بہوجن سیاست کے نئے امکانات

بہوجن سیاست کے نئے امکانات

تحریر: سوریا کانت واگھمور – ایس آنند
(2014 کے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن میں مجلس اتحاد المسلمین کی بہترین کارکردگی اور اس کے آئندہ روشن امکانات اور دلت مسلم اتحاد پر سوریا کانت واگھمور اور ایس آنند کے ذریعہ لکھا گیا یہ بہترین آرٹیکل2 دسمبر 2014 کو دی ہندو اخبار میں شائع ہوا تھا، اس مضمون کی موجودہ اہمیت کے پیش نظر اردو قارئین کے لئے اس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)

غربت، احساس ذلت، بے دخلی اور تشدد یہ وہ اصطلاحات ہیں جن کا استعمال صرف دلتوں کے حالات پر گفتگو کے دوران کیا جاتا تھا،لیکن اب ساتھ ہی ایک دوسری برادری یعنی مسلمانوں کی حالتوں کو اچھی طرح سے بیان کرنے کے لئے ان اصطلاحات کا استعمال کیا جاتا ہے،ہندوستانی مسلمانوں کو متأثر کرتی ہوئی اعلیٰ تعلیم اور گورنمنٹ جابز سے بے دخلی، تشدد اور معمول بن چکی سماجی نفرتوں نے اب کافی سنجیدہ بحث کا آغاز کردیا ہے،مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے اس امتیازی سلوک کا اعتراف خود حکومت ہند نے بھی کیا ہے۔

کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی خود مسلمانوں کے اپنے حقوق کے دعوے سے بڑھ کر ان کی فلاح و بہبود کے لئے فکر مند رہنے کا دعویٰ کرتی ہیں، دونوں ہی پارٹیوں کی ترجیحات مسلمانوں کی فکر مندیوں پر بھرپور توجہ دینا رہتی ہے، حتى کہ مودی حکومت حج سبسیڈی نہیں ختم کرسکتی ہے، تاہم وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنی مسلمانی پر فخر نہ کریں اور نا ہی اپنے شہریت کے دعووں کو مسلمانی سے جوڑیں جبکہ ہندوؤں نے یہی کیا ہے۔
نظریاتی طور پر 1950 سے ایک سیکولر اسٹیٹ کے قیام کے باوجود سسنکرت ہندو ازم نے دینا ناتھ بترا اور سمرتی ایرانی کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی اچھی طرح سے اپنی شناخت عوامی حلقوں میں قائم کرلی ہے،پولس اسٹیشنوں اور حکومتی دفاتر میں ہندو علامات کی موجودگی عام ہے،جے پور ہائی کورٹ کے بلکل سامنے منو کا اسٹیچو لگا ہوا ہے،نئی ٹرینوں کا افتتاح ناریل ٹوڑ کر کیا جاتا ہے،برہمن پنڈت تقریباً تمام ہی تعمیراتی کاموں میں بھومی پوجن کرتے ہیں، حتى کہ اسرو چیف کے رادھا کرششنن نے حال ہی میں مارس مشن کی کامیابی کے لیے تروپتی کے بھگوان سے آشرواد لیا ہے۔

اس سیاق میں مسلمانوں کے حقوق کا مطالبہ اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی کے گڑھ تلنگانہ سے باہر اسد الدین اویسی کی قیادت میں مجلس اتحاد المسلمین کی ترقی و ابھار پر بھرپور توجہ دی جائے، پارٹی نے حال کے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن میں تین دلت سمیت چوبیس امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا،حالانکہ ان میں زیادہ تر چہرے نئے تھے لیکن ان میں سے دو کو کامیابی ملی،تین دوسرے نمبر پر آئے اور آٹھ امیدواروں نے تیسرا مقام حاصل کیا، کچھ جگہوں پر تو ہارے ہوئے امیدواروں نے پانچ لاکھ ووٹوں سے زیادہ پر کانگریس پارٹی اور اس کے امیدواروں سے زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے،ایک خود اعتماد شناخت کے ساتھ مسلم مفادات کی خدمت کرنے کے مجلس کے واضح اور صاف مقصد کو رجعت پسند اور بلکل ہندو مخالف کے طور پر دیکھا جارہا ہے،زیادہ تر مبصرین، رپورٹر اور حتی کہ لیفٹ کے سیکولر کو بھی یہی لگتا ہے، کیا مہاراشٹر میں مجلس کی کامیابی جسے دوہرانے کی وہ جلد ہی امید اترپردیش پردیش، دہلی اور مغربی بنگال میں کر رہی ہے صرف ہندو مخالف بیان بازی پر مبنی تھی؟
ہندوتوا کے دوبارہ ابھار کے سامنے ہوسکتا ہے کہ اویسی اور مجلس ہندو مخالف نہ ہوں لیکن یقینی طور پر وہ مجلس کے ذریعہ اپنے سچے نمائندوں کو ووٹ دینے اور انتخاب کرنے کی اہمیت بتا کر خود کو مسلم پرستی کے طور پر بہتر طریقہ سے پیش کررہے ہیں،مسٹر اویسی، تعلیم، غربت، مسلمانوں کی گرفتاری اور آئین کے حدود میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے شہریت کے حقوق کی دعواداری پر بات کرتے ہیں،وہ سیکولر جو کہتے ہیں کہ ہم تمام غریبوں کو ایک کلاس کے طور پر دیکھتے ہیں ان کے لیے مجلس اپنے کنٹرول کے مسلمانوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے دائرہ میں بی جے پی کو آئینہ دکھانے کے لیے ظاہر ہورہی ہے، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ مجلس بہوجن سماج پارٹی سے سبقت لے جاسکتی ہے لیکن مسٹر اویسی کے ساتھ اچھی بات یہ ہے کہ وہ منڈل اور بابری دور کے بعد کے 1990 کی دہائی کے کانشی رام کی بہوجن زبان بولتے ہیں، مہاراشٹر میں کامیابی کے بعد مسٹر اویسی نے کہا ہے کہ “ہم مسلمانوں، دلتوں اور او بی سی اتحاد پیدا کرنے کے لئے پورے ملک میں کامیاب ہوئے ہیں تاکہ یہ لوگ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرسکیں”

مہاراشٹر میں مجلس نے ایک نیا اور دلچسپ نعرہ ‘جے میم اور جے بھیم ‘کا دیا ہے، میم کا مطلب یہاں مسلمان ہے اور ساتھ ہی اس کا اشارہ مجلس کی طرف بھی ہے۔
2007 میں مایاوتی کے دلت اور برہمن اتحاد کو چھوڑ دیا جائے تو ہندو اور دلت کے شیو شکتی اور بھیم شکتی کے1980 میں ایک ساتھ آنے کو تضاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے،اور پھر آگے چل کر بودھ اور ریپلکن پارٹی آف انڈیا کو ریاست میں شیو سینا کے ذریعہ قوت ملی۔

آج مجلس کا ابھار ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ہمارے پاس اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ آر ایس ایس، بی جے پی اور ان کی مختلف تنظیمیں ہندو اور مسلم کے درمیان منظم فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کے لئے دلتوں کو ہندو رنگ میں رنگ رہی ہیں۔
مجلس کے بیان پر یقین رکھنے والے مسلم سماجی انصاف اور شہریت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جب کچھ شخصیات سماجی انصاف اور شہریت کے دعوے کو شناخت کے اظہار کے ساتھ جوڑ کر دیکھتی ہیں تو ان پر فورا ہی ملک مخالف جیسے سیاسی جذبات کا لیبل لگا دیا جاتا ہے،حالانکہ غیر برابری اور انصاف کے مسائل سماجی اور مذہبی شناخت کے سوال کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

امبیڈکر کی آئڈینٹیٹی پولیٹکس جس نے انصاف اور برابری کے امکانات پیدا کردئیے ہیں کے باوجود دلتوں کو اب بھی تشدد، بے دخلی،اور ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اگر امبیڈکر آزادی سے قبل کے ہندوستان میں کانگریس، گاندھی اور ہندو برچسپ سے باہر دلتوں کی ایک آزاد سیاست کی راہ ہموار نہ کرتے تو آج دلتوں کو وہ حقوق اور عزت نہیں ملتی جو آج ملی ہوئی ہے۔

شناخت کے مطلب والی سیاست امبیڈکر کے تعمیر وطن کے لیے دی گئے دوسرے اہم تعاون اور شراکت کو کم نہیں کرتی ہے،اور ساتھ ہی ہمیں تعمیر وطن کے عمل میں ان کی آئڈینٹیٹی پولیٹکس کو ایک اہم تعاون کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، ان سب چیزوں کے ساتھ وہ ہندوستان کو”برادریوں کے مجموعہ” کے طور پر دیکھتے تھے،جہاں ذات کے درجاتی نظام نے اقلیتوں کے ایک سماج کو پیدا کردیا ہے،یہ وہی متنوع اور مختلف شناخت کا اظہار اور انصاف کا مطالبہ ہے جو سماجی برابری اور معیاری سیاست کے لیے ضروری ہے۔

اس طرح امبیڈکر آزادی و انصاف کے نظریات کی ترجمانی اور آئینی جمہوریت پر امید ظاہر کرتے ہیں، اور یہ چیزیں ایسی مقصدی سیاست کا داعی ہیں جو سیاست ضم کرلینے کے عمل کو خارج کرکے حاشیہ پر موجود لوگوں کے نظریہ سے شناخت کی تکثیریت کو سیلیبریٹ کرے۔

تاہم ضم کرلینے کے خلاف اس طرح کی مزاحمت کو عام طور پر مین اسٹریم اشرافیہ کے ذریعہ قوم مخالف کہ دیا جاتا ہے، جب ارون شوری نے ایک مکمل جلد ہی”بیٹریل آف دی ہندو نیشن ان ہز ورشپنگ فالس گوڈس(1997)پر لکھا تو ان کی دلیل کانگریس اور قوم پرست پریس کہ1930 کی دہائی میں کہی گئی باتوں سے الگ نہیں تھی۔

تاہم امبیڈکر نے ضم کرلینے والی ان لہروں کے خلاف احتجاج کیا جو لہریں حاشیہ پر موجود لوگوں کو ختم کردینے کے لئے خطرہ تھیں،اسی لئے انہوں نے اپنے پانچ لاکھ سے زیادہ پیروکاروں کے ساتھ بودھ مذہب قبول کرلیا تھا، انہوں نے ہندو مین اسٹریم سے الگ دکھنے کے خاص عہد اپنے پیروکاروں سے لئے، اس طرح دلتوں کی ہندوؤں سے الگ ایک سیاسی برادری بنانا دلتوں کا ایک اہم حق تھا جس سے کی وہ برابری اور شہریت کا دعویٰ کرسکیں۔

اگر روزمرہ کے امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان شدید غربت پائی جاتی ہے تو ایک سماجی انصاف کے مطالبے اور بے دخلی کے عمل کے خلاف شناخت کی ترکیب پیش کرنے میں کون سی غلط بات ہے،شاید مجلس مسلمانوں کی شدید غربت اور محرومیوں کے باوجود مسلمانوں کے درمیان صحیح سمت میں جمہوریت اور آئین پر یقین رکھنے کی تاکید کرنے والی ایک جماعت ہے، محمد علی جناح کی تاریخی غلطی کے بعد مسلمانوں نے امبیڈکر کا نظریہ بیرسٹر اویسی میں بالآخر پا لیا ہوگا کیونکہ وہ دلتوں پر ہورہے تشدد کے خلاف دوسری پارٹیوں کے لیڈروں سے کہیں زیادہ بولتے ہیں۔
اگر مجلس کی مسلم قیادت والا بہوجن اتحاد آگے بڑھتا ہے تو مسلمانوں کے تئیں اشرافیہ کا عدم برداشت اور اس سے بھی اہم یہ کہ بہوجن سیاست میں نئے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

(مترجم: (وصی)احمد الحریری، دی ہندو،2 دسمبر، 2014)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *