارشد قاسمی کا زی میڈیا گروپ کے چینل میں جانا اور ڈبیٹ میں شریک ہونا ایک الگ موضوع ہے ان کا جانا صحیح ہے یا نہیں اس پر ہم بعد میں بات کریں گے ،ٹی وی چینلوں پر یہ لوگ کیوں جاتے ہیں تاہم یہ ضرور واضح رہنا چاہیئے کہ مفتی اعجاز ارشدق قاسمی کو وہاں ان کی ذاتی حیثیت سے بلایاجاتاہے ،بارہا میں نے انہیں یہ وضاحت دیتے ہوئے سناہے کہ میں بورڈ کی طرف سے نمائندگی نہیں کررہاہوں ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبور ڈ بھی یہ واضح کرچکاہے اس کے باوجود اگر ان کے بارے میں یہ کہاجاتاہے کہ انہوں نے علماءکا وقار گھٹایا ہے تو یہ حقائق کے خلاف ہے ،ذمہ دار وہ خاتو ن ہے ،فرح فیض نے ایک عالم پر ہاتھ اٹھایا،ایک مرد پر حملہ کیا ۔عورت ہونے کے مطلب یہ نہیں کہ وہ اخلاقیات کی تمام حدیں پار کردی ،کسی پرحملہ کردے اور مرد تماشا دیکھتے رہا ۔مفتی اعجاز ارشدقاسمی نے جو کچھ کیاہے اپنے دفاع اور تحفظ کیلئے ہے اور انہیں یہی کرنا چاہیئے تھا ۔
stqasmi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *