جنیو دھاری راہل ؟

جنیو دھاری راہل ؟

 مسعود جاوید

میڈیا کی سحر انگیزی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت جب وہ کسی بیانیہ کو چلاتا ہے تو نہ صرف بھکت بلکہ قارئین و ناظرین کی ایک بڑی تعداد بھی دانستہ یا غیر دانستہ اس کی ترویج میں لگ جاتی ہے۔ خواندہ نا خواندہ ہرشخص اپنی بات چیت اور بحث کے دوران اسے ایک معتبر روایت کی طرح پیش کرتا ہے ۔

جمہوری اقدار کے انحطاط کے اس گئے گزرے دور میں مرکز میں اگر اپوزیشن کا کسی بھی درجے میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے تو وہ ہیں راہل گاندھی۔ ان کے ایشوز خواہ رافائل جیسے چنیدہ سلیکٹیو کیوں نہ ہوں، اتنے پر مغز ہوتے ہیں کہ سامنے والا ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ معلومات ان کے ہاتھ کیسے لگی! معلومات سے بھرپور مدلل اور جارحانہ انداز میں انہوں نے ہی موجودہ حکومت کو گھیرا ہے۔ ظاہر ہے اکثریت کے زعم میں برسراقتدار پارٹی کو کسی جانب سے ادنیٰ مخالفت برداشت نہیں اس لئے اس سے وابستہ افراد اور متعدد اقسام کے ذرائع ابلاغ نے راہل گاندھی کی شبیہ خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اتنے گر گئے کہ نہ صرف ان کی اور ان کی والدہ مسز سونیا گاندھی کی ذاتیات پر حملے کۓ بلکہ ان کے گزرے باپ راجیو گاندھی دادی مسز اندرا گاندھی اور پردادا ماڈرن ہندوستان کے معمار نہرو جی کو بھی نہیں بخشا۔

یہ مخصوص جماعت اور عناصر اپنے مقاصد کی برآوری کے لئے اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں لیکن ہم اس بیانیہ کی ترویج و اشاعت میں معاون کیوں بنتے ہیں؟ سیاسی راۓ رکھنے اور نظریاتی اختلاف کرنے کا حق ہر ایک شہری کو ہے لیکن ہم گمراہ کن باتوں کو پھیلانے کو اختلاف رائے کا درجہ نہیں دے سکتے۔ واٹس ایپ یونیورسٹی کی پھیلائی گئی یہ بات کہ ہند پاک جنگ کے دوران مسلم ریجمنٹ نے پاکستان کے خلاف لڑنے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔‌ مسلم ریجمنٹ کا الگ سے کوئی وجود ہی نہیں تو منع کرنے کی بات کہاں سے آگئی ؟ یہ بات اتنی ہی جھوٹ ہے جتنا یہ کہ سنجے گاندھی اور راجیو گاندھی فیروز خان کے بیٹے تھے کہ یعنی راہل کے دادا مسلمان تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فیروز گاندھی ایک پارسی تھے جس سے اندرا گاندھی نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ فیروز نہ مسلمان تھے اور گاندھی نہ مہاتما گاندھی کی نسل کی طرف نسبت تھی۔ وہ ایک پارسی تھے اور پارسیوں میں اس طرح کے نام بہت عام ہیں۔ میری ایک پارسی دوست کا نام شبنم ہے۔ ٹاٹا انڈسٹری کے بانی جمشید جی ٹاٹا وغیرہ۔

جواہر لعل نہرو ، جو کہ ایک کشمیری پنڈت تھے، کو بھی ان کے زمانے میں نیم مسلمان کہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

پچھلے دنوں راہل گاندھی نے آن کیمرہ مندروں کی زیارت کی جنیو پہنا اور ٹیکہ لگایا کلائی پر دھاگے باندھے اس سے ان لوگوں کو جو ہندو مذہب پر مونوپولی رکھتے ہیں تکلیف سمجھ میں آتی ہے لیکن ہمیں کیوں اعتراض ہے یا ہم کیوں ان باتوں کو موضوع بناکر راہل گاندھی کا تمسخر اڑاتے ہیں؟

ہم سیکولرازم کو مانتے ہیں اور سیکولرازم کا تقاضا ہےکہ دوسروں کے مذاہب اور مذہبی شعائر کا احترام کے ساتھ ہر شخص کو اس کی اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے اور مذہبی شعائر اپنانے کی آزادی ہو ۔۔۔۔۔ اس لئے ہمیں ہندو مذہب کے ماننے والوں کے مندر جانے، تلک لگانے، جنیو پہننے ہنومان چلیسہ پڑھنے اور سننے اور ہون کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اس لئے کہ یہ فرد کی آزادی کے حصے ہیں ۔ ہاں حکومت کی سطح پر سرکاری دفاتر میں سرکاری طور پر کسی مذہب کے شعائر ادا کرنا آویزاں کرنا دستور کے منافی ہے۔ اگر رام جی کے معتقدین ذاتی طور پر جے سری رام کا نعرہ لگاتے ہیں ہنومان جی کے معتقدین جے ہنومان کا نعرہ لگاتے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ کیجریوال ذاتی طور پر ہنومان مندر گئے بعض مسلمانوں کو اس پر اعتراض ہے، ممتا بنرجی ذاتی طور پر دسہرہ کے پنڈال گئی اور مالا ارپت کیا اس پر اعتراض کیوں !

اعتراض کسی غیر مسلم لیڈر کے ٹوپی پہننے پر کریں۔ وہ ٹوپی عقیدت اور سدبھاونا میں نہیں پہنتے وہ ہمیں ٹوپی پہناتے ہیں۔ سیکولرازم اور مذاہب کا احترام دل میں ہونا چاہیے رومال ٹوپی اور افطار سے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اعتراض ان مسلم لیڈروں پر کریں جو اپنے آپ کو ” سیکولر ” ثابت کرنے کے لئے غیرمسلموں کے مذہبی شعائر اپناتے ہیں۔ مسلمان اپنے مذہب پر رہتے ہوئے دوسرے مذاہب کا احترام کرے اور غیر مسلم اپنے دھرم اور ریتی رواج کا پالن کرتے ہوۓ دوسروں کے مذاہب کا احترام کرے یہی حقیقی سیکولر ہونے کی دلیل ہے۔

اس لئے میری رائے میں کانگریس سے اختلاف اور اس کی غلط پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے آئی ٹی سیل کے چلاۓ گئے بیانیہ کو نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مکمل سیکولر تو کوئی نہیں ہے لیکن سیکولرازم کے دشمنوں میں آدھے ادھورے سیکولر بھی غنیمت ہیں۔ پرفیکٹ تو جدید “ریاست مدینہ” کے “خلیفہ ” بھی نہیں ہیں ! اقل مطلوب یہ ہے کہ ان سیکولر لیڈروں کی آواز ہمارے حق میں اٹھے نہ کہ ہمارے خلاف ۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *