کسان آندولن میں شرجیل امام : کیا شرجیل امام سے معافی مانگنے کا وقت نہیں آیا؟

کسان آندولن میں شرجیل امام : کیا شرجیل امام سے معافی مانگنے کا وقت نہیں آیا؟

 شرجیل امام یاد ہے آپ کو؟

سمیع اللہ خان

وہی شرجیل امام جو دہلی کے مرکزي شاہین باغ کی شروعات کرنے والوں کے ساتھ بھی تھا اور اب اس کی تصاویر کسانوں کے احتجاجی مظاہرے میں نظر آنے لگی ہے، شرجیل جو مسلمانوں کو ان کی اپنی شناخت کی بنیاد پر قدم بڑھانے کے لیے جھنجھوڑتا رہا شہریت ترمیم قانون CAA کےخلاف زمین پر اتر کر محنت کی بعد میں اسی قانون کے خلاف علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریر کی اور اس تقریر کو بنیاد بناکر پورے ملک میں شور مچایا گیا، میڈیا نے ایسے آسمان سر پر اٹھایا جیسے ہندوستان پر کسی دشمن فوج نے چڑھائی کردی ہو بھاجپا حکومت کے مرکزی وزیروں نے شرجیل پر مقدمات درج کرائے شرجیل کی تقریر کو لیکر ایسا کہرام برپا تھا کہ کان پڑتی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور چونکہ نام۔نہاد سیکولر لوگوں نے بھی اس تقریر پر ماتم اور مذمت شروع کردی تھی اس لئے مسلمانوں کی بڑی بھیڑ بھی ساتھ ہوگئی تھی ایک سے ایک مسلمان اسکالر اہل علم اور دانشور شرجیل کو خطرناک ثابت کیے دے رہےتھے اس وقت بعض سینئر اہل علم نے مجھ سے بڑی بصیرت افروزی والے اسٹائل میں کہا تھا کہ ہو نا ہو شرجیل امام کو بھاجپا نے لانچ کردیاہے اور اس کے ذریعے بھاجپا کا ایجنڈا پورا ہورہا ہے میں نے پوچھا آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کیا آپ نے اس کی مکمل تقریر سنی ہے؟ تو فرمایاکہ نہیں تقریر تو نہیں سنی لیکن رویش کمار اور فلاں مسلمان پروفیسر صاحب نے بھی شرجیل کو ” کمیونل ” بتایاہے تو ضرور وہ بندہ گڑبڑ ہوگا، اور یہی اصل وجہ تھی کہ شرجیل امام کو ویلن بنادیا گیا اور ادھر کچھ سالوں سے مسلمانوں میں اچھے اچھوں کا مزاج اور ذہن ایسا بنا ہے کہ وہ اپنے مسائل پر فلاں اور فلاں سیکولر غیرمسلموں کی آراء دیکھتے ہیں اس کے بعد اپنی رائے قائم کرتے ہیں ۔

 سمجھنے کی بات یہ ہیکہ بھارت کا سیکولر غیرمسلم تب تک مسلمانوں کے ساتھ رہےگا جب تک کہ مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہوگی جو غیر مسلم انصاف پسند ہیں ان کے انصاف کی بھی ایک حد ہے جب کہیں دنگا ہوگا یا مسلمان کی لنچنگ ہو یا وہ گرفتار ہو تب تو یقینًا وہ آپکے ساتھ آئیں گے وہ عید ملن کے شیر خورمہ پر بھی آپکے ہم رکاب ہوں گے ۔

لیکن جب مسلمان اپنی لیڈرشپ ڈیولپ کرنے کی بات کرے، اپنی مسلم قومی شناخت کی بنیاد پر طاقت میں حصے داری کے لیے قدم اٹھائے، اپنی آئیڈیالوجی کے ارتقاء والے ادارے قایم کریں تو یہ سیکولر غیرمسلم آپ سے بدکنے لگ جائے گا ، جب کوئی مسلمان بحیثیت لیڈر ابھرنا چاہے گا تو سارے سیکولر سارے انصاف پسند غیر مسلم سہم جائیں گے کیونکہ تب آپ ان سب کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں ۔

 اس صورتحال کی وجہ سے جب شرجیل کی گرفتاری ہوئی تو مسلمانوں کی اکثریت دیش بھکتی کے نشے میں یا تو کارروائی کے خطرے سے ڈر کر شرجیل کے خلاف ہندوﺅں کے ساتھ ہوگئی تھی، البته ہم شرجیل امام کے خلاف جس وقت مقدمات قایم ہورہے تھے تبھی ان کی حمایت کررہےتھے جس سے ہمارے کئی مسلمان دوست ناراض ہورہےتھے، لیکن جب سابق سپریم کورٹ جج، جسٹس مارکنڈے کاٹجو، آدتیہ مینن اور آرین شری واستو نے شرجیل کی حمایت کی تو ان کی آراء کو بھی ہم نے پیش کیا، اس کے بعد پٹنہ یونیورسٹی کے پروفیسر دلپ نے اور اسی طرح سروج کمار، آر ٹی آئی ایکٹوسٹ ساکیت گوکھلے ایکٹوسٹ روچی رائے اور پنجابی سِکھ کول پریت کور نے شرجیل کی حمایت کی، ہم نے ان تمام آراء کو جمع کرکے شائع کیا جس کےبعد دیش بھکتی والی غیرت کا جوش کچھ مدھم پڑنے لگا، حالانکہ صرف میں ہی نہیں ایک سے بڑھ کر ایک باصلاحیت مسلم نوجوان ثابت کررہےتھے کہ شرجیل کے خلاف منظم ٹرائل چل رہاہے اس نے کوئی غلطی نہیں کی ہے لیکن ان مسلم اسکالرز کو جذباتی ثابت کرکے نظرانداز کیا جاتارہا اسلئے بھی ضرورت تھی کہ موجودہ مسلم دانشوری کی ذہنیت کے حساب سے رائے پیش کی جائے چنانچہ جب مذکورہ غیرمسلم حضرات کی آراء پیش کی گئیں جنہوں نے اس وقت سچ کا ساتھ دیا تھا اس طرح ایک حد تک بعض لوگوں کے خیالِ سازش کا اثر کم ہوا جو سمجھ رہے تھے کہ شرجیل تو بھاجپا کا ایجنٹ ہے، پھر جب شرجیل کے ہزاروں چاہنے والوں نے مسلسل اس کے لیے محنت کرکے بیرون ملک سے آواز بلند کرائی اور بیشمار یونیورسٹی کیمپس میں شرجیل کی حمایت اسٹوڈنٹس کی طرف سے بہت طاقتور انداز میں ہوئی اور دہلی پولیس کے نشانے پر دیگر لیفٹسٹ ایکٹوسٹ آنے لگے تب ان غیر مسلم سیکولرز اور لیفٹسٹ لوگوں نے کھل کر شرجیل کے لیے آواز بلند کی، اور شرجیل کا نام مظلوموں میں شامل کرنے لگے تب تک شرجیل کا مقدمہ زمینی فضاؤں میں تن تنہا مسلم نوجوان لڑرہے تھے ۔

اب اس پر نظر دوڑائیے کہ شرجیل امام جب گرفتار ہوئے تب جو لوگ اس کی شدت سے مخالفت آگے بڑھ بڑھ کے کررہےتھے آج ان کا کیا موقف ہے؟ بڑی حد تک اکثر لوگ شرجیل کی طرف ہوگئے ہیں کیونکہ رفتہ رفتہ بڑی تعداد میں بہت سے غیرمسلموں نے شرجیل کی رہائی کا مطالبہ کیا، اور ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہیکہ شرجیل کے متعلق جس مفہوم اور جس جھوٹ کو پھیلایا گیا تھا جس پر گورنمنٹ آف انڈیا کو سیریس دکھایا گیا تھا رفتہ رفتہ وہ جھوٹا مفہوم لوگوں کے ذہنوں سے جاتا رہا اور اب حال یہ ہیکہ شرجیل امام مسلم نوجوانوں کے دلوں میں بسنے لگا ہے اس لیے اب انٹلکچوئل یا دانشوروں کی مجبوری ہوگئی ہیکہ وہ شرجیل کی حمایت کرکے اپنا قد بڑھائیں یا تو خاموش رہیں ۔

 شرجیل کے جس جملے کو ملک سے بغاوت پر محمول کیا جاتا رہا وہ صرف اور صرف ظالم حکومت کے خلاف آندولن کا ایک بہترین اور مؤثر طریقہ تھا ۔

 شرجیل نے مشورہ دیا تھا کہ آسام اور دہلی کے مابین چکا جام کرکے رابطہ منقطع کردیاجائے یہ مشورہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایسے وقت دیا جارہاتھا جب کہ پورا ہندوستان بھاجپا اور آر۔ایس۔ایس کے کالے قانون کےخلاف آندولن سے گونج رہاتھا ایسےمیں اگر ایسی کوششوں پر عمل ہوجاتا تو یقینی طورپر امیت۔شاہ کا غرور ٹوٹ جاتا اور حکومت کو علانیہ پیچھے ہٹنا پڑتا، شرجیل کے اس اقدام سے بی جے پی خوفزدہ ہوگئی اور عوام کے درمیان ایسی جراتمندانہ تجویز پیش کروانے والے کو دہشتگرد اور ویلن بنادیا ۔

لیکن اب اسی طرزِ احتجاج کو اپنا کر پنجابی سِکھ کمیونٹی کے کسانوں نے مودی۔شاہ کی ظالم سرکار کو نَچا رکھا ہے، ان سکھوں نے وہی کام کیا ہے جسے کرنے کا مشورہ مسلمانوں کو شرجیل امام نے دیا تھا کسانوں نے ناصرف چکّا جام کرکے آندولن برپا کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بیباکی سے شرجیل امام ۔ خالد سیفی ۔ عمر خالد اور ہمارے دیگر جانبازوں کی تصویروں کے بینر اٹھا رکھے ہیں، یہ منظر کس قدر شرمندہ کرنے والا ہے کہ جن مسلمان ہیروز کو مسلمانوں نے ڈر کے مارے اکیلا چھوڑ دیا انہیں انقلاب کا اصلی ہیرو سمجھتے ہوئے پنجابی سِکھوں نے انہیں سینوں سے لگا رکھا ہے اس بات سے ڈرے بغیر کہ ایسا کرنے پر انہیں دہشتگرد قرار دیا جائے گا اور ان کا احتجاج خراب ہوسکتاہے، اس منظر کے بعد کیا ہمارے لوگوں کو شرم نہیں آئی جنہوں نے شرجیل کے خلاف میڈیا ٹرائل میں حصہ لیا تھا، اور کیا اب بھی وقت نہيں آیا کہ یہ لوگ شرجیل امام سے معافی مانگیں؟ “۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *