مطالعۂ سیرت ، اہمیت اور طریقۂ کار 

مطالعۂ سیرت ، اہمیت اور طریقۂ کار 

مفتی عنایت اللہ خورشید قاسمی

      ربیع الاول کے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے، پیغمبر اسلام کی ولادت باسعادت اسی مہینے میں ہوئی اور پھر اسی ماہ میں آپ کی وفات کا سانحہ بھی پیش آیا. اس اعتبار سے یہ ایک تاریخی مہینہ ہے ؛اس لئے اس ماہ میں سیرت کے جلسوں کی کثرت ہوجاتی ہے، اخبارات و جرائد سیرت کے عالیشان نمبرات نکالتے ہیں، اصحاب ذوق سیرت کے مطالعہ کی طرف راغب ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے مختلف طبقات، اپنے اپنے انداز اور طریقوں کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ،حالات مبارکہ اور ارشادات مقدسہ کے تذکرہ کے لیے تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں؛ لیکن سیرت محمدی کو اس مہینے کے ساتھ خاص کرلینا ،سیرت کے ساتھ نا انصافی ہے؛کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت عالمی اور آفاقی ہے ،کوئی شخص ایک لمحہ بھی آپ کی مبارک تعلیمات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا؛ اس لئے اس موضوع کا حق تو یہ ہے کہ اس سے ہمارا تعلق بھی ابدی اور دائمی ہو، اس مقصد کے لئے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے .علامہ ابن قیم جوزی نے لکھا ہےکہ ” سیرت کا ایک کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے واجب ہے “۔

اور اس کے کئی وجوہ ہیں:

    اول یہ کہ اس امت کا تعلق اپنے نبی سے محبت و احترام کا ہے، اور محبت بھی وہ مطلوب ہے ، جو اپنی ذات، اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہو، جس میں وارفتگی، جاں نثاری، فدائیت اور خودسپردگی ہو، ایسی محبت جس میں کانٹوں کا بستر پھولوں کی” سیج” کا لطف دے، جس راہ کے شعلۂ و آتش میں شبنم کی خنکی محسوس ہواوروہ محبت جنون کی سرحد تک پہنچی ہوئی ہو، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” کوئی شخص اس وقت تک صاحب ایمان نہیں ہوسکتا ، جب تک اس کے دل میں، میری محبت ، اپنی ذات، اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر نہ ہوجائے، ” (بخاری، حدیث نمبر :15) ظاہر ہے اس درجہ کی محبت و عظمت اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی ، جب تک کوئی شخص آپ کی حیات طیبہ کا مطالعہ نہ کرے؛ اس لئے کہ جب تک انسان کسی کی شخصیت ، اس کی پاکیزہ حیات اور اس کے کردار کی عظمت سے واقف نہ ہو ،نہ اس کے دل میں حقیقی معنوں میں اس کی محبت جاگزیں ہو سکتی ہے اور نہ سچی محبت پروان چڑھ سکتی ہے۔

دوسرے یہ کہ پیغمبر اسلام کی حیات طیبہ کو قرآن مجید نے “اسوہ حسنہ”یعنی انسانی زندگی کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ” (الاحزاب:21) گویا آپ کی زندگی ایک آئینہ ہے، جس میں انسان اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے،ایک مشعل راہ ہے، جس کی روشنی سے زندگی کی مشکل اور تیرہ و تاریک رہگزر میں روشنی حاصل کی جاسکتی ہے.قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقام پر آپ کی اتباع و پیروی کا حکم دیا گیا اور آپ کے حکم سے روگردانی کو موجب کفر بتایا گیا .”قل اطیعواللہ والرسول فان تولوا فان اللہ لا یحب الکفرین ” (آل عمران:32). آپ کی پیروی کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” لوکان موسی حیا لما وسعہ الا اتباعی ” یعنی اگر آج موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی ہماری اتباع سے چارہ نہ ہوتا۔ ( مسند احمد، 3/ 387). نیز آپکی اطاعت و نافرمانی ہی جنت میں داخل ہونے اور اس سے محروم ہونے کی بنیاد ہے؛ چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” میری پوری امت جنت میں جائے گی سوائے ان لوگوں کے، جنہوں نے انکار کیا .لوگوں نے عرض کیا: انکار کرنے والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اورجس نے نافرمانی کی اس نے انکار کیا”، ( بخاری مع الفتح: 7280 ) اور ایک جگہ آپ کی اتباع کو اللہ کی محبت کا معیار اور کسوٹی قرار دیا گیا.”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعون یحببکم اللہ ” (آل عمران:31) سو جب آپ کا تعلق کسی شخصیت سے اطاعت و اتباع کا ہو، تو اس کی حیات اور تعلیمات کو پڑھنا ناگزیر ہے؛ کیونکہ اس کے بغیر اس کی اتباع اور اطاعت ممکن ہی نہیں ہے۔

     تیسرے یہ کہ شریعت اسلامیہ کی اساس اور بنیاد قرآن و سنت ہے؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے، گمراہ نہیں ہو گے، اللہ کی کتاب اور اپنے رسول کی سنت “۔ (المؤطا للامام مالک ،حدیث نمبر:1395)

اور ن دونوں کا سرچشمہ آپ کی ذات گرامی ہے؛ کیونکہ قرآن وہ کتاب ہے الہی ہے، جو آپ پر نازل ہوئی اور سنت آپ کے فرمودات ومعمولات کا نام ہے؛ اس لیے دین حق کے دشمنوں نے اسلام کو منہدم کرنے کے لیے یوں تو قرآن وسنت کے استناد و اعتبار سے لے کر، احکام شریعت کی معقولیت اور اسلامی تاریخ تک، ہر شعبۂ دین کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا اور شکوک و شبہات کی سوئی چبھوئی ہے ؛ لیکن پیغمبر اسلام کی حیات طیبہ، ان کی یلغار کا خاص ہدف رہتی ہے؛ کیونکہ اگر آپ ہی کی شخصیت کو مجروح کر دیا جائے، تو دین کی پوری بنیاد منہدم ہوجائے گی؛ لہذا دشمنان اسلام کی فتنہ سامانیوں اور قلمی شر انگیزیوں سے بچنے کے لئے بھی سیرت نبوی کا مطالعہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

     دین اسلام کی تبلیغ اور دعوتی نقطۂ نگاہ سے بھی سیرت کا مطالعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاکہ ان اسباب و عوامل پر غور کیا جاسکے جن کو اپنا کر آپ نے عرب کے اجڈ اور بدو قوم کی کایا پلٹ دی اور ” بدترین خلائق ” کو ” بہترین خلائق ” بنا دیا۔

  ان وجوہات کے علاوہ بھی عصر حا ضر میں مطالعہ سیرت کی اہمیت کے بعض نئے پہلو اجاگر ہوئے ہیں۔ 

مثلا: تہذیبی نقطۂ نظر سے اس کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے ؛کیونکہ اسلامی تہذیب سابقہ تمام تہذیبوں کی روح اور خلاصہ ہے اور یہ اسلامی تہذیب ہی کی خصوصیت ہے جو جدید تہذیب کا ربط ماضی کی تہذیبوں سے قائم کرتی ہے؛ گویا اسلامی تہذیب سابقہ اور لاحقہ تہذیبوں کا نقطۂ اتصال ہے۔ یہ ایک ایسی علمی حقیقت ہے، جسے غیر مسلم مؤرخین نے بھی تسلیم کیا ہے؛لہذا تمام تہذیبوں کے حقائق کی معرفت کے لئے اسلامی تہذیب سے بھرپور واقفیت لابدی ہے اور اسلامی تہذیب سے واقفیت سیرت کے مطالعہ کے بغیر ناممکن ہے ۔

اسی طرح علمی اورتحقیقی اعتبار سے بھی مطالعہ سیرت کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے ۔یعنی اسلامی تہذیب کی وجہ سے انسانی سطح پر جو زبردست علمی، تحقیقی اور فکری انقلاب برپا ہوا ہے، جس کے ذریعے علوم و فنون کی تحقیق اور اس میدان میں ایک نئے عالمی دور کا آغاز ہوا ۔ آخر یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟ اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ اس کے حقائق تک رسائی کیلئے بھی سیرت کا مطالعہ کافی اہم ہے۔

انسانیت پر اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ آپ کی پوری زندگی اس طرح محفوظ ہوگئی گویا کھلی کتاب ہو؛ لہذا جو شخص آپ پر ایمان رکھتا ہو اس کو عمل اور برتاؤ کے لئے کسی اور طرف دیکھنے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی حاجت نہیں ۔ مذاہب عالم میں کوئی مذہب ایسا نہیں، جس میں اس کے پیشوا اور اس مذہب کے آئیڈیل شخصیت کی زندگی ، اس قدر بارونق اور تابناک ہو اور وہ تمام نشیب و فراز میں انسانیت کے لئے ” نقش راہ ” کا کام کرسکے۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت میں اپنے لئے عملی نمونہ تلاش کریں۔ عبادات اور شرعی احکام سے آگے بڑھ کر اجتماعی زندگی، سیاسی حکمت عملی اور دوسری اقوام کے ساتھ سلوک و تعلق کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کو سامنے رکھیں، ہم دیکھیں ، کہاں مسلمانوں کے حالات مکی زندگی کےسے ہیں؟ اور کہاں مدنی زندگی کے سے؟ کس مرحلہ پر ہمیں صلح حدیبیہ کی ضرورت ہے ؟ اور کہاں جرأ ت فرزانہ درکار؟۔

(مضمون نگار دار العلوم عزیزیہ میرا روڈ کے استاذ ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *