اسلامک فقہ اکیڈمی کا ’’ عربی زبان کی ترویج و اشاعت میں دہلی کی یونیورسٹیوں کا رول ‘‘ پر دو روزہ قومی سمینار اختتام پذیر

اسلامک فقہ اکیڈمی کا ’’ عربی زبان کی ترویج و اشاعت میں دہلی کی یونیورسٹیوں کا رول ‘‘ پر دو روزہ قومی سمینار اختتام پذیر

نئی دہلی: (پریس ریلیز ) آج مؤرخہ ۲۷؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو ’’ عربی زبان کی ترویج و اشاعت میں دہلی کی یونیورسٹیوں کا کردار ‘‘ کے موضوع پر گذشتہ دو روز سے جاری قومی سمینار اختتام پذیر ہوا۔ اس سمینار کی تیسری اکیڈمک نشست کی صدارت پروفیسر مجیب الرحمن (سابق چیئرپرسن سنٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرویونیورسٹی) نے کی، اور نظامت ڈاکٹر صہیب عالم (استاذ شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کی۔ اس نشست میں ڈاکٹر محمد اکرم (دہلی یونیورسٹی)، ڈاکٹر سید محمد طارق (استاذ ذاکر حسین دہلی کالج)، ڈاکٹر جسیم الدین (دہلی یونیورسٹی)، محمد وسیم (اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ)، سعود عالم اور محبوب عالم (اسکالرس جواہر لال یونیورسٹی) نے اپنے مقالات پڑھے۔ بعد ازاں ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی نے مقالات پر اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔ پروفیسر مجیب الرحمن نے صدارتی خطاب میں مقالہ نگاری اور مقالہ خوانی کے اصول و ضوابط پر روشنی ڈالتے ہوئے اکیڈمی کی ہمہ جہت سرگرمیوں کی ستائش کی۔
چوتھی اکیڈمک نشست کی صدارت ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے کی اور نظامت ڈاکٹر محمد اجمل قاسمی (استاذ سنٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جے این یو) نے کی۔ اس نشست میں آٹھ مقالات پڑھے گئے، بعد ازاں صدر نشست ڈاکٹر اورنگ اعظمی نے مقالات پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اکیڈمی کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کی ستائش کی۔
اس کے بعد تین بجے سے اختتامی نشست رکھی گئی جس کی صدارت پروفیسر عبد الماجد قاضی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی نے انجام دیئے۔ اس نشست میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر محمد ایوب تاج الدین ندوی (ڈائریکٹر انڈیا عرب کلچر سنٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور ڈاکٹر عبد القادر خان قاسمی (استاذ معہد التخصص فی اللغۃ العربیۃ، نئی دہلی) نے شرکت کی۔
پروفیسر محمد ایوب ندوی صاحب نے اپنے خصوصی کلمات میں اسلامک فقہ اکیڈمی کی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی ہم سب کی طرف سے اس سمینار کے انعقاد پر بے حد شکریہ کی مستحق ہے۔ اکیڈمی مختلف موضوعات پر سمینار کرتی رہی ہے اور ہم سب ان سے استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ اخیر میں انھوں نے اکیڈمی کے ذمہ داران کا اس سمینار کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔
اسی طرح اس نشست کے دوسرے مہمان خصوصی ڈاکٹر عبد القادر خان قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکیڈمی کے پروگرام بہت علمی اور فکری موضوعات پر ہوتے رہتے ہیں جن سے گاہے بگاہے ہم بھی استفادہ کرتے ہیں اور ہمارے طلباء بھی۔ مزید کہا کہ یہ سمینار ہر لحاظ سے طلباء اور اساتذہ کے لیے بہت ہی اہم ہے، ہم سب کو اس سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔
اخیر میں اس مجلس کے صدر پروفیسر عبد الماجد قاضی ندوی نے کہا کہ اسلامک فقہ اکیڈمی نے موضوع منتخب کرکے اپنے علمی روایات کا ثبوت دیا ہے۔ ہندوستانی علماء نے جو علمی خدمات انجام دیئے ہیں اس کو آگے بڑھانے اور تشجیع کی ضرورت ہے، موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اہم مقالات پیش کیے گئے اور مقالہ نگاروں نے اس کا حق ادا کیا۔ مزید کہا کہ یہاں بے شمار اساتذہ ہیں جنہوں نے کتابیں تو نہیں لکھیں، لیکن علمی نسل کو تیار کیا، ان کا حق ہے کہ ہم ان کو یاد کریں اور ان کی خدمات کا تذکرہ کریں۔
اس سمینار میں چونتیس مقالات پیش کیے گئے اور اس موضوع سے متعلق تمام جہتوں کو احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی، ان مقالات کو سامنے رکھتے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بہت ہی کامیاب سمینار ہے۔
اس نشست میں ڈاکٹر اصغر محمود ندوی، ڈاکٹر محمد اجمل قاسمی، ڈاکٹر محفوظ الرحمن، مولانا نوشاد عالم نوری اور ڈاکٹر قاسم عادل ندوی نے سمینار سے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور اخیر میں مفتی احمد نادر قاسمی اور ڈاکٹر مجیب اختر ندوی نے کلمات تشکر پیش کیے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *