جامعہ والا باغ 13 اور 15 دسمبر 2019

جامعہ والا باغ 13 اور 15 دسمبر 2019

سید انظر ہاشمی

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
(بروز جمعہ 13 دسمبر کو ٹِیرگیس کے گولے سے زخمی ہونے کے بعد الشفاء ہاسپٹل سے صحت یاب ہوکر سید انظر ہاشمی کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کی گیٹ نمبر 7 پر دیا گیا بیان).

میں زندہ ہوں اسلئے بول رہا ہوں
دنیا کسی گونگے کی کہانی نہیں لکھتی.
یا خدا میرے ملک کو ایسا نظام دے
ملا بجائے گھنٹی پنڈت اذان دے.
کچھ تو بھی بن انسان کچھ میں بنوں انسان
تو پڑھ لے گیتا میں پڑھوں تیرا قرآن.
ہمارا ملک ہمارا دیش ناگپور کے ایجنڈے سے نہیں سمبھیدان سے چلے گا. CAA NRC جیسے کالے قانون لا کر ہم ہندوستانیوں کو ڈرانے والوں ! کان کھول کر سن لو ! تیرے فیصلے سے ہمارے حوصلے ٹوٹے نہیں ہیں. ہم اب بھی زندہ ہیں اور سڑکوں پر ہیں.

نعرہ: سمبھیدان کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
گاندھی کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
نہرو کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
بابا صاحب کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
مولانا آزاد کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
اشفاق اللہ خان کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
جوہر کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
بھگت سنگھ کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
شیخ الہند کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
جامعہ کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
اے ایم یو کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
جے این یو کا یہ اپمان ….. نہیں سہے گا ہندوستان.
ڈی یو کا یہ اپمان….. نہیں سہے گا ہندوستان.
ساتھیوں ! مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ مودی اور امت ساہ کے ایڈوائزری بورڈ میں کس بیچ کے آئی اے ایس آفیسر ہیں جو اتنا گھٹیا مشورہ دیتے ہیں. کیا ان آفیسر کو یہ نہیں معلوم کہ CAA NRC سمبھیدان کی خلاف ہے ؟ کیا ان لوگوں نے سمبھیدان بالکل نہیں پڑھا ہے؟ مگر کان کھول کر سن لو ! ہم ایسے قانون سے نہ کل ڈرے تھے، نہ ڈرتے ہیں اور نہیں کبھی ڈریں گے. ہم یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں مریں گے اور یہیں کی مٹی میں دفن ہوں گے.
ساتھیوں! تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے. آج بھی سو سالہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے. 1920 میں جامعہ کی بنیاد عدم تعاون تحریک Non cooperative movement کے نتیجے میں پڑی. آج اسی جامعہ کے سپوت ملک اور سمبھیدان کی حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں. جامعہ اپنی ابتدا سے حق اور انسانیت کی بقا کی خاطر لڑائی لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے. لہذا جب سو سال بعد ملک اور ملک کے لوگوں کے لئے ایک کالا قانون لایا گیا تو اسی جامعہ کے لال نے اپنے سر پر کفن باندھ کر ملک اور سمبھیدان کی حفاظت کے لئے نکل پڑے ہیں۔
بروز جمعہ 13 دسمبر 2019 سے جامعہ ملیہ اسلامیہ پر ظلم و ستم کی شروعات ہوتی ہے جو 15 دسمبر کو جامعہ جلیاں والا باغ بن جاتاہے ۔
Citizenship Amendment Bill
وزیر داخلہ امت ساہ کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے. جسے 9 دسبمر کو لوک سبھا اور 11 دسمبر کو راجیہ سبھا سے پاس کر کے 12 دسمبر کو صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد ایک ایکٹ بنا دیا جاتا ہے. اس بل کے قانون بننے کے بعد پڑھے لکھے مسلم لوگوں میں اور چند سیکولر ہندؤں کھلبلی مچ گئی. 12 دسمبر کی شام میں ہم لوگوں نے جامعہ میں اسٹوڈنٹس میٹنگ رکھا. پھر اگلے دن جمعہ بعد JTA جامعہ ٹیچرس ایسوسیشن اور JSC جامعہ اسٹاف کمیٹی کے ساتھ ایک بینر تلے گیٹ نمبر 7 سے احتجاجی مارچ نکالا گیا. جامعہ کے گیٹ نمبر 1 پر اس مارچ کو دہلی پولیس نے لاٹھی ڈنڈے اور ٹِیرگیس کے گولوں کے ذریعے ختم کر دیا. پولیس کے اس حملے میں بہت سے اسٹوڈنٹس زخمی ہو گئے. میں بھی ٹِیرگیس کے گولے سے زخمی ہوگیا. پولیس کی اس بربریت اور CAA کے خلاف پھر سے 15 دسمبر کو احتجاج کیا گیا جس میں RSS کے گنڈے پولیس کے ساتھ مل کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائیبریری، ریڈنگ ہال اور ٹوائلٹ کے اندر گھس کر خوب توڑ پھوڑ کی اور اسٹوڈنٹس کے ہاتھ پاؤں توڑ دئیے اور آنکھ پھوڑ دئیے. ہزاروں اسٹوڈنٹس کو زخمی کر دئیے. 1919 میں جلیاں والا کانڈ ہوا اور 2019 میں جامعہ والا کانڈ ہوا، جامعہ والا اور جلیاں والا کانڈ میں کچھ فرق نہیں تھا۔ صرف سو سال کا فرق تھا. جلیاں والا باغ سو سال پہلے امرتسر، پنجاب میں ہوا تھا اور جامعہ والا باغ سو سال بعد دہلی میں ہوا ہے۔
ساتھیوں ! 15 دسمبر کی شام جو کچھ بھی ہوا وہ انسانیت کے خلاف تھا. جس طرح انگریزوں نے ہمارے آباؤ اجداد اور اسلاف پر ظلم و ستم کی پہاڑ ڈھایا. اسی طرح 15 دسمبر کو حکومت ہند کے اشارے پر دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء، اساتذہ، مسجد کے امام اور سیکورٹی گارڈ پر ظلم و ستم ڈھایا۔
15 دسمبر کا منظر دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ ممبئی کے تاج ہوٹل میں دہشت گردانہ حملہ ہو رہا ہے. چاروں طرف آنسو گیس کے گولے، لائیبریری، ریڈنگ ہال اور ٹوائلٹ کے اندر دھواں دھواں. اس حالت میں پولیس اسٹوڈنٹس کو بھیڑ بکریوں کی طرح ماری رہی تھی. ایسا لگ رہا تھا کہ ممبئی تاج ہوٹل کے دہشت گرد جامعہ پہنچ چکے ہیں۔
اے حکومت وقت ! ہاں میں جامعہ ہوں جس پر تم نے گولیاں چلائی.
ہاں میں جامعہ ہوں جس پر تم نے آنسو گیس کے گولے مارے۔
ہاں میں جامعہ ہوں جس پر تم لاٹھیاں برسائی
ہاں میں جامعہ ہوں جس کو تم نے جیل میں ڈالا
ہاں میں جامعہ ہوں جس کو تم نے دیش دروہی کہا
ہاں میں سمبھیدان ہوں جس کا تم نے اپمان کیا
دیش کے غداروں، ناتھورام گوڈسے اور ساورکر کے وفا داروں میں بات کان کھول کر سن لو ! تم بھارت کو ماتا مانتے ہو نا ؟ تو میری بات سنو ! اگر بھارت تیری ماں ہے تو سمبھیدان تیرا باپ ہے اور ہم ہندستانی کبھی بھی تیری ماں کو وِدوا نہیں ہونے دیں گے ۔
بھائیو !
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا مردی ہے۔
انقلاب زندہ آباد. جامعہ زندہ آباد. ہندوستان زندہ آباد. سمبھیدان زندہ آباد.
موبائل : 8750459144

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *