ہندوتوا شرپسندی کے شکار منور فاروقی پر کارروائی صرف اس لئے کہ وہ ایک مسلمان ہے؟ فاروقی نے نہیں کی تھی دیوی دیوتاؤں کی بے عزتی!

ہندوتوا شرپسندی کے شکار منور فاروقی پر کارروائی صرف اس لئے کہ وہ ایک مسلمان ہے؟ فاروقی نے نہیں کی تھی دیوی دیوتاؤں کی بے عزتی!

بی جے پی رکن اسمبلی کے بیٹے ایکلویہ نے پہلے تو منور کی پٹائی کی اور پھر پولس میں شکایت درج کرائی۔ حیرت ہے کہ پولس نے منور سمیت 5 لوگوں کو گرفتار کر لیا اور پٹائی کرنے والوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اندور: (تنویر) ہندوتوا ذہنیت کے لوگوں کی پٹائی کے شکار اور پھر پولس کے ذریعہ گرفتار اسٹینڈ اَپ کامیڈین منور فاروقی کے تعلق سے ایک بہت بڑا انکشاف ہوا ہے، اور وہ یہ کہ انھوں نے اپنے پروگرام میں کسی دیوی دیوتا کی بے عزتی نہیں کی، اور نہ ہی گودھرا واقعہ کے تعلق سے کوئی ہتک آمیز بات کی۔ ’ہند رکشک‘ تنظیم کے کارکنان نے جو ویڈیو پولس کے سامنے پیش کی تھی، اس کو دیکھنے کے بعد پولس کا جو بیان سامنے آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ہندو دیوی دیوتا کے بارے میں کوئی قابل اعتراض بیان اس میں نہیں ہے۔

دراصل یکم جنوری کو مدھیہ پردیش میں ایک پروگرام کے دوران ہندوتوا ذہنیت کے شرپسند عناصر نے منور فاروقی کی پٹائی کی تھی اور انھیں پولس کے حوالے کر دیا تھا۔ پولس نے مختلف دفعات کے تحت منور سمیت پانچ لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ جن دیگر چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان کے نام پرکھر ویاس، پریم ویاس، نلن یادو اور پروگرام کو آرڈنیٹر ایڈون انتھنی ہیں۔ منور فاروقی پر الزام یہ بھی عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے لیے بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ منور کی ظالمانہ طریقے سے پٹائی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے اس سلسلے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں پولس کے بیان کے ساتھ ساتھ پروگرام میں موجود کچھ چشم دید کا حوالہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ منور فاروقی نے نہ ہی کسی دیوی دیوتا کی بے عزتی کی اور نہ ہی امت شاہ کے تعلق سے کوئی نازیبا بات کہی۔ جینوشا ایگنس نامی ایک سامع نے اپنے انسٹاگرام پر لکھا ہے کہ – جب منور اسٹیج پر پہنچا، کچھ لوگ جن کا سیاسی لوگوں سے تعلق تھا، اسٹیج کی طرف بڑھے، منور سے مائک چھینا اور کہنے لگے کہ ’’ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ گودھرا واقعہ پر جوکس کیے۔ ہمارے دیوی دیوتاؤں کا مذاق اڑایا۔ اسلام پہ جوکس کیوں نہیں کرتا ہے۔‘‘ سامع نے مزید کہا کہ ’’اندور پروگرام میں منور فاروقی نے کوئی ہتک آمیز کلمہ نہیں کہا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ اندور پولس نے ایکلویہ گوڑ نامی شخص کے کہنے پر فاروقی سمیت پانچ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا اور انھیں گرفتار کیا تھا۔ ایکلویہ گوڑ اندور-4 بی جے پی رکن اسمبلی مالنی گوڑ کے بیٹے ہیں۔ ایکلویہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’وہ (منور) کئی بار ہندو دیوی دیوتاؤں پر ہتک آمیز جملے استعمال کر چکا ہے۔‘‘ ایکلویہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’جب ہم نے یہ سنا کہ منور کا پروگرام ہونے والا ہے، تو ہم نے ٹکٹ خریدے اور پروگرام میں کچھ ساتھیوں کے ہمراہ پہنچ گیا۔ جیسا کہ امید تھی، اس نے ہندو دیوتاؤں کی توہین کی اور ہمارے وزیر داخلہ امت شاہ کا گودھرا واقعہ کو لے کر مذاق بنایا۔‘‘
ایکلویہ گوڑ اور ان کی تنظیم ’ہند رکشک‘ کے کارکنان نے منور فاروقی کی زبردست پٹائی کرنے کے بعد انھیں تکاگنج پولس اسٹیشن میں لے جا کر پولس کے حوالے کر دیا اور ساتھ میں ایک ویڈیو بھی دیا۔ پولس نے منور اور دیگر چار کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 295 اے، 298، 269، 188 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ جب یہ خبر چاروں طرف پھیلی تو ورون گروور، ویر داس، کنیز شکلا، اگریما جوشوا اور روہن جوشی سمیت متعدد کامیڈین نے سوشل میڈیا پر منور فاروقی کی حمایت میں آواز بلند کی۔ کئی لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا منور فاروقی کے خلاف صرف اس لیے کارروائی کی گئی کیونکہ وہ ایک مسلمان ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *