سائنس اور ٹکنالوجی سے قبل اللہ نے جس ٹکنالوجی کا ایجاد کیا اس کا نام دماغ ہے

سائنس اور ٹکنالوجی سے قبل اللہ نے جس ٹکنالوجی کا ایجاد کیا اس کا نام دماغ ہے

انسانوں نے سائنس اور تکنالوجی کی وجہ کر چاند اور ستاروں کا بھی سفر کر لیا ہے۔ جن جانوروں سے انسان کبھی خوف و حراس محسوس کیا کرتے تھے آج ان جانوروں کا استعمال روزمرہ کی زندگی میں کیا جا رہا ہے
سہیل عابدین
قدرتی نظام آج کے سائنس اور ٹکنالوجی نظام سے بالا تر ہے اور رہے گا، وہ اس لئے کہ باری تعالیٰ نے انسانی جسم کے اندر مختلف اعضاءرکھے ہیں ان میں ذہن اپنی بلندی پرواز ، افکار و نظریات اور قدرتی تخیلات کی ایسی مثال ہے جس کے ذریعہ کی جانے والی ایجادات پر رشک محسوس ہوتا ہے۔ آج جتنی بھی نئی نئی ٹکنالوجیز سے ہم آپ استفادہ حاصل کر رہے ہیں، وہ ساری ٹکنالوجی قدرتی ٹکنالوجی کی ہی مرحون منت ہیں۔ آج سمندر کے اندر سرنگیںنکالی جا رہی ہیں اور سمندر کے اوپر پل تیار کیا جا رہا ہے، انہیں دیکھ کر متعجب ہونا لازمی ہے، بے اختیار مالک حقیقی کی عظمت اور گویائی کا تصور نظر آتا ہے۔ یہ رب العالمین کا انعام ہے کہ اس نے ہم انسان کے مختصر دماغ کو اس قدر کمال اور دانائی بخشی کہ محیر کار نامے انجام دے رہا ہے۔ اسی لئے باری تعالیٰ نے ہم انسانوں کو تمام مخلوقات سے اشرف بنایا تاکہ قدرت کے کارنامے کو اظہار کا لبادہ پہنا سکے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے کرشمے دیکھ کر انسان یہ سونچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ وہ باری تعالیٰ کتنا عظیم ہے جس نے ہم انسانوں کے ذہن کو اس قدر دانائی بخشی کہ وہ ہر اس کام کو انجام تک پہونچانے میں کامیاب ہوتا ہے جو اس کے دائرے اختیار سے باہر تھا۔ یہ سب اس رب العالمین کی دین ہے، ورنہ انسان کیا اور اس کی اوقات کیا۔ مٹی سے بنا جسم و جاں جو خود مٹی میں باالآخر مل جاتا ہے، اس کی تخلیق کردہ کارنامے کئی سو سال تک زندہ رہتے ہیں۔ موجودہ دور میںسائنس اور ٹکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ایسے ایسے کانامے انجام دیئے جا رہے ہیں جس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہالینڈ اور برطانیہ دو الگ ملک ہیں جس کے درمیان میں ایک سمندر حائل ہے، لیکن ان دونوں ملکوں کو اندر ہی اندر اس طرح سے ملا دیا گیا ہے کہ ایک ملک سے داخل ہونے والا شخص راستے میں پانی کا قطرہ تک نہیں دیکھتا اور دوسرے ملک پہنچ جاتا ہے۔ انسان نے معاشی اور اقتصادی طور پر بھی تیزی سے ترقی کی ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس کی ضرورتیں بھی بڑھتی ہیں، لہذا اس مسئلے کے حل کے لئے فصلوں میں کھاد اور کیڑے سے بچانے کے لئے ذرعی ادویات کا استعمال شروع کیا گیا۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی وجہ کر انسان نے میڈیکل میں ترقی کی جس کی وجہ کر لا علاج بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکا۔
انسانوں نے سائنس اور تکنالوجی کی وجہ کر چاند اور ستاروں کا بھی سفر کر لیا ہے۔ جن جانوروں سے انسان کبھی خوف و حراس محسوس کیا کرتے تھے آج ان جانوروں کا استعمال روزمرہ کی زندگی میں کیا جا رہا ہے۔ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی ایجادات نے زندگی میں کافی سہولتیں پیدا کردی ہیں۔ ٹیلی ویزن جیسے ٹکنالوجی کے ذریعہ ہم آپ گھر بیٹھے دین اور دنیا کی معلومات حاصل کر لیتے ہیںجبکہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہم آن لائن تعلیم بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ انٹرنیت نے انسان کے لئے گھر بیٹھے تمام کاموں کو آسان کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہم صرف بات چیت تک ہی نہیں بلکہ خرید و فروخت سے لیکر روزگار بھی ممکن ہو چکا ہے۔ سائنس اور تکنالوجی نے ہم انسانوں کو آرام کا آدی بنا دیا ہے لہذا آنے والے دنوں میں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کاہل بن جائیگا اور اپنی تمام ضروریات انہیں ٹکنالوجی کے ذریعہ پوری کروائے گا۔ جس طرف اپنی نگاہیں دورائیں سائنس اور ٹکنالوجی کا ہی بول بالا نظر آئیگا۔ صدیوں کے فاصلے منجمد ہو کر لمحوں کے دسترس ہو جائنگے۔ اسمارٹ موبائل کو ہی لیجئے۔ جس نے دنیا کے رکھ رکھاﺅکو ہی بدل ڈالا۔ گلی کوچے میں نوجوان کی ٹولی موسیقی اور دیگر پروگراموں سے لطف اندوز ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو تلاوت قرآن سے اپنے سینوں کو منور کر رہا ہوتا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیٹ نے پوری دنیا کی معلومات قدموں میں رکھ دی ہے۔ انسان اپنی ضرورتوں اور مزاج کے مطابق اس کے ذریعہ اپنی نفصانی خواہشات کو پوری کرتے ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی ، فن اور موسیقی تمام علوم و فنون کا ایک گہوارہ ہے۔ جس نے معلومات کی ایک منفرد صورت اختیار کرلی ہے۔
اگر زندگی میں ہر کام با آسانی ہونے لگ جائے تو سمجھ لیجئے زندگی بے کار اور مفلوج سے مفلوج تر ہوتی جا رہی ہے۔ جیسا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس دور میں نئی نئی ٹکنالوجی نے جنم لے لیا ہے۔ جس کی وجہ کر کوئی بھی کام پلک جھپکتے ہی ہو جاتا ہے۔ اسمارٹ موبائل اور انٹرنیٹ کے اس دور میں انسانی زندگیاں دم تورتی جا رہی ہیں۔ ہم لوگ نئی ٹکنالوجی کے اس دور میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ایک کلک کرتے ہی ہم اس کام کو انجام تک پہونچاتے ہیں، جس کے ہم متمنی ہوتے ہیں۔ کوئی بھی چیز خریدنے کی ضرورت پیش آئی فوراً انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ آن لائن سامان بک کروانا بہتر سمجھتے ہیں، لیکن بعد میں احساس ہوتا ہے کہ آن لائن لینے سے بہتر ہوتا کہ از خود جاکر خریداری کرتے۔ پھر ہم احساس کمتری کے شکار ہو جاتے ہیں۔ نئی ٹکنالوجی جہاں تک مفید ثابت ہوتی ہے ، وہیں اسکے نقصانات بھی بہت ہیں۔ اس نئی نئی ٹکنالوجی نے ہم انسانوں کو اتنا آرام پرست بنا دیا ہے کہ ہم اپنے جسم کی حرکت کو بھول جاتے ہیں۔ سبھی ضرورتوں کا انحصار نئی ٹکنالوجی پر چھور دیتے ہیں۔ جو ہماری روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں مخل ثابت ہو رہی ہے۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں موبائل صرف رابطے کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی بہت ہیں۔ اکثر و بیشتر لوگ کسی پروگرام میں میوزک ویڈیوز وغیرہ کے لئے موبائل ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔ وہیں خواتین اپنے پسندیدہ کھانا بنانے کی ترکیبوں کا کام لیتی ہیں۔ اگر آپ اپنے ماہانہ بجٹ کو منظم کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں تو منٹ ایپ کا استعمال کرکے دیکھیں یقیناً آپ کو سہولت حاصل ہوگی۔ اسی طرح دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنی ہے اور حالات حاضرہ سے با خبر رہنا چاہتے ہیں تو فلپ بورڈ ایپ آپ کو اپنی مرضی کی خبریں لاکر دے گا۔ صرف آپ کو اپنی دلچسپی کا اظہار کرنا ہے، اس ایپ کے استعمال سے نہ صرف آپ با خبر ہوتے ہیں بلکہ اس کے ذریعہ علم میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
خریداری کےلئے آپ کے پاس وقت ہو یا نہ ہو خریداری تو کرنی ہی پڑتی ہے۔ ورنہ گھر کیسے چلےگا۔ اس کےلئے بھی موبائل ایپ حاضر ہے۔جس کے ذریعہ اپنی خریداری با آسانی کر سکتے ہیں۔ الغرض اچھائی اور برائی ہر ایک چیز میں پائی جاتی ہے۔ اسلام کی انقلابی تعلیمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ سائنس کے میدان میں بلندی پر پہونچنے کے لئے سائنس اور ٹکنالوجی کے ٹکراﺅ کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں انسانوں کی قربانی دینی پڑی لیکن اس کے بر خلاف اسلامی تاریخ میں ایسے استیداد کے واقعات نہیں ملتے۔ اس کی بڑی وجہ عیسائیت کے بر خلاف اسلام کبھی تجرباتی عمل کی مخالفت نہیں کرتا اور اس نے کبھی معلومات اور سائنس کا گلانہیں گھونٹا ۔ ہمیشہ مشاہدات کی ہمت افزائی کی گئی۔
اسلام کی بنیادی حقیقت کی تصدیق کریں اور بنیادی عقائد جیسے اللہ کی وحدانیت ، پیغمبری ، دوبارہ زندہ کیا جانا اور قدرتی عمل سے مطابقت کرنا۔ قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ تمہارے لئے زمین میں نشانیاں موجود ہیں جو کامل ایمان رکھنے والوں کےلئے بین دلیل ہیں۔ اور خود ہم بھی۔ کیا ان چیزوں پر توجہ نہیں دیتے۔ مسلمانوں کو کائنات کو قابو میں کرنے اور راغب کرنے اور اس کے قدرتی اور حیاتیاتی فائدہ اٹھائیں جو اس میں قدرتی قوانین کے طور پر مضمر ہیں اور اس طرح سے اپنے معیار زندگی کو بڑھائیں اور ٹکنالوجیکل خوبی کو حاصل کریں تاکہ زمین پر خلیفہ ہونے کے مقاصد کو پورا کر سکیں، قدرت نے نہ صرف جدید سائنس اور ٹکنالوجی کو یکجا کرنے کی راہ ہموار کی بلکہ عملی سائنس کی بنیاد بھی رکھی ۔ قرآن کریم کے متبرک آیات سے رہنمائی پا کر مسلم سائنسدانوں کی بری تعداد نے دوسری صدی ہجری کے بعد جنم لیا ۔ اور اس طرح طبعی سائنس کی تحقیق اور فروغ نے بڑی ترقی کی۔ الغرض سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد رکھنے کا سہرا مسلمانوںکے سر جاتا ہے۔ در حقیقت کئی مسلم سائنسدانوں کو کئی سائنسی تحقیقات اور ایجادات کا کریڈٹ جاتا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ اس وقت ہمیں موجودہ حالات میں اپنی ناکامیوں اور زوال کا جائزہ لیکر دریافت کرنا ہے کہ یہ صورت حال کیوں پیدا ہو رہی ہے ۔ ہمیں اس کا حل نکالنا چاہئے تاکہ امت مسلمہ کو اس کے صحیح راستے پر لایا جائے۔ہم انسان تو اچھائی اور برائی کا مجسمہ ہیں جس کے اندر اچھائی اور برائی کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے۔ لہذا اشرف المخلوقات ہونے کی بنا پر اچھائی کو اپنائیں اور برائی سے گریز کریں ۔ یہی اچھے انسان ہونے کی علامت ہے۔ ٹکنالوجی کا استعمال کریں لیکن اچھے کاموں کے لئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *