میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا!

میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا!

حبیب اللہ ہاشمی
راحت اندوری جیسے عظیم شاعر جس کے قلم کی ایک جنبش ارباب اقتدار میں ہلچل پیدا کردیتی تھی، جس کا ایک مصرع افسردہ دلوں کے تسکین کا ساماں ہوا کرتا تھا، جس کا منفرد لہجہ جرات اظہار کا نمونہ ہوتا تھا، جس کے کلام میں شائستگی اور شگفتگی ایسی کہ بے قرار دل کو قرار آجائے، ایسے سخنور کے لیے کچھ لکھنا یا بولنا سورج کو چراغ دکھانے کے مصداق ہوگا۔ مگر چوں کہ بڑے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی روایت ہے، سو میں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بننے کے لیے چند بے ربط جملے لکھ کر اس عظیم شاعر کے تئیں اپنی محبت کا نذرانہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
راحت کی شاعری نئی نسل کے لیے مشعل راہ تھی، راحت اندوری کو درجنوں مرتبہ اسٹیج پر سننے موقع ملا ،وہ غضب کے شاعر تھے ، سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر جانتا تھا، بات چاہے کتنی تلخ ہو، وہ خوش اسلوبی سے ادا کرنے پر مکمل قدرت رکھتے تھے۔
راحت کا یہ شعر :
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ
گیلی زمین کھود کر فرہاد ہو گئے
میرے ذہن میں تبھی سے پیوست ہے جب میں نے کئی سال قبل اسے پہلی بار انہی کی زبانی سنا تھا۔
زندگی کے نشیب و فراز اور تنگی و ترشی کے باوجود کبھی ان کے پائے استقامت میں لرزش نہیں آئی؛ بلکہ ہر موڑپر جرات کا مظاہرہ کیا ۔ حق گوئی اور بے باکی ان کے فن میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی – ایمرجینسی جیسے سخت اور مشکل ترین دور میں بھی راحت نے راحت کی سانس نہیں لی ؛بلکہ ارباب اقتدار سے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کی۔ ملک میں رونما ہونے والے حادثات سے وہ کبھی دل براداشتہ نہ ہوتے؛ بلکہ پہلے سے اور زیادہ قوت وجرات کا اظہار کرتے:
سبھی کا خونہ ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
اس طرح کی بے شمار شاعری راحت کے خزانے میں ملے گی۔
راحت ایک ایسے انقلابی شاعر تھے جن کی شاعری آنے والی نسلوں میں اعتماد پیدا کرے گی۔ راحت نے اردو غزل کو وقار عطا کیا ،انہوں نے اردو شاعر ی کو نئی سمت دی۔
ذیل میں اپنی یاد داشت سے ان کے چند اشعارپیش ہیں، جو راحت مرحوم کی تخلیقی صلاحیتوں کی جیتی جاگتی مثال ہیں:
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر
جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئے
میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے

خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر
جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے

دوستی جب کسی سے کی جائے
دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں
روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے

شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم
آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے

گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا
گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے

مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے
مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

میں آ کر دشمنوں میں بس گیا ہوں
یہاں ہمدرد ہیں دو چار میرے

میں آخر کون سا موسم تمہارے نام کر دیتا
یہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جلدی تھی

میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا
اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے
نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا
ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا
میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا

کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیے
چاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہے

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن
دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *