عمر خالد اور دیگر سماجی کارکنان و طلبہ لیڈر کی گرفتاری کے پس پردہ میسیج کیا ہے ؟

عمر خالد اور دیگر سماجی کارکنان و طلبہ لیڈر کی گرفتاری کے پس پردہ میسیج کیا ہے ؟

خبر د ر خبر (556)
شمس تبریز قاسمی
عمر خالد کو دلی پولس نے دلی فساد کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی ایک لمبی لسٹ ہے اسٹوڈینٹس اور اکٹویسٹ کی جنہیں پولس نے فساد کا ذمہ دار قرار دیکرجیل میں بند کر رکھا ہے ۔یہ سب وہ ہیں جو سی اے اے مخالف پروٹیسٹ میں نمایاں چہرہ تھے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا لیکن ان لوگوں کا اب کوئی چرچا نہیں ہے ۔ ان کی گرفتاری کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے ۔ معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو پر بھی دلی فساد کرانے کا الزام ہے دوسری طرف وہ شروع سے جانچ پر یہ کہتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ دلی پولس فساد کیلئے سازش رچنے والوں کی جانچ کررہی ہے یا جانچ میں سازش کررہی ہے ؟
رات کے ایک بج رہے تھے ۔ تاریخ 13ستمبر سے بدل کر 14 ستمبر ہوچکی تھی ۔ اس وقت موبائل پر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کا ایک مسیج آیا ۔ میرے بیٹے عمر خالد کو دہلی پولس یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتار کرلیا ہے ۔ عمر خالد پر دہلی فساد کیلئے سازش رچنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ مسیج انہوں نے ٹوئٹ بھی کیا اور دنیا بھر کی میڈیا میں یہ خبر آگئی ۔ عمر خالد سے دہلی فساد کے بارے میں اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ تفتیش ہوچکی ہے ۔ ایک مہینہ پہلے ہی دہلی پولس نے اپنی چارج شیٹ میں عمر خالد کا نام شامل کردیا تھا ۔
عمر خالد کے خلاف داخل ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ “خالد نے دو الگ الگ مقامات پر اشتعال انگیز بیان دیئے اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سفر کے دوران سڑکوں پر آئیں اور رکاوٹ پیدا کریں تاکہ بین الاقوامی سطح پر تشہیر کیا جا سکے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کو کس طرح ستایا جا رہا ہے۔”اس درمیان عمر خالد کا ایک پرانا ویڈیو بہت تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ تشدد کے خلاف اور امن کے ساتھ احتجاج کی بات کر رہے ہیں۔
اسی الزام میں اس سے پہلے دہلی پولس میران حیدر کو گرفتار کرچکی ہے اور ابھی تک وہ جیل میں ہی ہے ۔ میران حیدر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کے اسٹوڈنٹ تھے۔ سی اے اے مخالف پروٹیسٹ میں آگے آگے تھے اور جامعہ کورآڈنیشن کمیٹی کے اہم رکن تھے ۔ دہلی فساد کے بعد ریلیف کا کام شروع کردیا لیکن پولس نے یو اے پی اے کے تحت گرفتار کرلیا ۔ میران حیدر راشٹریہ دل جنتادل کی دہلی یونٹ میں یوتھ کے صدر بھی تھے ۔ لوگوں کو شکایت ہے کہ ابھی تک تیجسوی یادو اور آر جے ڈی کی لیڈر شپ نے میران حیدر کی رہائی کیلئے کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔
میران حیدر کے ساتھ صفورا زر گر کی بھی یو اے پی اے یکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی تھی ۔صفورا جامعہ کوڈرنیشن کمیٹی میں میڈیا انچارج تھی ۔ دو مہینہ پہلے ہیومن رائٹس کی بنیاد پر اسے بیل مل گئی ہے لیکن الزامات ابھی بھی برقرار ہیں ۔
26 فروری کو دہلی پولس نے عشرت جہاں کو گرفتار کرلیا اور یو اے پی اے ایکٹ لگا دیا گیا ۔ ان پر دہلی فساد کرانے کا سنگین الزام ہے۔ عشرت جہاں کانگریس کی کونسلر بھی رہ چکی ہے ۔ دہلی کے کھجوری میں انہوں نے شاہین با غ کی طرز پر ایک پروٹیسٹ شروع کیاتھا ۔ اسی تاریخ میں دہلی پولس نے یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے فاؤنڈر ممبر خالد سیفی کو بھی گرفتار کیا اور یو اے پی اے ایکٹ لگادیا ۔ خالد سیفی پر بھی دہلی فساد کی سازش رچنے کا الزام ہے ۔ آصف اقبال تنہا ۔ گلفشاں، ناتا شاہ جیسے کئی نام ہیں جو سی اے اے پروٹیسٹ میں قیاد ت کررہے تھے انہیں دہلی فساد کیلئے سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے اور سبھی پر یو اے پی ا ے ایکٹ لگایا گیا ہے ۔
اس کے علاوہ سی اے اے پروٹیسٹ کے دوران فعال اور متحرک رہنے والے ڈاکٹر کفیل خان ۔شرجیل امام ۔ شرجیل عثمانی ۔ فرحان زبیری ۔ دیوانگنا ۔ مولانا طاہر مدنی سمیت کئی لوگوں کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ۔ ان میں سے کچھ کو بیل پر رہائی مل چکی ہے اور کچھ ابھی بھی جیل میں ہیں ۔
اسی سال 24 ۔ 25 اور 26 فروری کو دہلی کے نارتھ ایسٹ میں فساد ہوا تھا ۔مصطفی آباد ۔ شیو وہار ، چاند باغ ۔ سیلم پور ، کردم پوری سمیت پورا علاقہ فساد کی زد میں تھا ۔ 24 فروری کی صبح یہ فساد شروع ہوا اور 26 فروری تک سلسلہ چلتا رہا ہے ۔کسی نے اس فساد کور وکنے کی کوشش نہیں کی ۔ دلی کے چیف منسٹر اروند کیجریوال فساد رکوانے کے بجائے گاندھی کی قبر پر چلے گئے ۔ ہوم منسٹر صاحب نے بھی فوری ایکشن نہیں لیا ۔ میڈیا میں بھی اس فساد کو کوئی کوریج نہیں ملا ۔ 26 فروری کو دو پہر کے بعد وہاں فوج بھیجی گئی ۔ نیشنل سیکوریٹی ایڈوائزاجیت ڈوال گئے ۔ اس کے بعد فساد کا سلسلہ رک گیا ۔ اس فساد میں 53 لوگوں کی موت ہوگئی۔500 سے زیادہ زخمی ہوئے ۔ مرنے والوں میں تقریباً 439 مسلمان تھے بقیہ دوسرے تھے ۔
جانی نقصان کے ساتھ اس فساد میں مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ۔ شیوہار میں مسلمانوں کا گھر ایک ایک کرکے لوٹ لیاگیا ۔ سب کو تباہ اور برباد کردیا گیا ۔ مصطفی آباد ، چاند باغ سمیت سبھی علاقوں میں باہر کی دکانوں اور گھروں کو فسادیوں نے جلادیا ۔ لوٹ لیا ۔ اس فساد میں تقریباً 18 مسجدوں کو بھی نقصان پہونچا ۔ 8 مسجدوں کو تو اس طرح نقصان پہنچایا گیا جیسے اسے بم سے اڑا دیا گیا ہے ۔ خوفناک اور ڈراؤنا منظر تھا ۔ فساد کے دوران پچاس کے قریب پولس اہلکار بھی زخمی ہوئے اور ایک آئی بی افسر انکت شرما کی لاش بھی ملی جن کے جسم پر چاقو کے کئی سارے نشانات تھے اور بے دردی سے مارا گیا تھا ۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے اس فساد کیلئے سی اے اے مخالفین کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ مارچ کے شروع میں انہوں نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ سی اے اے احتجاج ہی اس فساد کی وجہ ہے ۔ عمر خالد ۔ یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ وغیرہ کا انہوں نے اشاروں میں تذکرہ بھی کیا ۔ دوسری طرف سوشل اکٹویسٹ ، سی اے اے مخالفین ، سماجی کارکنا اور اپوزیشن لیڈروں کا ماننا ہے کہ یہ فساد بجرنگ دل اور شدت پسند ہندو تنظیموں نے کرایا ۔حکومت اور پولس اس کیلئے ذمہ دارہے ۔ سبھی کا ماننا ہے کہ اس فساد کا ماسٹر مائنڈ کپل مشرا ہے ۔ بی جے پی کے ایک اور وزیر انوراگ ٹھاکر کی بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی لیکن ابھی تک ان لوگوں کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔
سوشل میڈیا پر کپل مشرا کی ویڈیو شروع سے لگاتار وائرل ہورہی ہے ۔ 23 فروری کی یہ ویڈیو ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ اسی ویڈیو کے بعد فساد بھڑکا ۔پولس کے سامنے یہ بیان دیا گیا لیکن ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔
دہلی فساد کیلئے سازش رچنے ، فساد کرانے اور اس میں ملوث ہونے کے بنیاد پر جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی لمبی فہرست ہے ۔ اب تک مکمل ڈیٹا سامنے نہیں آسکاہے نہ بتایا جارہا ہے ۔ جن لوگوں کا نام اب تک سامنے آیا ہے ۔ یہ سب وہ چہرے ہیں جو سی اے اے پروٹیسٹ میں اکٹیو تھے۔ دہلی پولس نے اپنی چارج شیٹ میں اب کئی معروف اور سماجی شخصیات کا بھی نام شامل کردیا ہے جنہوں نے سی اے اے پروٹیسٹ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور ان کا ساتھ دیا ۔
سی پی ایم کے لیڈر سیتارام یچوری، سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچہ، سوراج ابھیان کے سربراہ یوگیندر یادو، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند۔ ماہر اقصادیات جیتی گھوش، فلم ساز راہل وغیرہ کا نام بھی شامل ہے ۔
عمر خالد کی گرفتاری کے خلاف مذمت اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ پروفیسر اپوروانند ، مشہور اکٹویسٹ تیستا ستیلواڑ ، ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن اور ہرش مندر جیسی 12 ہستیوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے عمر خالد کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ “پرامن سی اے اے مخالف مظاہروں کو نشانہ بنا کر کی گئی بدنیتی پر مبنی جانچ کے تحت عمر خالد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف یو اے پی اے، ملک سے غداری اور سازش سمیت کئی الزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
گہرے دکھ کے ساتھ ہمیں یہ کہنے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ جانچ قومی راجدھانی میں فروری 2020 میں ہوئے تشدد کے بارے میں نہیں ہے بلکہ غیر آئینی سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں پوری طرح سے پرامن اور جمہوری طریقے سے ہوئے مظاہروں کو لے کر ہے۔ “پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری انیس احمد نے بھی اس گرفتاری کی سخت تنقید کی ہے ۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے بھی ٹوئٹ کرکے اس گرفتار ی کو کنڈم کیا ہے۔
عمر خالد کے والد ڈاکٹرقاسم رسول الیا س آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی مجلس عاملہ کے ممبر ہیں ۔ اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ہیں ۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے لیٹر ہیڈ پر ایک بیان جاری کیا ہے ۔
دہلی فساد مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا۔ اگر دہلی پولیس نے ایماندارانہ کردار ادا کیا ہوتا تو دہلی فساد ہوتا ہی نہیں۔ سیکڑوں گھر نذر آتش ہونے کے بعد اور 53 جانیں جانے کے بعدجس طبقے کے خلاف فساد کی سازش کی گئی تھی اسی طبقہ کے لوگوں کی گرفتاریاں لگاتار چل رہی ہیں، تمام شواہدات کے باوجود کپل مشرا پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
پچھلی رات جے این یو کے سابق طلبہ لیڈرڈاکٹر عمر خالد کی گرفتاری بھی اسی سمت میں اشارہ کر رہی ہے کہ جس طرح خالد سیفی، میران حیدر، آصف اقبال تنہا وغیرہ کو بے قصور گرفتار کر کے الزام مڑھ دیئے گئے ہیں اسی طرح عمر خالد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ عمر خالد گاندھی اور امبیڈکر کی آئیڈیا لوجی کو فولو کر تے ہیں۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا ڈاکٹر عمر خالد کی گرفتاری کی پر زور مذمت کر تی ہے او اس ظلم کے خلاف آواز بلند کر نے کا اعلان کرتی ہے۔
عمر خالد کی گرفتاری کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ فساد کے مجرموں کو گرفتار کرنے اور اصل فسادیوں تک پہونچنے کے بجائے ان لوگو ں کو گرفتار کیا جارہا ہے جو ظلم کے خلاف آواز سمجھے جاتے ہیں ۔
stqasmi@gmail.com
(مضمون نگار ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹراور پریس کلب آف انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *