مسجد مقدمہ کی سماعت 10جنوری سے باقاعدہ شروع ہوگی سپریم کورٹ میں آج مسلم پرسنل لا بورڈ کے تمام سینئر وکلا اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ موجود رہے

مسجد مقدمہ کی سماعت 10جنوری سے باقاعدہ شروع ہوگی سپریم کورٹ میں آج مسلم پرسنل لا بورڈ کے تمام سینئر وکلا اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ موجود رہے

 مسجد مقدمہ کی سماعت 10جنوری سے باقاعدہ شروع ہوگی
سپریم کورٹ میں آج مسلم پرسنل لا بورڈ کے تمام سینئر وکلا اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ موجود رہے
نئی دہلی: (پریس ریلیز ) سپریم کورٹ نے آج اپنے مختصر آرڈر میں کہا کہ بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی باضابطہ سنوائی 10جنوری سے متعلقہ نئی بنچ کے سامنے ہوگی۔
آج یہ معاملہ سماعت کے لئے لایا گیا تو اس وقت کورٹ میں مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیت علما کے وکلا موجود تھے۔ اس کے علاوہ فریق مخالف کے بھی تمام سینیر وکلا موجود تھے۔ بورڈ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون، ایڈوکیٹ محترمہ میناکشی ارورہ کے علاوہ بورڈ کے سیکریٹری اور لکھنو ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی، ایڈوکیٹ آن رکارڈ جناب شکیل احمد سید، جناب اعجاز مقبول، جناب آر شمشاد اور بورڈ کی بابری مسجد کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کورٹ میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ جمعیت علما کے سینئر ایڈوکیٹ راجیو ایم رام چندرن بھی عدالت میں موجود تھے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے جس کی قیادت چیف جسٹس رنجن گوگوئی کر رہے تھے اس سے قبل اس درخواست کو مسترد کردیا تھا جس میں فوری سنوائی کی درخواست کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ یہ کیس ٹائٹل سوٹ ہے لہذا اس کا فیصلہ ٹائٹل سوٹ سے متعلق شواہد پر ہوگا نہ کہ عقیدہ اور آستھا کی بنیاد پر ۔مسلمانوں کی طرف سے7 مقدمہ ہیں جس میں سے 6 مقدموں کی پیروی مسلم پرسنل لا بورڈ اور ایک مقدمہ کی پیروی جمعیت علما کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ کی آج کی کاروائی پر بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ کورٹ نے جلد سماعت کی تاریخ دے کر شرپسندوں کا منھ بند کر دیا ہے۔ ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے آج کی کاروائی پر کہا کہ اب ہندو فرقہ پرستوں کو اشتعال انگیز بیانات دینے سے
پرہیز کرنا چاہئے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ کا فیصلہ جسے اس مقدمہ میں چیلنج کیا گیا ہے وہ چھ ہزار صفحات پر مشتمل اور ہزاروں دستا ویز پر مبنی ہے۔
مقدمہ میں 12فریق ہیں لہذا مقدمہ کو فطری رفتار سے ہی چلنا چاہئے تاکہ تمام پہلووں پر سیر حاصل بحث ہو سکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *