آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے

آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے

باپ ایک ایسا سایہ دار درخت ہوتا ہے جس کی پُر سکون چھاؤں میں دنیا کی تمام فکریں ماند رہتی ہیں، لیکن اس کے جانے کے بعد ۔۔۔
ڈاکٹر یامین انصاری
کہہ رہی ہے نوع انسانی سے یہ صبح ازل
باپ کے رشتہ کا کوئی بھی نہیں نعم البدل
خدا کا ایک کیسا تحفہ ، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ایک ایسی چھاؤں، جو ایک بار گئی تو دوبارہ آ نہیں سکتی۔ایک ایسا خلا، جو کوئی پُر نہیں کرسکتا۔ ایک ایسا نقصان ، جس کی تلافی ممکن نہیں،لیکن ’کُلُّ نَفْسٍ ذَائقۃ الْمَوْتِ‘۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس سے کوئی منہ نہیں موڑ سکتا۔ صرف انسان نہیں دنیا کی ہر شے کو ایک نہ ایک دن فنا ہونا ہے۔ یہ دنیا اور یہ زندگی یقیناً اِک عارضی ٹھکانہ ہے، مگرکچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی موت کا صدمہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے، یہ وہی جانتے ہیں، جو اس سانحہ سے گزرتے ہیں۔والدین کا رشتہ ان میں سرفہرست ہے۔ خصوصاً جب باپ کا سایہ اور دست شفقت ہمیشہ کے لئے سروں سے اٹھ جاتا ہے تو اس کرب کو کوئی اور محسوس نہیں کر سکتا۔ در اصل باپ ایک ایسا سایہ دار درخت ہوتا ہے جِس کی ٹھنڈک بھری پُر سکون چھاؤں میں دنیا کی تمام فکریں ماند رہتی ہیں۔ یہ چھاؤںہٹتے ہی دنیا کی سختیاں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔باپ کا وجود یقیناً بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے ایک سائبان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور جب یہ سائبان ہٹتا ہے تو پھر دور دور تک دنیاکی تپش بآسانی محسوس کی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں راقم الحروف بھی ایک ایسے ہی سانحہ سے گزرا ہے۔تقریباً ڈھائی سال کی طویل علالت کے بعد آخر کا ر میرے والد گرامی یکم اور۲؍ اکتوبر کی درمیانی شب بروز جمعہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔اللہ رب العزت اپنے حبیب پاک حضور نبی کریم ؐ کے صدقے میرے والد گرامی الحاج محمدہارون کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفعٰ مقام اور ان کو کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے ، آمین۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ایک نہ ایک دن ہر کسی کو اس دار فانی سے کوچ کرنا ہے، اس کے باوجود یقین اور صبر کرنا مشکل ہوتا ہے کہ سر سے والد کا سایہ اٹھ چکا ہے۔ اگر چہ والد گرامی نے اپنی علالت کے ڈھائی سال کے وقفہ میں بہت سی تکلیفیں برداشت کیں۔ ۱۲؍ مئی ۲۰۱۸ء کو ہوئے برین اسٹروک کےشکنجے سے وہ پوری طرح نکل نہیں سکے، لیکن پھر بھی ان کی شفقت، ان کی محبت، ان کی قربت اور ان کی خدمت ہمیشہ ہم سب اہل خانہ کو ہمت اور حوصلہ دیتی رہی۔ اب ان کے چلے جانے کے بعد بس ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارےسروں پر سایہ فگن ایک درخت کاٹ دیا گیا۔اس کے باوجود والد کی شفقت کا سایہ ہمیشہ محسوس ہوتا رہے گا۔ کیوں کہ؎
کہ جس کو تھام کے میں نے چلنا سیکھا تھا
کہ جس نے لڑکھڑانے پر مجھ کو سنبھالا تھا
کہ جس کی شفقت کا میرے سر پہ سایہ تھا
انہی ہاتھوں کی خوشبو کو میں ابھی محسوس کرتا ہوں
بہر حال، حقیقت تو یہی ہے کہ جانے والے کہاں لوٹ کے واپس آتے ہیں ۔ باپ اپنے آپ میں سراپا شفقت ہوتا ہے۔اگر ماں کی ممتا کا کوئی مقابلہ نہیں تو باپ کی محبت کا بھی کوئی نعم البدل نہیں ۔باپ اپنےبچوں کا ہیرواور ان کا آئیڈیل ہوتا ہے۔جو ابتداء ہی سے انہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے۔ زمین پر قدم جما کر کھڑے ہونا سکھاتا ہے، زندگی کے نشیب و فراز سے آگہی دیتا ہے۔نرم و گرم حالات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے، یہ بتاتا ہے۔ باپ کا پیار اور شفقت یقیناً عظیم نعمت ہے جس کا کوئی متبادل کوئی نہیں۔ باپ اگر مشفق اور ہر دُکھ درد کی دوا ہوتا ہے تو وہ ہماری زندگی کا حوصلہ اور ہمت بھی ہوتا ہے۔غرض یہ کہ والد کی محبت و شفقت ، عنایت و خدمت ،ہمت و محنت کو کسی تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ والد کی محبت اور شفقت کو بھلائے نہیں بھلایا جا سکتا۔ یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ بچوں کی کامیابی پر ان کی خوشی ہم سے دوبالا ہوتی ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ پروردگار کی طرف سے انسان کے لئے باپ ایک ایسا انمول تحفہ ہے جو ہر دکھ دردبرداشت کرکے اپنی اولاد سے وفا کرتا ہے۔یہ کائنات کا ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جو خاندانی نظام کی بنیاد اور اکائی ہوتا ہے۔ باپ خاندانی نظام میں رحمت و شفقت کا مظہر اور اولاد کے لئے تعلیم و تربیت اور تعمیر شخصیت کی اساس ہے ۔ بلاشبہ ماں باپ کی دعائیں ہم پر ہمیشہ سایہ کئے رہتی ہیں اور دنیا و آخرت میں کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام والدین بہت ہی مشکلات اور باد مخالف سے نبرد آزما ہوتے ہوئے زندگی کے ہر نئے موڑ پر مکمل رہنمائی اور بے لوث محبت کے ذریعے اپنے بچوں کو ان کی منزلوں تک پہنچاتے ہیں، ان کی محبت بالکل بے لوث ہوتی ہے۔ کیوں کہ ان کواپنے بچوں کی کامیابی سے حقیقی و دلی خوشی اور راحت جو ملتی ہے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ چاہے میرا حفظ قرآن مکمل کرنے کا لمحہ ہو، یا پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہونے کا موقع،یا کوئی ایواڈر یا اعزاز ملنا ہو، زندگی کے ہر موڑ پر جتنی خوشی و مسرت میں نے محسوس کی، اس سے کئی گنا زیادہ والد گرامی نے مجھے اپنی شادمانی کا احساس کرایا ۔ ؎
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا
میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں
یقیناً بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ کہ جن کو اپنی زندگی میں اپنے ماں باپ کی خدمت کا اللہ رب العزت نے موقع عطا کیا ہو۔ والد گرامی اپنی علالت کے دوران بہت سی تکالیف سے گزرے، لیکن جاتے جاتے اپنی خدمت کے ذریعہ ہم سب بھائیوں اور اہل خانہ کو جنت کا پروانہ دے گئے۔ پروردگار نے اتنی خاموشی سے والد گرامی کو اپنے پاس بلایا کہ اس جہان فانی سے کوچ کرتے وقت ہم لوگوں کو احساس تک نہیں ہونے دیا۔ اللہ رب العزت ان کی بخشش فرمائے اور کروٹ کروٹ سکون عطا کرے، آمین۔اللہ رب العزت نے والدین کی عظمت کا جابجا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان کی عظمت بیان فرماتے ہوئے تلقین کی ہے کہ ان کا ہر حکم بجا لاؤ سوائے اس حکم کے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور ان کے سامنے اف تک نہ کہو۔ ان کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔ بڑھاپے میں ان کا خیال رکھو۔ ان کی خدمت کرکے اپنے لیے حصول جنت کا راستہ ہموار کرو۔ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بددعا فرمائی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جو اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور ان کی خدمت کرکے جنت نہ حاصل کرسکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: آمین۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت نہ کرنا بالخصوص جب وہ بڑھاپے میں پہنچ جائیں کتنی بڑی بدنصیبی ہے۔ یقیناً باپ کی شفقت اور دعائوں کی حدت خاموش سمندر کی مانند ہوتی ہے، جس کی لہروں میں شدت پنہاں ہوتی ہے ۔آج ہم دنیا میں جو بھی کامیابیا ں حاصل کر رہے ہیں،زندگی کی گنگناہٹ اور خوشیوں کے سارے رنگ والدین کی بدولت ہی ممکن ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنی والدہ محترمہ کی وفات پر ماں کے حوالے سے اپنے جذبات اپنی ایک شہرۂ آفاق نظم’ والدہ محترمہ کی خدمت میں‘ میں قلم بند کئے ہیں، جو والدین کی محبت سے سرشار بچوں کی زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں ۔ ؎
حیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز سے
رُخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
yameen@inquilab.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *