دو بڑوں کی ملاقات

دو بڑوں کی ملاقات

قاسم سید 

جنگ آزادی میں عظیم قربانیوں کی جگمگاتی تاریخ کی حامل ہندوستان کی سب سے قدیم اور منظم مذہبی تنظیم جمعیۃ علما ئے ہند کے صدر اور بزرگ رہنما مولانا ارشد مدنی اور ہندوتو کی ملک کی سب سے بڑی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے درمیان ملاقات غیرمتوقع اور چونکانے والی نہیں ہے۔ مسلم تنظیمیں موجودہ حکومت کے مسلمانوں کے تئیں رویے، مخصوص نظریہ اور اس کے عملی مظاہر کو دیکھ کر اس بات پر کچھ عرصہ سے غوروخوض کر رہی تھیں کہ صورت حال کی بڑھتی سنگینی اور قومی وملی مصالح کے مدنطر کیوں نہ آر ایس ایس کے چوٹی کے لیڈر وں کے ساتھ ملاقات و گفتگو کی جائے تاکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت منافرت و تعصب کی خلیج کو بڑھایا جارہا ہے ۔ ایک دوسرے پر شبہ کرنے اور عدم اعتماد کی فضالب اور زہر یلا کیا جارہا ہے اسے ختم کیا جائے۔ہندومسلم ڈائیلاگ کا راستہ نکلےمگر عوام کے موڈ کے سبب قطعی فیصلہ لینے میں ہچکچا رہی تھیں۔

مولانا ارشد مدنی سے کوئی کتنا اختلاف کرے مگر ان کی نیت‘ اخلاص اور جرأت پر کسی کو کلام نہیں ہے وہ جو کرتے ہیں ببانگ دہل کرتے ہیں اس میں اگر مگر کی گنجائش اور سیاسی پینترے بازی نہیں ہوتی۔ انہوں نے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار بے قصور نوجوانوں کی رہائی میں آگے بڑھ کر جو کام کیا ہے اس نے مولانا مدنی کے تئیں محبت‘ اعتماد اور وقار کے جذبات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ یقینی طور پر اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بات چیت کے دروازے بند کرنے اور بلاوے کا انتظار کرنے سے نقصان تو ہوسکتا ہے فائدہ کچھ نہیں ہوگا۔ جب اس کے لئے راہیں ہموار ہوئیں اور دونوں فریق ایک میز پر بیٹھ کر گفت و شنید کے لئے تیار ہوگئے تو یہ خبر تاریخ کا حصہ بن گئی۔ اس کے مضمرات و نتائج پر فی الحال کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا لیکن مولانا مدنی نے جو پیش قدمی کی ہے ان قدموں کے نشاں پر دوسروں کو آگے بڑھنے کی ہمت و جرأت ہوگی۔ ان کالموں میں بارہا اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ سرکار اور پارٹی کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ لیکن گذشتہ پانچ سالوں کے درمیان مسلم قیادت کے سواد اعظم نے یہ طے کرلیا تھا کہ ہمیں کوئی ربط ضبط نہیں رکھنا اور نہ ہی مذاکرات یا گفت و شنید کا کوئی روشندان کھولیں گے حالانکہ کئی ایسے موقع آئے جب اس عہد کو توڑ ا گیا اور کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کر وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے پہلے دور حکومت میں ملاقات کی ۔ وگیان بھون میں پروگرام بھی ہوا اس وقت بعض حلقوں نے بہت شور و غوغا کیا اور طوفان کھڑا کردیا مگر آج وہی لوگ اس ملاقات کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور مثبت نتائج کی امید بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اپنے موقف کی کمزوری اور غیر دوراندیشانہ عمل کا احساس ہوگیا ہے اور وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے سماج میں ہندو مسلم منافرت کی جمی کائی کو صاف کرنے کے لئے پیش قدمی کرنی ہوگی ۔ اس ملاقات میں بھلے ہی تاخیر ہوگئی ہو لیکن ماضی کو رونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مولانا ارشد مدنی پر قوم کو اعتماد ہے کہ وہ جو کچھ کریں گے صحیح کریں گے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ مولانا مدنی کے کانگریس ہو یا سماج وادی پارٹی سب کی اعلی قیادت سے خوشگوار تعلقات ہیں اور ان حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ جمعیۃ علما کی یہی خوبی ہے کہ وہ سیاست سے الگ رہ کر بھی سیاسی طور پر خود کو مضبوط و مستحکم رکھنے میں کامیاب رہی ہے اس کے افراد وزیر اور ممبر پارلیمنٹ بنتےرہے ہیں وہ خود عملا حصہ نہیں لیتی مگر اس کے افراد پر کسی بھی سیکولر پارٹی کا پرچم اٹھانے کی مکمل آزادی ہے۔ وہ فلاحی و مذہبی تنظیم ہے اور کار خیر می لگی رہتی ہے۔ دونوں جمعیۃ سماجی ورفاہی کاموں میں پیش پیش رہتی ہیں ان کے مریدین اور متبعین کا حلقہ بہت وسیع ہے اس کے پاس افرادی قوت ہے اور مالی وسائل بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھاگوت سے کسی اور نے ملاقات کی ہوتی تو اس وقت ملک میں بحثوں کا بازار گرم ہوتا۔ کیا کیا تبصرے ہو رہے ہوتے۔ ملاقات کرنے والے کا شجرہ نسب تلاش ہوتا اور ملاقات کے اغراض و مقاصد دور بین لے کر تلاش کئے جاتے۔ ظاہر ہے یہ رویہ بچکانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ ہر شخص میں کیڑے تلاش کرنے کی عادت زوال پذیر کمیونٹی کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔ مولانا مدنی کی ملاقات کا کم وبیش ہر حلقہ نے خیر مقدم کیا ہے یا پھر خاموشی اختیار کی ہے۔ تحفظات رکھنے والے بھی بہت کم ہیں۔

یہ ملاقات ان لوگوں کے لئے مایوس کن اور شک وشبہات سے پرہوگی جو نہیں چاہتے کہ ماحول خوشگوار ہو جو فرقہ پرستی کا چولاپہن کر فرقہ واریت اور نفرت کی بارودی سرنگیں بچھانے میں لگے ہیں۔ جو امن چاہتے ہیں ان کے لئے یہ اچھی خبر بن کر آئی ہے اور مثبت پہل مانی جارہی ہے۔ مولانا ارشد مدنی کو تمام حلقوں میں محبت و احترام حاصل ہے۔ ان کی شخصیت ہمہ پہلو ہے اورجب سے انہوں نے جمعیۃ کی کمان سنبھالی ہے جمعیۃ میں کافی فرق اور تبدیلی محسوس کی جارہی ہےامید کی جانی چاہئے کہ جس طرح یہ ملاقات تاریخی ہے اس کے نتائج بھی مثبت اور تاریخی ہوں اور قوم کے اعتماد پر کھرے اتریں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *