اللہ نے نبوت اور صحابیت کا دروازہ بند کر ولایت کا دروازہ قیامت تک کیلئے کھول رکھا ہے: مفتی اظہار مکرم قاسمی

اللہ نے نبوت اور صحابیت کا دروازہ بند کر ولایت کا دروازہ قیامت تک کیلئے کھول رکھا ہے: مفتی اظہار مکرم قاسمی

جمعیۃ علماء شہر کے زیر اہتمام مدرسہ مفتاح القرآن گڑریا محال میں جلسہ عظمت اولیاء کا انعقاد

کانپور:۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ تقویٰ اختیار کرو، قرآن کا اصول یہ ہے کہ جب وہ انسانوں کو کسی کام کو کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس پر عمل کرنے کا آسان راستہ بھی بتا دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ محض کسی کام کا  حکم نہیں دیتے بلکہ ساتھ میں ہماری ضروریات، ہماری حاجتیں اور ہماری کمزوریوں کا احساس فرماکر ہمارے لئے آسان راستہ بھی بتاتے ہیں، اسی لئے تقویٰ اختیار کرنے کا انتہائی آسان راستہ بھی بتا دیا کہ سچے لوگوں کی صحبت اختیار کرو، یہ صحبت جب حاصل ہوگی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے اندر خود تقویٰ پیدا ہو جائے گا۔ مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے زیر اہتمام مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کی نگرانی میں چل رہے عظمت اولیاء کے پرواگرام کے تحت مدرسہ مفتاح القرآن گڑریا محال میں قاری مجیب اللہ عرفانی کی صدارت میں منعقد جلسہ عظمت اولیاء سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے ناظم اعلیٰ مفتی اظہار مکرم قاسمی نے کہا کہ جس طرح اگر کوئی شخص چاہے کہ میڈیکل سائنس کی کتاب پڑھ کر ڈاکٹر بن جاؤں پھر اس نے وہ کتاب پڑھ لی اور اس کو سمجھ بھی لیا اس کے بعد اس نے ڈاکٹری اور علاج شروع کر دیا تو سوائے قبرستان آباد کرنے کے وہ کوئی خدمت انجام نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ کسی ماہر ڈاکٹر کی صحبت اختیار نہ کرے، اس کے ساتھ کچھ مدت رہ کر کام نہ کرے، اس وقت تک وہ ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ یہی معاملہ دین کا ہے کہ صرف کتاب کسی انسان کو دینی رنگ میں ڈھالنے کیلئے کافی نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی معلم اور مربی اس کے ساتھ نہ ہو، اس واسطے انبیاء کرام ؑ کو بھیجا گیا، انبیاء کے بعد صحابہ کرامؓ کو یہ مرتبہ حاصل ہوا۔

صحابہؓ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبیؐ کی صحبت اٹھائی، انہوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ نبیؐ کی صحبت سے حاصل کیا۔ پھر اسی طرح تابعین نے صحابہؓ کی صحبت سے اور تبع تابعین نے تابعین کی صحبت سے حاصل کیا، اس لئے جو کچھ دین ہم تک پہنچا ہے وہ صحبت کے ذریعہ پہنچاہے۔ آج ہم پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی صحبت تو اختیار نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن آپؒ کی سیرت اور تعلیمات تو موجود ہیں اسے پڑھنے کے بعد سمجھ کر اسی فکر اور ان کی زندگی گزارنے کے مقصدکے مطابق اپنی زندگی ڈھال کر ہم بھی اللہ کے ولی بن سکتے ہیں۔ اس بات کوہمیشہ کیلئے یاد کر لیں نوجوانوں اور بچوں کے دماغ میں پیوست کر دیں کہ نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے بعد نبوت ؐ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہو چکا ہے، اب قیامت تک کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے، اب اگر کوئی خود کو نبی ہونے کا دعویٰ کر بھی دے تو وہ بہت بڑا جھوٹا اور فریبی تو ہو سکتا ہے لیکن نبی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اللہ نے نبوت کا دروازہ بند کر دیا اس کے ساتھ ہی ولایت کا دروازہ قیامت تک کیلئے کھول دیا ہے۔جب انسان دنیا میں رہ کر اللہ کی عبادت اور زندگی کے ہرموڑ اور موقع پر تمام کاموں میں نبی ؐ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنا قلبی تعلق قائم کرلیتا ہے تو پھر انسان سے گناہ بھی سرزد نہیں ہوتے،پھر انسان اللہ کی عبادت بھی اپنی بساط کے مطابق بہتر سے بہتر طریقے سے انجام دیتا ہے۔ اس کو اخلاق فاضلہ حاصل ہو جاتے ہیں اور اخلاق رذیلہ سے نجات مل جاتی ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ سے تعلق قائم کرنے پر حاصل ہوتی ہیں، اس لئے کہا گیا ہے کہ اے ایمان والوں اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور کثرت سے اس کا ذکر کیا کرو۔

مولانا سمیع اللہ جامعی نے فرمایا کہ اتبا ع سنت کے ذریعہ ہم بھی ولی بن سکتے ہیں، اولیاء کرام کے صدقے میں ہم سب کو اس ملک میں آج عزت نصیب ہوئی ہے اور اسی لئے آج ہم ان کے اوصاف کا ذکر کر رہے ہیں۔ مولانا فخر الدین ندوی امام مسجدہندوستان کمپاؤنڈ جاجمؤ نے بھی مختصر وقت میں جامع خطاب کیا۔ اس سے قبل جلسہ کا آغاز قاری مجیب اللہ عرفانی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں قاری عبد المعید چودھری، قاری صغیر احمد،مولانا ایاز احمد ثاقبی، مولانا ابو الحسن،حافظ فرقان، محمد شکیل، محمد طلحہ، محمد حنزلہ کے علاوہ مقامی عوام مو جود رہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *