لَو جہاد کے بہانے لَو فساد!

لَو جہاد کے بہانے لَو فساد!

شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

 لَو جہاد کا افسانہ گڑھا گیا اور یہ تصور دیا گیا کہ مسلمان لڑکوں اور غیر مسلم لڑکیوں کے درمیان نکاح کے جو واقعات پیش آئے ہیں، وہ پیار ومحبت کا عام معاملہ نہیں ہے؛ بلکہ ایک منصوبہ بند عمل ہے، جس کا مقصد ہندو لڑکیوں کو پیار ومحبت کے جال میں پھنسانا ، پھر ان سے شادی کرنا اور بالآخر ان کو مسلمان بنانا ہے،ا س کے لئے لَو جہاد کی تعبیر استعمال کی گئی اور اس تعبیر میں یہ اشارہ کیا گیا کہ ہر مسلمان جہادی ہوتا ہے، اگر اس کے ہاتھ میں تلوار ہو تب بھی، اور اس کی زبان پر پیارومحبت کے الفاظ ہوں جب بھی، یہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی زبردست سازش اور دستور میں مذہبی آزادی کا جو حق ہر شہری کو دیا گیا ہے، اس سے محروم کرنے کی کوشش ہے، لَو جہاد کی نفرت انگیز مہم پہلے تو کچھ نفرت کے سوداگر سیاسی لیڈروں نے استعمال کیا اور اس کے باوجود کہ خود حکومت کی بعض ایجنسیوں کی تحقیق میں یہ ایک مفروضہ ثابت ہوا، پھر بھی میڈیا والوں نے اس اصطلاح کو اس قدر چلایا کہ آج بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں اس پر قانون بن رہے ہیں، اور یہ قانون زبانِ حال سے ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کا منھ چڑھا رہا ہے۔

 ستم بالائے ستم یہ ہے کہ سنگھ پریوار کی بعض ذیل تنظیمیں ہندو نوجوانوں کو اُکسارہی ہیں اور انہیں دعوت دے رہی ہیں کہ وہ مسلمان لڑکیوں کو اپنی طرف مائل کریں اور ان سے شادی کریں، اور ان کے والدین سے گزارش کر رہی ہیں کہ اگر ہندو نوجوان کسی مسلمان لڑکی کو بیاہ کر لائے تو اس لڑکی کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، یہ صورت حال مسلمان ماں باپ کے لئے بے حد قابل فکر ہے، یہ نام نہاد ’’ لَو جہاد ‘‘ کا ہوّا کھڑا کر کے ’’ لَو فساد ‘‘ برپا کرنا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان لڑکوں سے ہندو لڑکیوں نے جو شادی رچائی ہے، وہ یا تو مسلمان ہونے کے بعد، اور ایسے واقعات مسلمان لڑکوں کے ہندو لڑکیوں سے نکاح کے نہیں ہیں؛ بلکہ نو مسلم لڑکیوں سے نکاح کے ہیں، اور جو نکاح ایمان لائے بغیر ہوئے ہیں، خود مسلمان اسے پسند نہیں کرتے، اور عموماً مسلم سماج ایسی بہوؤں کو قبول نہیں کرتا، نیز جو بھی صورت ہو اس کے پیچھے کوئی منصوبہ نہیں ہوتا، ایسا نہیں ہے کہ علماء یا مذہبی قائدین نوجوانوں کو ترغیب دیتے ہوں کہ وہ غیر مسلم بہوئیں بیاہ کر لائیں، قابل غور ہے کہ غربت اور جہیز کی لعنت کی وجہ سے ہزاروں مسلمان لڑکیوں کی عمریں شباب کی آخری حد کو پہنچ رہی ہیں؛ مگر اب تک ان کے نکاح نہیں ہو سکے، اس ماحول میں مسلمان کیسے اپنی قوم کے نوجوانوں کو ترغیب دیں گے کہ وہ دوسری اقوام سے اپنے لئے دلہنیں لائیں۔

بین مذہبی شادی در اصل ایک نامعقول عمل اور بے جوڑ رشتہ ہے، اگر آپ کسی مہذب، شائستہ اور سنجیدہ مجلس میں تشریف فرما ہوں اور وہاں ایک یسے بزرگ آجائیں، جن کے سرپر مرچ کی طرح سرخ گاندھیائی ٹوپی ہو، گہرے سبز کلر کا کرتا ہو اور ہلدی کی طرح زرد رنگ کی دھوتی ہو تو شاید مجلس میں وہی بزرگ ہر شخص کے لئے مرکز توجہ ہوں گے ؛ بلکہ عجب نہیں کہ بعض لوگ ان کی دماغی کیفیت کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہوجائیں، یہ اس لئے نہیں کہ ایسا سہ رنگی کپڑا پہننے سے قانون میں منع کیا گیا ہے، یا اس لئے کہ مذہب میں اس کی ممانعت ہے، نہیں؛ بلکہ اس لئے کہ لباس کے ان تینوں اجزاء کے درمیان رنگ کے اعتبار سے کوئی مناسبت اور میچنگ نہیں ہے؛ اس لئے ایسے لباس میں ملبوس شخص کے بارے میں یہی تصور ابھرے گا کہ یا تو یہ کوئی تہذیب ناآشنا دیہاتی ہے یا اس کے دماغ میں خلل واقع ہوا ہے؟ غرض کہ ذوق سلیم انسان کے لباس میں مناسبت کا تقاضا کرتا ہے۔

اسی طرح ایک اور لباس ہے، جسے انسان پوری زندگی کے لئے منتخب کرتا ہے، یہ لباس ہے نکاح کے ذریعہ حاصل ہونے والی زندگی بھرکی رفاقت کا، قرآن مجید نے شوہر و بیوی کو بھی ایک دوسرے کے لئے لباس قرار دیا ہے:  ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ (البقرۃ: ۱۸۷) ؛کیوںکہ لباس انسان کے جسم کا راز دار ہوتا ہے ،اس کی کمزوریوں کو چھپاتا ہے، سرد و گرم کا رفیق ہوتا ہے، گرمی، ٹھنڈک اور بارش سے بچاتا ہے اور اس کے لئے باعث ِزینت ہوتا ہے، میاں بیوی کا بھی ایک دوسرے کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے، وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کا معاملہ کریں، وہ اچھے اور بُرے حالات میں ایک دوسرے کے غمگسار بنے رہیں اور اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ ایک دوسرے کے لئے عزت ووقار اور زینت کا سامان ثابت ہوں؛ اس لئے جیسے عام لباس کے انتخاب میں مناسبت اور میچنگ کی رعایت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح لباس زندگی یعنی شوہر و بیوی کے انتخاب میں بھی مناسبتوں کی رعایت ضروری ہے۔

اسی مناسبت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کبھی خاندانی و جاہت کو دیکھ کر رشتہ کرتا ہے، کبھی اس کی نظر دوسرے فریق کے مال و متاع پر ہوتی ہے اور کبھی حسن و جمال اور شکل و صورت پر، یہ تمام معیارات کامیابی کے ضامن نہیں ہیں، چوتھا معیار دین داری کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کو معیار بناکر نکاح کیا جائے تو کامیابی قدم چومے گی: فاظفر بذات الدین۔ (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الأکفاء في الدین، حدیث نمبر: ۴۷۰۰)۔

  لیکن اگر دینداری کا نہیں؛ بلکہ دین کا فرق ہو جائے، یعنی شوہر وبیوی میں سے ایک، ایک مذہب پر ایمان رکھتا ہو اور دوسرا کسی اور مذہب پر، ایک سمجھتا ہو کہ اس کی پیشانی خدا کے سوا کسی اورکے سامنے نہیں جھک سکتی اور دوسرے کی پیشانی پر ہر مخلوق کے سامنے جھکنے اور سجدہ ریز ہونے کا داغ نمایاںہو، تو ان دونوں میں کیسے فکری ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے؟ یہ تو ممکن ہے کہ جذبات کی رو میں دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مرد و عورت ایک دوسرے سے ازدواجی رشتہ کے بندھن میں بندھ جائیں؛ لیکن جوں جوں وقت گذرتا جائے گا اور نشۂ عشق کافور ہوتا جائے گا، فاصلے بڑھتے جائیں گے، دونوں کو اصل کی طرف خود لوٹنے اور دوسرے کو لوٹانے کی فکر دامن گیر ہوگی، بچوں کے بارے میں بھی کھنچاؤ پیدا ہوگا، دونوں فریق کی خواہش ہوگی کہ بچے اُس مذہب کی طرف جائیں، جس پر وہ یقین رکھتے ہیں، ان بچوں کی شادی بیاہ کا مسئلہ بھی کچھ کم دشوار نہ ہوگا؛ کیوںکہ دونوں سماج میں سے کوئی بھی ان کو اپنے اندر جذب کرنا نہیں چاہے گا اور ہمیشہ دادیہال اور نانیہال دونوں طرف سے اجنبیت کی دیوار کھڑی رہے گی؛ اس لئے اسلام نے بنیادی طور پر مسلم وغیر مسلم کے درمیان نکاح کی اجازت نہیں دی ہے۔

اس حکم کی بنیادی مصلحت وہی ہے کہ نکاح کے دوام و استحکام اور زوجین کے درمیان خوشگوار تعلقات کے لئے ضروری ہے کہ شوہر و بیوی کے درمیان فکر و نظر اور عقیدہ وعمل میں ہم آہنگی پائی جائے، اگر یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے تو نفرت کے شعلے بھڑکیں گے اور نکاح کے مقاصد پورے نہیں ہوسکیں گے؛ اس لئے مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہ مزاج رہا ہے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ رواداری، بھائی چارہ اور محبت میں پیش پیش رہے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معیشت و تجارت اور سیاست میں قدم بڑھائے ہیں؛ لیکن انہوں نے شادی بیاہ کے معاملہ میں اپنا تشخص قائم رکھا اور خاندان کے داخلی ماحول کو اجنبی نو واردوں سے محفوظ رکھنے کی کوششیں کیں؛ اسی لئے ان کے گھر کی فضا اسلام کے رنگ میں ڈوبی رہی، غور کیجئے کہ آپ کا پورا گھر رمضان المبارک کی رحمتوں سے فائدہ اٹھارہا ہو، دن میں ہر شخص روزہ ہے اور ذکر و تلاوت کی مٹھاس سے خود کو شاد کام کررہا ہے، راتیں تراویح و تہجد سے آباد ہیں، صبح سے پہلے اٹھ کر سحری کھائی جارہی ہے اور بارگاہِ خداوندی میں مناجاتیں ہورہی ہیں؛ لیکن دوسری طرف آپ کی بہو یا آپ کا داماد روزہ و نماز سے نا آشنا ہے، وہ دن میں کھانے کی لذت حاصل کرتے ہیں اور اپنی رات بھجن گانے سے آباد رکھتے ہیں تو اس گھر کے ماحول میں وہ کس طرح ایڈجسٹ ہوسکتے ہیں؟

افسوس کہ ادھر یہ شعور کم ہوتا جارہا ہے اور مسلم وغیر مسلم شادی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، پہلے تو مسلمان لڑکوں اور غیر مسلم لڑکیوں میں شادی کے واقعات سامنے آتے تھے، ظاہر ہے کہ شریعت اسلامی میں یہ بھی جائز نہیں ہے؛ لیکن معاملہ اب اس سے آگے جاچکا ہے اور اب مسلمان لڑکیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ جانے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، پہلے اس طرح کی اکا دُکا خبریں سماج کو ہلاکر رکھ دیتی تھیں؛ لیکن جب کسی مقام کے لوگ زلزلہ کے عادی ہوجائیں تو زلزلہ سے ان کے سینوں میں کوئی دھڑکن پیدا نہیں ہوتی، یہی کیفیت مسلم سماج میں ایسے واقعات پر سامنے آرہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ لوگ اب ایسے واقعات سننے کے عادی سے ہوگئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک گمبھیر سماجی مسئلہ ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور حکمت و تدبیر سے اس صورت حال کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ آئندہ نسلوں کی دینی شناخت کو باقی رکھنا دشوار ہوجائے گا، ۱۹۶۷ء کے بعد بہت سے فلسطینیوں کو امریکہ اور برطانیہ میں پناہ دی گئی، ترکوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے جرمنی میں سکونت اختیار کی، ان تارکین وطن کے دلوں سے منصوبہ بند طور پر ایمانی حمیت نکال دی گئی، انہیں بین مذہبی شادیوں کا قائل کیا گیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ وہ اپنی پہچان گم کرچکے ہیں، انہیں دیکھ کر سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ ان کے آباء واجداد مسلمان، عرب یا ترک تھے، کیا ہم بھی اس ملک میں اسی صورت حال کو درآمد کرنا چاہتے ہیں؟

 اب سوال یہ ہے کہ ہندو فرقہ پرستوں کی طرف سے مسلمان لڑکیوں کی عزت سے کھیلنے اور بالآخر ان کو ارتداد کی منزل پر پہنچا دینے کی سازش سے کس طرح بچایا جائے؟

 اس کے لئے سب سے پہلے لڑکیوں کی ذہنی وفکری تربیت کی ضرورت ہے، عام طور پر لوگ لڑکیوں سے شادی بیاہ کے مسئلہ پر گفتگو نہیں کرتے، اور فطری طور پر حیاء دامن گیر ہوتی ہے؛ لیکن یہ صحیح طریقہ نہیں ہے، ان کے سامنے ایک طرف عبرت وموعظت کے طور پر ان واقعات کو رکھنا چاہئے، جس میں مسلمان لڑکیاں غیر مسلموں کے دام میں پھنس کر کہیں کی نہیں رہیں ، دین بھی گیا دنیا بھی گئی، یہاں تک کہ انہیں پیشہ ور عورت بنا کر چھوڑ دیا گیا، ابھی چند دنوں پہلے اخبار میں رقیہ (بدلا ہوا نام: مسکان) کا واقعہ آیا ہے، جس نے پیارومحبت کے دھوکہ میں ایک غیر مسلم دوست کے ساتھ شادی کی، پہلے تو اس کا نام تبدیل کیا گیا، پھر اس کا مذہب تبدیل ہوا ؛ لیکن صورت حال یہ ہوئی کہ یہ بھی کافی نہیں ہوا، وہ جس گھر میں لے جائی گئی، وہاں اسے اَچھوت بنا دیا گیا، نہ وہ کھانے کے کسی برتن کو چھو سکتی تھی، نہ اس کو اپنے کمرے کے علاوہ کسی اور کمرہ میں داخل ہونے کی اجازت تھی، یہاں تک کہ جب وہ پوجا کرنا چاہتی تو اسے پوجا کرنے اور مورتیوں کو ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی، آخر وہ اپنے میکہ واپس آئی اور ظاہر ہے کہ اس کی اس بدترین حرکت کی وجہ سے میکہ میں بھی کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھا، اب وہ غریب جائے تو کہاں جائے؟ بالآخر ماں کی ممتا رنگ لائی اور ماں نے صرف اس قدر اجازت دی کہ گھر کے برآمدے پر بستر ڈال کر سو جائے، بعض ایسی گمراہ لڑکیوں کے ساتھ یہ نوبت بھی آئی کہ اس سے جب تک جی چاہا، اپنی ہَوس  پوری کی اور جب دل بھر گیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔

 لڑکیوں کو ایسے انجام سے عبرت دلانے کے ساتھ ساتھ اپنے سماج میں نکاح کرنے کے فوائد بھی بتانا چاہئے، جس میں دونوں خاندان لڑکی کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے، اور ان کی ضرورتوں کا کفیل، نیز جان ومال اور عزت و آبرو کا محافظ بنتا ہے، اس کے برخلاف بین مذہبی شادی ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے، جس میں میاں بیوی کے علاوہ کسی کی محبت حاصل نہیں ہوتی، یہ بھی ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اگر خدانخواستہ لڑکی نے اس طرح کا رشتہ کر لیا اور اب وہ واپس آنا چاہتی ہے تو اس کو قبول کر لیا جائے؛ تاکہ وہ مزید گناہ اور بربادی سے بچ جائے۔

غیر مسلم لڑکیوں کے ساتھ شادی کے واقعات کے بظاہر تین بنیادی اسباب ہیں: اول: شادی کی فضول خرچیاں، دوسرے: مسلمان لڑکوں کی تعلیمی پسماندگی، تیسرے: مخلوط تعلیم  — شادی میں فضول خرچی اس درجہ بڑھ گئی ہے کہ اب عام لوگوں کی شادیاں پرانے نوابوں اور راجاؤں کی شادیوں میں ہونے والے تزک و احتشام کو بھی مات کررہی ہیں، دولت مند طبقہ نے اس کو اپنی مالی فراوانی کے مظاہرہ کا ذریعہ بنالیا ہے، درمیانی طبقہ اس کی وجہ سے بعض اوقات در و دیوار تک بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور کمزور طبقہ اگر دین سے بے بہرہ ہو تو چاہتا ہے کہ کسی طرح اپنے جگر گوشہ کے بوجھ سے وہ نجات پاجائے، خواہ وہ کسی مسلمان کے گھر میں جائے یا غیر مسلم کے، جب تک معاشرہ کے دولت مند لوگ سادگی اختیار نہ کریں گے، اس صورت حال میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ جیسے قدرتی آفات کے مواقع پر مدد اور بچاؤ کی مہم شروع کی جاتی ہے، اسی طرح نکاح میں سادگی پیدا کرنے کے لئے علماء و مشائخ، سماجی و سیاسی رہنما، صحافی اور اہل علم و دانش مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کے کارکنان ایک مہم چلائیں اور گھر گھر دستک دے کر انہیں سادہ طریقہ پر تقریب نکاح انجام دینے کی دعوت دیں۔

تعلیمی صورت حال یہ ہے کہ لڑکیاں تعلیم میں آگے بڑھتی جاتی ہیں، اور لگتا ہے کہ لڑکوں نے پیچھے کی طرف اپنا سفر شروع کررکھا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکیوں کو ان کے جوڑ کے لڑکے میسر نہیں ہیں، موجودہ حالات میں لڑکیوں کو اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ تعلیم کو ترک کردیں، بالخصوص ان حالات میں کہ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کے لئے ۵۰فیصد حصہ داری کی کوشش کی جارہی ہے، ان حالات میں اگر مسلمان لڑکیاں تعلیم ترک کردیں تو 50% سیٹیں بغیر کسی جد وجہد کے دوسروں کے ہاتھ میں چلی جائیںگی، اور پھر حصول تعلیم میں جو مسابقت جاری ہے، خاص کر لڑکیوں کو جو سہولت دی جارہی ہے، اس کے بعد اس سلسلہ میں ماں باپ کی نصیحت نتیجہ خیز بھی نہیں ہوسکتی؛ اس لئے لڑکوں میں یہ مزاج پیدا کرنا ہوگا کہ وہ تعلیمی جد و جہد میں اپنے قدم آگے بڑھائیں، اگر ہر مسلمان گھر میں یہ فکر جاگ جائے تو اس کی نوبت نہیں آئے گی کہ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں کو ان کے جوڑ کا رشتہ نہیں مل پائے، دوسری طرف تعلیم یافتہ لڑکیوں کی ذہنی اور فکری تربیت کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک مسلمان کے لئے اصل وجہ ِافتخار اس کا صاحب ِایمان ہونا ہے نہ کہ اس کا زیادہ تعلیم یافتہ اور اونچے ذریعہ معاش کا حامل ہونا؛ کیوںکہ تعلیم اور دولت کی کوئی انتہاء نہیں ہے، ایمان اس سے بھی قیمتی جوہر ہے، کسی مسلمان لڑکی کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی عار کی بات نہیں ہوسکتی کہ اس نے ایمان سے محروم شخص کو اپنا رفیق زندگی بنا رکھا ہو۔

ان واقعات کا تیسرا سبب ’’مخلوط تعلیم‘‘ ہے، لڑکوں اور لڑکیوں کا اختلاط نہ صرف اخلاقی اعتبار سے نقصاندہ ہے؛ بلکہ تدریسی نفسیات کے اعتبار سے بھی مضر ہے، مگر افسوس کہ مسلمانوں کے زیر انتظام جو درسگاہیں قائم ہیں، ان میں بھی بڑے فخر کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ یہاں ’’کو ایجوکیشن‘‘(مخلوط تعلیم) ہے، مخلوط تعلیم کا یہ نظام نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ پورے ہندوستانی سماج کو غیر معمولی اخلاقی نقصان پہنچارہا ہے؛ اس لئے مسلمانوں کی ذمہ درای ہے کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے کم سے کم جونیئر کالج کی سطح تک زیادہ سے زیادہ الگ الگ درسگاہیں قائم کریں اور پیشہ وارانہ تعلیم کے کالجوں میں اگر جداگانہ درسگاہوں کا قیام دشوار ہو تو کم سے کم کلاس روم میں ایسی عارضی دیواریں رکھی جائیں، جو لڑکوں اور لڑکیوں کی نشست گاہوں کو الگ رکھتی ہوں، نیز مسلم علاقوں میں گورنمنٹ سے گرلس اسکول اور گرلس کالج قائم کرانے کی کوششیں کی جائیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت ملک کے اکثر چھوٹے بڑے شہروں میں مسلمان، تعلیمی ادارے قائم کررہے ہیں، اگر تمام مسلمان طے کرلیں کہ وہ پرائمری اسکول کی سطح سے اوپر لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ درسگاہوں کا نظم کریںگے تو اندازہ ہے کہ ۵۰فیصد مسلمان طلبۂ و طالبات انشاء اللہ مخلوط تعلیم کی برائیوں سے بچ جائیں گے۔

 اختلاط سے پاک ادارے راتوں رات قائم نہیں ہو سکتے، اس کے لئے طویل، منصوبہ بند اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے؛ لیکن فی الحال اتنا ضرور کرنا چاہئے کہ اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم مسلمان طلبۂ و طالبات کے لئے خصوصی پروگرام رکھے جائیں، اور اس میں غیر مسلم لڑکوں اور لڑکیوں سے نکاح کے گناہ اور نقصانات کے بارےمیں بتایا جائے، اور کہا جائے کہ وہ خود بھی اس سے بچیں، اپنی بہنوں کو بھی بچائیں اور اگر کسی مسلمان لڑکی کی غیر مسلم لڑکے سے دوستی کے بارے میں علم ہو تو ان کے والدین اور ان کے علاقہ کے مذہبی ذمہ داروں کو بتائیں؛ تاکہ یہ ابتدائی دوستی شادی تک نہ پہنچ جائے۔

بہر حال ضروری ہے کہ مسلمان اس پر توجہ دیں اور امت کے ارباب حل و عقد پوری سنجیدگی کے ساتھ اس ناگفتہ صورت حال پر غور کریں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کی غفلت کل کے سیلاب کا پیش خیمہ بن جائے اور پھر اس پر بند باندھنا ممکن نہ رہے!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *