شمع خان کے جذبہ کو سلام!

شمع خان کے جذبہ کو سلام!

یہ خاتو ن شمع خان ہیں ۔ابوالفضل کے گوڈ گریس اسکول میں وہ استاذ تھیں ۔یہاں کی حالت زار دیکھنے کے بعد انہوں نے اسکول سے استعفی دیکر ان بچوں کو تعلیم دینا شروع کردیا ۔وہ روزانہ جھگیوں میں رہنے والے بچوں کو چار گھنٹہ پڑھاتی ہیں ۔ان کی مدد کیلئے اب ڈاکٹر عرشیہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئیں ، یہ ایک ہسپتال میں پریکٹس کرنے کے باوجود یہاں بچوں کی کلاس لینے آتی ہی
خبر در خبر (579)
شمس تبریز قاسمی
دہلی کا جامعہ نگر علاقہ تعلیم یافتہ ،دانشوران ،پروفیسرز ،وکلاءتاجراور مسلمانوں کے کریم طبقہ کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔این جی اوز ،اسکول ،مدرسہ ،انسٹی ٹیوٹ اور کوچنگ سینٹر کی تعداد بے شمار ہے تاہم اسی سے متصل جمنا کنارے دھوبی گھاٹ پر جھگیوں میں رہنے والے بے انتہاءمسائل کے شکار ہیں ۔خط افلاس سے نیچے زندگی گزارتے ہیں ۔غربت اور پریشانیوں کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے پاتے ہیں او رنہ ہی ان کے بچے اسکول جاتے ہیں ۔تقریبا دو ماہ قبل ملت ٹائمز کے اینکر منور عالم نے اس محلہ میں جاکر جائزہ لیا اور ان بچوں کی تصاویر دنیا کے سامنے پیش کی جو کوڑا کرکٹ چن رہے تھے ۔ملت ٹائمز کے کیمرے میں ان بچوں نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہاتھاکہ ہم جب کوڑا چنتے ہیں تو ہمیں دووقت کی روٹی مل پاتی ہے ۔اگر یہ نہیں کریں گے تو ماں باپ گھر سے نکال دیں گے ۔ان بچوں کے والدین کا بھی کہناتھاکہ ہم چاہتے ہیں پڑھانا لیکن مجبور ہیں ۔اگر یہ بچے کچھ نہیں کریں گے تو پھر بھوکے رہنا پڑے گا ۔ ہم دن میں انہیں باہر بھیج بھی نہیں سکتے ہیں کیوں کہ ہم دن بھر گھر کے باہر رہتے ہیں اس لئے ان کا یہاں رہنا ضروری ہوتاہے ۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ کئی لوگ یہاں آتے ہیں ،مدد کا وعدہ کرتے ہیں اور تصویر یں لیکر چلے جاتے ہیںپھر دوبارہ ان سے ملاقات نہیں ہوپاتی ۔
گذشتہ کل میرے پاس ایک خاتون کا فون آیا ،انہوں نے کہا جمنا کنارے آباد جھگیوں میں جاکر بچوں کو تعلیم دیتی ہوں ۔انہیں پڑھاتی ہوں ۔کل یوم اطفال ہے آپ سے درخواست ہے کہ تشریف لائیں اور ہمارے بچوں کے ساتھ یوم اطفال منائیں ۔ہمیں خوشی ہوگی اور ہماری کاوش دیکھ کر آپ کو بھی اچھا لگے گا۔انہوں نے اصرار کے ساتھ کہا:سر! آپ کو آناہے ۔۔۔میںنے آنے کا وعدہ کرلیا ۔صبح ہوتے ہی ان کا پھر میسیج آیا ۔براہ کرم گیارہ بجے تک پہونچ جائیں ۔آج گیارہ بجے وہاں پہونچا تو یہ دیکھ میری خوشی کی انتہاءنہ رہی کہ جو بچے کل کوڑا چن رہے تھے وہ آج وہاں طالب عالم بن کر یوم اطفال منارہے تھے ۔


یہ خاتو ن شمع خان ہیں ۔ابوالفضل کے گوڈ گریس اسکول میں وہ استاذ تھیں ۔یہاں کی حالت زار دیکھنے کے بعد انہوں نے اسکول سے استعفی دیکر ان بچوں کو تعلیم دینا شروع کردیا ۔وہ روزانہ جھگیوں میں رہنے والے بچوں کو چار گھنٹہ پڑھاتی ہیں ۔ان کی مدد کیلئے اب ڈاکٹر عرشیہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئیں ، یہ ایک ہسپتال میں پریکٹس کرنے کے باوجود یہاں بچوں کی کلاس لینے آتی ہیں ۔یہ دونوں مل کر روزانہ اسکول کے نصاب مطابق بچوں کو پڑھاتی ہیں ۔ایک اسکول سے انہوں نے معاہد ہ بھی کررکھاہے جہاں سے سرٹفیکیٹ مل جائے گی ۔شمع خان نے بتایاکہ ان بچوں کی کتابیں اور دیگر اخراجات میں اپنے ذاتی پیسے سے پوری کرتی ہوں ۔ہمارے والدین اور بڑے بھائی اس مہم میں ہمارا مکمل ساتھ دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ کہ دہلی اقلیتی کمیشن اور ایک عدد این جی او بھی اب اس مہم میں ہمارا کچھ تعاون کررہی ہیں ۔محترمہ شمع خان صبح کے اوقات میں جھگیوں کے بچے اور بچیوں کو اسکول کے مطابق تعلیم دیتی ہیں اس کے علاوہ وہیں پر شام کے اوقات میں ان بچوں کو مفت کوچنگ بھی کراتی ہیں جو اسکول جاتے ہیں ۔ان کا منصوبہ ہے کہ اگلے چند ماہ یا سال میں ہم یہاں ایک اسکول قائم کردیں تاکہ یہاں کے بچے باآسانی تعلیم حاصل کرسکیں ۔اس کے علاوہ ڈاکٹر عرشیہ میڈیکل اور صحت کے میدان میں بھی ان کا بھر پور تعاون کررہی ہیں ۔ان کی دوست فیشن ڈیزائنر ”من تشاءاحمد“ بھی ا ن کا مکمل ساتھ دے رہی ہیں۔
14 نومبر کو ہندوستان میں یوم اطفال منایاجاتاہے کیوں کہ یہ تاریخ چچا نہرو کی یوم ولادت ہے یعنی ہندوستان کے اولین وزیر اعظم پنڈٹ جواہر لال اسی تاریخ میں پیدا ہوئے تھے اور بچوں سے انہیں خصوصی لگاﺅ تھا جس کی بنیاد پر ان کی یاد میں یوم اطفال منایاجاتاہے اسی مناسبت سے ان جھگیوں میں رہنے والے بچوں کیلئے بھی محترمہ شمع خان نے یوم اطفال منانے کا اہتمام کیا ۔کیک اور دیگر چیزیں وہ بچوں کیلئے خرید کر لائی تھیں ۔ یوں کیک کاٹنے کی رسم ادا کرکے مجھے بچوں کے ساتھ یوم اطفال منانے کا موقع ملا اوربچوں نے خوب جشن منایا،ان کے چہرے پر کوئی افسرد گی نہیں تھی ،غم نہیں تھا حصول تعلیم کے متمنی ،شوقین اور طلبگار نظر آرہے تھے ۔
محترمہ شمع خان کا یہ جذبہ قابل ستائش اور لائق تقلید ہے ۔ایسی بہت کم مثالیں ملتی ہے کہ کوئی اپنی ملازمت چھوڑ کر اپناذاتی پیسہ لگاکر کسی غریب بچے کو پڑھائے ۔اس کے مستقبل کو سنوارے ۔مجھے اس بات پر بھی بیحد خوشی ہے کہ انہوں نے ملت ٹائمز کی رپوٹ دیکھنے کے بعد اس علاقے میں تعلیم وتدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔محترمہ شمع خان کے جذبہ، حوصلہ اور جدوجہد کو ہم سلام کرتے ہیں ۔
برسبیل تذکرہ ہمارے دوست منور عالم کا تذکرہ ضروری ہے جنہوں نے اس طرح کے مسائل کو سماج اور دنیا کے سامنے پیش کرکے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ۔آئندہ بھی اسی نہج پر ہماری ٹیم کاکام جاری رہے گا ۔ملت ٹائمز کے پلیٹ فارم سے سماج کے ایسے مسائل کو پابندی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا جسے نظر انداز کردیاجاتاہے ۔مین اسٹریم میڈیا میں جگہ نہیں دی جاتی ہے یا پھر جان بوجھ کر پردہ ڈالنے کی کوشش ہوتی ہے ۔
(مضمون نگار ملت ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں )
stqasmi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *