سیاسی بالادستی کیلئے مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹیاں ضرروی

سیاسی بالادستی کیلئے مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹیاں ضرروی

خبر در خبر(604)

شمس تبریز قاسمی 

ہندوستان میں کانگریس اور مسلمانوں کا رشتہ چولی دامن کا ساتھ سمجھا جاتا ہے ۔ آزادی سے پہلے اور 1947 کے بعد سے اب تک مسلمان کانگریس کی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں ۔ مسلمانوں نے ہمیشہ کانگریس پر اعتماد ،بھروسہ اور اعتبار کیاہے۔کسی مطالبہ، مفاد اور شرط کے بغیر اقتدار سونپنے کا کام کیاہے ۔ کانگریس کے بعد سیکولرزم کے نام پر تشکیل پانے والی دیگر علاقائی پارٹیوں کی بھی مسلمانوں نے غیر مشروط طور پر حمایت کی ہے۔ آزاد ہندوستان کے سترسالوں کی تاریخ میں یہ بات بھی سب سے اہم ہے کہ مسلمانوں نے اپنی قیادت کے بجائے کسی سیکولر قیادت کی ہی حمایت کی ہے ۔ان کے ماتحت رہ کر سیاست کی ہے ۔ اپنی آزاد قیادت اور سیاسی پلیٹ فارم پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ کچھ مسلمانوں نے کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیوں کی طرح سیاسی پلیٹ فارم تشکیل دیکر سیاست کی ہے تو اس کی مخالفت خود مسلمانوں نے سب سے پہلی کی ہے۔ کانگریس اور برداران وطن کی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ کسی بھی ایسی سیکولر پارٹی پر مسلمانوں نے بھروسہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے جس کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔اگر ملی قیادت، مذہبی رہنما کے سامنے اس طرح کے مسئلے اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کی حمایت کرنے کا مطالبہ ہوتاہے تو وہ اس کیلئے مسلم سیاسی قائدین میں خلفاء راشدین کے اوصاف تلاشتے ہیں اور پھر سرے سے مسترد کردیتے ہیں ۔

 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد 17 فیصد ہے ۔ جمہوریت میں ووٹرس کی اتنی بڑی تعداد بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔اوبی سی اور دیگر ذاتوں سے تعلق رکھنے والوں نے اس سے بھی کم ووٹرس کی بنیاد پر اپنی علاحدہ پارٹی تشکیل دی ۔ مسلمان سمیت سبھی ذات اور مذہب کے لوگوں کو انہوں نے شامل کیا اور حکومت میں براہ راست شرکت کی ،اپنی حکومت بنائی، کئی ریاستوں میں اب ان کی حکومت ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی جیسی قومی پارٹیوں کا اب وہاں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے ۔

 جمہوریت میں مخلوط حکومت سب سے اہم ہوتی ہے ۔سیکولرزم کی مضبوطی اور جمہوریت کی کامیابی کیلئے مخلوط حکومت ضروری ہے ۔ علاقائی پارٹیوں نے اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے ہندوستان میں ترقی کی ہے ۔ اپنی کمیونٹی کے ووٹس کی بنیاد پر پارٹی قائم کی ہے اور سرکار پر دباؤ ڈال کر اپنی کمیونٹی کے فلاح و بہبود کا کام کیاہے ۔ تازہ مثال مدھیہ پردیش کی ہے جہاں کانگریس کی حکومت کو بی ایس پی کے دو امیدواروں کی حمایت حاصل ہے ۔ یہ حمایت نہ ملنے کی صورت میں کانگریس وہاں اکثریت ثابت کرنے میں ناکام ہوجائے گی ۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد کانگریس سے مطالبہ کیا دلتوں پر درج تمام مقدمات واپس لئے جائیں ورنہ ہم حمایت واپس لے لیں گے ۔ کانگریس کی کمل ناتھ حکومت کو یہ دباؤ قبول کرتے ہوئے مقدمہ واپس لینا پڑا کیوں کہ اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتے تو حکومت برقرار نہیں رہ پاتی ۔ دلتوں کو یہ کامیابی اس لئے ملی کہ ان کی علاحدہ پارٹی تھی کانگریس کے ٹکٹ پر انہوں نے جیت حاصل نہیں کی تھی ۔ کانگریس میں رہتے ہوئے دس ایم ایل اے بھی اپنی پارٹی سے یہ مطالبہ منظور نہیں کراسکتے تھے ۔

گذشتہ پندرہ بیس سالوں کے دوران ہندوستان کے کچھ علاقوں میں مسلم رہنماؤں نے اپنی سیاسی پارٹی تشکیل دیکر علاقائی سطح پر ایک پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ سماجی، رفاہی اور دیگر کاموں کی وجہ سے اب وہ عوام میں مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔ ایسی پارٹیوں کی فہرست میں آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ سر فہرست ہے جو آسام میں ایک مرتبہ اپوزیشن پارٹی کا روال ادا کرچکی ہے ۔ 2014 کے لوک سبھا میں آسام کی 14 سیٹوں میں سے 3 سیٹوں پر جیت حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ۔ کانگریس بھی تین ٹکٹ پر ہی محدود رہی اور ا ب آسام میں کانگریس اور یو ڈی ایف کی حیثیت برابر ہے ۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی ) بھی بہت مضبوط ہوچکی ہے۔ بطور خاص کرناٹک ، کیرالا ، ٹمل ناڈو اور راجستھان میں زمینی سطح پر یہ پارٹی مضبوط ہوچکی ہے ۔ احتجاجی سیاست اور زمین سے جڑے مسائل کو اٹھانے کیلئے ایس ڈی پی آئی سب سے متحرک پارٹی مانی جاتی ہے ۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا بھی رفتہ رفتہ عوام میں پہچان بنارہی ہے ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اب حیدر آباد سے نکل کر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مضبوط ہوچکی ہے ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے ساتھ ایم آئی ایم کی حکومت قابل تقلید مثال ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو اب اسے سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی پالیسی طے کرنے کی ضرروت ہے ۔

مسلم قیادت والی ان پارٹیوں کا ایجنڈا ہے کہ ہم کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیوں کا حصہ بننے کے بجائے اپنی پارٹی کی شناخت کے ساتھ اتحاد کریں۔ ان کے ٹکٹ سے مسلم امیدوار اتارنے کے بجائے اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر امیدوار اتاریں اور سیکولر پارٹیاں ہمارے ساتھ اتحاد کرے۔ حکومت میں ہم حصہ دار رہیں نہ کے احسان مند رہیں ۔

کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیوں کو یہ نظریہ اور ایجنڈا منظور نہیں ہے ۔ پانچ فیصد ہوکر یہ لوگ 17 فیصد مسلمانوں کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں اور جب کوئی مسلم ایسی کوشش کرتاہے تو سبھی متحدہوکر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ کسی بھی حدتک جانے سے گریز نہیں کرتے ہیں ۔

عام انتخابات 2019 کی مثال ہمارے سامنے ہیں جہاں کانگریس اور دیگر علاقائی سیکولر پارٹیوں نے متعدد نوزائیدہ اور غیر اثر رسوخ والی پارٹیوں کو اپنے اتحاد میں شامل کرلیاہے ۔صرف اور صرف ان پارٹیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جس کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے ۔ بہار میں جتنا مکیش سہنی اور مانجھی کی پارٹی کا اثر رسوخ ہے اس سے دس گنا زیادہ ایس ڈی پی آئی کا کرناٹک ، تمل ناڈو ، کیرالا اور راجستھان میں اثر رسوخ ہے لیکن اسے کانگریس نے اتحاد میں شامل نہیں کیا ۔ یو ڈی ایف کے آسام میں تین ایم پی ہیں اس کے باوجود کانگریس نے ان کی پیشکش کو ٹھکرادیا ۔ مہاگٹھبندھن نے کئی پارٹیوں کو اتحاد میں شامل کیا ہے ، کئی پارٹیوں کیلئے ایک سیٹ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے، صرف ایم آئی ایم کو نظر انداز کیا ہے جو گذشتہ چار سالوں سے بہار کے سیمانچل میں فعال ہے اور اس کے ٹکٹ پر کشن گنج لوک سبھا میں اختر الایمان مضبوط امیدوار بن چکے ہیں۔ کانگریس اور آر جے ڈی اگر چاہتی تو کم ازکم یہاں پر اپنے امیدوار کو اتار نے سے روک سکتی تھی ۔ ان کی یہ قربانی بھی اہم ہے کہ 2014 میں انہوں نے جدیو کے ٹکٹ پر میدان میں آنے کے باوجود دعویداری واپس لے لی اور کانگریس کی حمایت کرکے مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی جیت میں اپنا کردار اداکیا ۔

ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے ۔ آر ایس ایس کی مضبوطی کانگریس کی دین ہے ۔ دسیوں فساد اور بابری مسجد انہدام کیلئے کانگریس ذمہ دار ہے ۔ سچائی یہ ہے کہ 1980 کے بعد جب ہندتوا کے نام پر سیاست کرکے بی جے پی نے ہندووں ووٹوں پر اپنا قبضہ جمالیا ہے تو کانگریس نے پینترا بدلتے ہوئے آئین کے خاتمہ اور ہندو راشٹر کا خوف دلاکر مسلم ووٹوں کو حاصل کرنا شروع کردیا ہے ۔ مسلمانوں کو اس خوف اور دہشت کے ماحول سے نکلنا ہوگا۔ اپنی سیاسی شناخت بنانی ہوگی اور پارلیمنٹ میں ایسے نمائندوں کو بھیجنا ہوگا جو پارٹی ٹائم لائن کی قید سے آزاد ہوں ۔ ان کی زبان پر کسی کا تالا نہ لگا ہو ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *