مسلم معاشرے کی اصلاح کون کرے گا؟

مسلم معاشرے کی اصلاح کون کرے گا؟

معصوم مرادآبادی

وطن عزیز میں مسلمانوں کو جن مصائب و مشکلات کا سامنا ہے، ان کے حل کی تدبیریں اور تعبیریں تو ہر روز ہمیں سننے کو ملتی ہیں، لیکن مسلم معاشرہ اندرونی طور پر جن خرابیوں کاشکار ہے، ان کی اصلاح کی آوازیں بہت کم سنائی دیتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ مسلم معاشرے کواس کے ذمہ داروں نے بے مہار چھوڑ دیا ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔ میں نے حال ہی میں کچھ عرصہ مغربی اترپردیش کے ایک گھنی مسلم آبادی والے شہر میں گزارا ۔ اس دوران جو کچھ میں نے محسوس کیا، اس کا حاصل یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسی خرابیوں میں مبتلا ہوچکا ہے کہ اگر بروقت ان خرابیوں کا مداوا نہیں کیا گیا تو ہم سماجی طور پر بھی ایک پسماندہ ترین قوم بن کررہ جائیں گے۔حالانکہ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور سیاسی پسماندگی کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی زندگی کی بھی دردناک تصویر پیش کرتے ہوئے اس کے ازالہ کی بروقت تدبیریں بھی بتائی تھیں، لیکن زیادہ بحث مسلمانوں کی سیاسی اور تعلیمی پسماندگی پر ہوئی اور سماجی زندگی کا پہلو نظر انداز کردیا گیا۔ اکثر یہی ہوتا ہے کہ جب بھی مسلم مسائل پر گفتگو ہوتی ہے تو ان کی سماجی پسماندگی اور زبوں حالی کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ مولانا ظفرعلی خاں نے اپنے ایک شعر میں بہت پہلے اس کی نشاندہی کی تھی۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح کا کام داخلی سطح پر ہی ہوسکتا ہے اور جب تک کوئی معاشرہ اندرونی طورپر اس کے لئے آمادہ نہ ہو تو ساری کوششیں رائیگاں ہی چلی جاتی ہیں۔ اس لئے سب سے پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا مسلم معاشرہ داخلی سطح پر اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے لئے تیار ہے؟ اس سوال کا جواب آپ کو نفی میں ملے گا، کیونکہ اس میدان میں مسلمانوں نے بے حسی کی ایک طویل چادر تان رکھی ہے۔مسلم آبادیوں پر سرسری نگاہ ڈالنے سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں ان کا لب لباب یہ ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا مقصد کھانا پینا اور موج مستی کرنا ہے۔ پچھلے دنوں ایک غیرمسلم دوست نے کہا کہ میں دن کے چوبیس گھنٹوں میں جب بھی جامع مسجد کے علاقہ میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے کھاتے پیتے ہی نظرآتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو کھانے کے تین اوقات مقرر ہیں۔ یعنی صبح کا ناشتہ، دوپہر کا لنچ اور رات میں ڈنر، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو کھانے پینے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ اگر غور سے دیکھیں تو غیرمسلم دوست کا یہ تاثر غلط بھی نہیں ہے کیونکہ مسلم محلوں میں کھانے پینے کی جتنی دوکانیں نظر آتی ہیں،اتنی غیر مسلم علاقوں میں نظر نہیں آتیں۔بریانی اور مرغ کی اقسام کا تو یہ حال ہے کہ وہ اب ہماری بنیادی شناخت بنتی چلی جارہی ہے۔
کھانا پینا زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی لازمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدا نے ہمیں صرف اسی کام کے لئے پیدانہیں کیاہے۔زندگی کی اور بھی ضرورتیں ہیں جن میں صحت اور تعلیم وتربیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر اس میدان میں مسلمانوں کی مساعی کو دیکھیں تو بڑی مایوس کن تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان میں اس طرف بہت کم توجہ دی جاتی رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں مسلمانوں کے تعلیمی ادارے نہیں ہیں مگر ان کی توسیع اور ترقی کے راستے خود ہم نے ہی روک رکھے ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک پروگرام کے سلسلہ میں سہارنپور میں حاضری کا موقع ملا۔ پروگرام تو یوم آزادی سے متعلق تھا لیکن جس مسلم اسکول میں اس کا انعقاد ہوا تھا، اس کی عمارت اور جائے وقوع دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا۔ میں نے اسکول کے پرنسپل سے دریافت کیا کہ اتنی اچھی اور مرکزی جگہ پر واقع اس اسکول کا رزلٹ بھی اتنا ہی اچھا ہوگا۔لیکن موصوف کا جواب سن کر میں اپنا دل مسوس کررہ گیا۔ انھوں نے فرمایا کہ”اسکول کا رزلٹ بہت خراب ہے کیونکہ منتظمہ کمیٹی میں دوگروپ ہیں اور ان میں مقدمے بازی چل رہی ہے۔یہ لڑائی صدارت کے لئے ہے۔“یہ معاملہ کسی ایک مسلم ادارے کا نہیں ہے۔ اگر آپ چھوٹے اور بڑے مسلم اداروں میں جائیں تو آپ کوہر جگہ اسی قسم کی رسہ کشی دیکھنے کو ملے گی اور کرسی صدارت کی لڑائی اپنارنگ دکھاتی ہوئی نظر آئے گی۔ برتری کی یہ جنگ ہماری شناخت بن چکی ہے اور اس کی زد میں نہ جانے ہمارے کتنے قیمتی ادارے ایڑیوں کے بل چل رہے ہیں۔
مغربی اترپردیش کے ایک شہر میں قیام کے دوران مجھے ایک اور بات کا شدت سے احساس ہوا۔یہاں جوہفتہ واری بازار لگتے ہیں، ان میں کالے برقعوں کا ایک سیلاب بلا نظر آتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ برقعوں کا یہ ہجوم صرف مسلم محلوں تک محدود ہے بلکہ اگر یہ ہفتہ واری بازارکسی غیر مسلم علاقے میں بھی لگتے ہیں تو وہاں بھی اکثریت ہماری خواتین کی ہی ہوتی ہے اور اس کی سب سے بڑی شناخت کالے برقعے ہی ہوتے ہیں۔ اس بنیاد پر ان بازاروں کا ”کالابازار“ بھی کہا جانے لگا ہے۔زندگی کی ضرورتوں کی خریداری کوئی بری بات نہیں ہے، لیکن مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے بچپن میں خواتین کو بہت کم بازاروں میں خریداری کرتے ہوئے دیکھا۔ یہ کام مرد حضرات ہی کرتے تھے۔لیکن اب مردحضرات نے بازار کا سارا کام عورتوں کو سونپ دیا ہے اور حالت یہ ہے کہ ہماری خواتین ضرورت بے ضرورت بازار کی رونقیں بڑھاتی ہیں اور ہمیں اس پر کوئی غیرت بھی نہیں ہوتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری عقلوں پرپردے پڑچکے ہیں اور ہم نے اپنی غیرت و حمیت کو کہیں گروی رکھ دیا ہے۔
اکثر گھنی مسلم آبادیوں میں ہماری نوجوان نسل ایسی خرابیوں میں مبتلا نظر آتی ہے کہ یہاں اس کا بیان کرنا بھی مشکل ہے۔نوجوانوں کی توانائی اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوئی ٹھوس تحریک موجود نہیں ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔ ان میں ایسی خرابیاں پنپ رہی ہیں جو ان کے مستقبل کے لئے زہرہلاہل کا درجہ رکھتی ہیں۔ میں نے ایک مسلم علاقہ میں دیکھا کہ ایک ایسی دکان مخصوص ہے جہاں کمسن بچوں کو سگریٹ اور دوسری نشہ آور اشیاء فروخت کی جاتی ہیں اور وہاں ہر وقت نوجوانوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ حالانکہ قانونی طور پر نابالغوں کو سگریٹ اور گٹکے کی فروخت پر پابندی ہے لیکن یہاں اس کا نفاذ نہیں ہوتا۔ بعض مسلم علاقوں میں جہاں میڈیکل اسٹور کے بورڈ آویزاں ہوتے ہیں وہاں دیسی شراب کی بوتلیں آسانی سے دستیاب ہیں۔ ایک گھنی مسلم آبادی کے بارے میں مجھے بتایا گیا کہ شہر کا نامی گرامی سٹّا بازار اسی میں واقع ہے اور یہاں ہر وقت پولیس کی گشت رہتی ہے۔
ہوسکتاہے کہ بعض لوگوں کو میری یہ باتیں ناگوار بھی گزریں اور وہ مجھ پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کا الزام بھی لگائیں گے، لیکن میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ سنی سنائی باتیں ہرگز نہیں ہیں بلکہ میں نے ازخود ان کا مشاہدہ کیا ہے اور ان میں سے بیشتر چیزوں کو عرصہ سے دیکھ رہا ہوں۔میرا اپنا احساس ہے کہ مسلمانوں کو جتنا خطرہ اندرونی برائیوں سے ہے اتنا بیرونی حملوں سے نہیں ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے خلاف تعصب اور نفرت کا ایک طوفان ہے، لیکن اس طوفان کی آہٹ کچھ ہی لوگ محسوس کرتے ہیں ورنہ مجموعی طور پر مسلم معاشرہ جس بے حسی اور بے پروائی کا شکار ہے اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ 90 فیصد مسلم آبادی کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ ان کے خلاف سازشوں کا کیا جال بچھا ہوا ہے اور انھیں اس سے نکلنے کی کیا تدبیریں کرنی ہیں۔مسلم آبادیوں میں صفائی ستھرائی کا جو زبردست فقدان نظرآتا ہے، اس کے نتیجے میں بیماریوں اور آزاریوں کا سامنا خود انھیں ہی کرنا پڑتا ہے۔ ہماری آبادیوں میں ڈاکٹروں کی اتنی پذیرائی کیوں ہوتی ہے اور ان کی بہتات کیوں ہے، اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔گندگی کے لئے آپ صرف میونسپل بورڈ کو ذمہ دارنہیں ٹھہرا سکتے۔ وہ لوگ بھی اس کے لئے برابر کے ذمہ دارہیں جو جا بجا کوڑے کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔ گھر کو صرف اندر سے صاف رکھنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے اطراف کی صفائی بھی بے حد ضروری ہے جس پر مسلم آبادیوں میں کوئی توجہ ہی نہیں دی جاتی۔
اتنا ضرور ہے کہ مسلم معاشرے کی اصلاح کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کسی زمانے میں ”اصلاح معاشرہ“ کی ایک مہم شروع کی تھی اور اس کا مقصد مسلم معاشرے میں خانگی برائیوں کو روکنا اور مسلمانوں کو شرعی امور سے واقف کرانا تھا لیکن میں نے جن خرابیوں کی نشاندہی کی ہے ان کے خلاف فی الوقت کوئی تحریک موجود نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرے کو اندرونی طور پر مضبوط بنانے کے لئے اصلاح معاشرہ کی ایک ایسی منظم اور مربوط تحریک شروع کی جانی چاہئے جو مذکورہ تمام خرابیوں کا احاطہ کرتی ہو۔ اس تحریک کے خدوخال طے کرنے کے لئے بیدار مغز لوگوں کو سر جوڑکر بیٹھنا چاہئے اور اس کام کے لئے رضاکار تیار کرنے چاہئے، کیونکہ مسلم معاشرے کو اس کے حال پر چھوڑ دینا مستقل تباہی و بربادی کا سبب ہوگا۔
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *