این آر سی سے آسام کے مظلوموں پر کیا بیتی؟

این آر سی سے آسام کے مظلوموں پر کیا بیتی؟

عبد المعید مدنی علیگ 
میٹر کیا تھا؟
بات یہ تھی کہ آسامی نژاد یعنی آسام کے اصلی باشندوں کے دماغ میں کھجلی ہویی کہ آسام ھمارا ہے دوسروں کو یہاں رہنے کا حق نہیں ہے۔ڈیڑھ سو سال پہلے انگریزوں نے بنگال بہار کے ایک خطے چھوٹا ناگپور سے چاے کی زراعت کے لیے آسام میں مزدور لاکر بسائے ۔ مختلف اوقات میں یوپی وغیرہ سے بھی مزدور آئے ۔ ان کی کئی نسلیں وہاں پلی بڑھیں‌ اور آباد ہوگئیں ۔
شرپسند آسامیوں نے آسامیت اور‌ غیر آسامیت کا‌ مسئلہ ۱۹۵۱ سے اٹھا رکھا بارہا فسادات ہوئے ، کانگریس دور حکومت ‌میں کئی بار اس‌ سلسلے میں معاہدے ہوئے ، اتفاق ہوا ، مسئلے کا حل نکالا ‌گیا ، لیکن فسادی نیے نیے فتنے کھڑے‌کرتے رھے ۷۱ء میں بنگلہ دیش بنا جنگ کے سبب لاکھوں پناہ ‌گزیں بھارت آگئے ۔ آسام غیر آسامیت کا مسئلہ زیادہ ٹیڑھا ہوگیا، آسامیت کی تحریکیں اٹھیں ۔ الگ ملک بنانے کے لئے ‌کیی لبریشن فرنٹ نے مسلح اسٹرگل کیا کئی بار لسانی وگروہی فسادات ہوئے ۔ بارہا اس‌ مسئلے اسامیت اور غیر آسآمیت کے لیے تجاویز آئیں ، ٹریبونل بنے لیکن فتنے کا ‌کویی حل نہ نکلا ۔ کوئی مسلہ ہو‌تو اس کا حل نکل سکتا ہے ۔ لیکن فتنے کاحل نہیں نکلتا ۔ بھاجپا اس‌ دعوے‌ سے‌ آئی کہ وہ حل نکالے گی ۔
این آر سی کا جال
بھاجپا نےآتے ہی NRC کا جال پھیلایا ۔ امنگ تھی کہ مسلم مچھلیاں پکڑی جائیں گی ، تین کروڑ دس لاکھ کے صوبہ ‌آسام‌ کی آبادی میں تین سال کی محنت کے بعد ۱۹ لاکھ لوگوں‌کو غیر ملکی قرار دیا گیا ، جن میں ۱۴ لاکھ غیر مسلم اور‌ پانچ لاکھ مسلم نکلے ۔ مسئلہ دستاویزی شناخت کا تھا ، اور دباؤ آسامیت اور غیر آسامیت کا تھا ۔ اس لیے نتیجہ بھگوا چاہت اور ذہنیت کے برخلاف نکلا ۔ آسامیت اور غیر آسامیت کا مسئلہ وہیں کا وہیں رہ گیا ۔ آسامی‌ نژاد لوگ آسام سے سارے غیر آسامیوں کا انخلاء چاہتے ہیں ۔ مسئلہ صرف مسلمانوں کا ہوتا تو بات ختم تھی اب یہاں پانچ لاکھ مسلمانوں کے ساتھ چودہ لاکھ غیر مسلم بنگالیوں کا بھی ہے ۔ معاملے کو حل‌کرنے کے بجائے سفاک ذہن اس طرف گیا کہ این آر سی اور این پی آر کراؤ اور سی اے اے کے ذریعے تین کروڑ مسلمانوں کو ملک بدر کیا جائے اور تمام غیر مسلموں کو جو این آر سی میں شناخت نہ پیش کرسکیں ان کو شہریت دے دی جائے ۔
این آر سی کی تباہ کاریاں
آسام میں ان سی آر ہوا حکومت نے ۱۶ سو کروڑ خرچ کیا ۔ پبلک نے آٹھ ہزار سات سو ‌کروڑ سے زیادہ خرچ کیا ۔ اکتالیس لاکھ لوگوں کو فارن ٹریبیونل میں حاضر ہونا پڑا ۔ آسام میں آباد فرد اگر یوپی کا ہے تو اس کے گھر کے مطلوب افراد کو شناخت دینے کے لیے آسام حاضر ہونا پڑا ۔ آسام میں دو ڈھائی سالوں تک لائن لگانا پڑی ۔ لوگوں کی توہین ہوئی ۔ صحت تباہ‌ ہوئی ۔ہارٹ‌ اٹیک کے واقعات ہوئے۔ غریبوں کو‌ این آر سی کا خرچہ اٹھانے کے لیے فصل، بیل ، باغ بیچنا پڑا ۔ قرض لینے پڑے ، اذیت اٹھانی پڑی ۔جیل‌ جانا پڑا ۔ معیشت تباہ ہوئی ۔گھر تباہ ہوا ۔
پورے بھارت میں این آر سی ہونے کا مطلب ہے پبلک ان تمام مشکلات سے گزرے جن سے آسام میں لوگوں کو گزرنا پڑا ۔ سالوں یہ عمل چلے ، لاکھوں کروڑ سرکار اور پبلک کا خرچ ہو ۔زندگی معطل ہو‌کر رہ جائے۔
این آر سی سے چھان کر عمداً تین کروڑ مسلمانوں کو بے گھر اور بے امان بنا دیا جائے۔ جیسا کہ یہ پلان سیاسی حلقوں میں گردش‌کر رہا ہے ، ’مسلم فری بھارت ‘ ’ملا جاؤ قبرستان یا تو‌ جاؤ پاکستان‘ یا ’ دیش کے ان غداروں کو گولی مارو ساروں ‘ کے نعرے‌ بلا‌وجہ نہیں لگ رہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *