بنگال کا درد: شکر ہے اویسی کی وجہ سے ہمیں یاد تو کیا ! 

بنگال کا درد: شکر ہے اویسی کی وجہ سے ہمیں یاد تو کیا ! 

 مسعود جاوید

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات تقریباً چار ماہ بعد ہونے ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں بشمول مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی صاحب نے اپنی انتخابی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں ۔ سب زیادہ سرگرمی ” سیکولر پارٹیوں ” کی حریف بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے ہو رہی ہے ۔ بی جے پی کے مد مقابل ہر ” سیکولر پارٹی کی زبان پر یہی ہے کہ بی جے پی کو بنگال میں دبدبہ بنانے سے روکا جائے لیکن عملاً ابھی تک اس کے لئے یہ کوئی مؤثر لائحہ عمل بنانے میں ناکام ہیں ۔

کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کے سربراہوں کا رویہ مایوس کن ہے ایسا لگتا ہے کہ ممتا جی کے بغض میں یہ کسی عظیم اتحاد کے تصور سے اپنے آپ کو الگ رکھیں گے ۔ ممتا جی کی بعض غلطیوں کی وجہ سے ان کے بعض اثر رسوخ والے پارٹی کے نمایاں کارکنان اور بعض موقع پرست ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ ایسی صورت میں اگر اکثریت حاصل نہیں ہوتی ہے تو ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی شکست کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑا جائے گا ۔

دانشوروں کی رائے ہے اور بہت حد تک صحیح رائے ہے ، میں بھی اس رائے سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہندوتوا کی فرقہ پرستی کا جواب متبادل مسلم سیاسی پارٹی نہیں سیکولرازم کو مضبوط کرنا ہے ۔

لیکن میرا سوال برقرار ہے کہ کیا سیکولرازم کو مضبوط کرنے سے مراد مسلمانوں کو انتخابی سیاست سے الگ تھلگ کرنا ہے ، مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے کی مشین بنانا ہے؟ اگر نہیں تو ہر سیکولر پارٹی میں اوپر سے لے کر نیچے تک مسلم نمائندگی کیوں نہیں ۔ کیوں اہل امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دینے کے لئے یہ عذر لنگ کہ اکثریتی طبقے کے ووٹرز ناراض ہو جائیں گے ، ووٹ نہیں دیں گے وغیرہ وغیرہ، پیش کیا جاتا ہے ۔

مسلمانوں کےخلاف ظلم و زیادتی کے خلاف یہ سیکولر پارٹیاں آواز نہیں اٹھائے گی ، جو کہ ان کا فریضہ منصبی ہے ، اور نہ ہمارے نمائندے ہوں گے جو آواز اٹھائیں تو کیا یہ صحت مند سیکولرازم کہلائے گا؟ token appeasement ٹوپی رومال افطار پارٹی کو کیش کرانے میں نام‌ نہاد مسلم لیڈروں کا بھی مجرمانہ کردار رہا ہے ۔ دوسری طرف ان ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کی مسلم نمائندگی پر پارٹی سے وفاداری کو ترجیح دینا اور پارٹی لائن سے ہٹ کر بولنے کی جسارت نہیں کرنے کی وجہ سے مسلم ووٹرز مایوس اور بد دل ہیں کہ ایسے لوگوں کو ووٹ کرنے کا حاصل کیا ہے جو انتخابی مہم کے دوران محلے محلے پھر کر نکڑ میٹنگ میں یہ کہ کر ووٹ مانگتے ہیں کہ ہم آپ کی نمائندگی کریں گے اور جیتنے کے بعد وہ پارٹی کے غلام بن جاتے ہیں ۔ بعض اوقات ان سے کہیں بہتر غیر مسلم سیکولر ممبر پارلیمنٹ و اسمبلی ہوتے ہیں جو مسلمانوں کے جائز مطالبات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔

بنگال اسمبلی انتخابات کے تناظر میں یہ سوال غیر معقول نہیں ہے کہ کیا مرکز میں موجود ملی تنظیموں نے مغربی بنگال کے خستہ حال لوگوں کی کبھی خبر گیری کی ؟ کیا ان کے ترجمان اخبارات اور دیگر اردو و غیر اردو اخبارات و رسائل نے بنگال میں مسلمانوں کی حالت زار پر کبھی مضامین شائع کیا اور اگر کیا تو اسے موضوع بنا کر ملی قیادت نے اقتدار کی گلیاروں میں گہار لگائی ؟ کانگریس نے ریاست بنگال کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا اس لئے کہ وہاں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت رہی یہ مرکز اور ریاست کے مابین سیاسی تعلقات کا مظہر تھا لیکن مرکزی ملی اور سیاسی تنظیموں کے لئے کیا چیز مانع تھی ؟ کیا وجہ تھی کہ ملک کی سب سے بڑی ملی تنظیم جمعیۃ علماء ہند بنگال کے پڑوس آسام میں بہت زیادہ متحرک رہی مگر کثیر مسلم آبادی والی ریاست مغربی بنگال کو نظر انداز کیا! شاید اسی وجہ سے جمعیت پر بعض لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ کانگریس کی ضمنی تنظیم ہے ۔ کیا وجہ رہی کہ مرکزی ملی تنظیموں کے کلیدی اور غیر کلیدی عہدوں پر عموماً ہمیشہ شمالی ہند بالخصوص اترپردیش اور بہار کے لوگ فائز ہوتے رہے ( جنوبی ہند الحمدللہ ملی قیادت میں خود کفیل ہے مرکز میں بیٹھے بڑے بڑے القابات والوں کے محتاج نہیں ہیں) کبھی بنگال کے لوگوں کی ان عہدوں تک رسائی نہیں ہوئی ۔ کبھی بنگال میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر ، فاقہ کشی اور قابل رحم روز مرہ کی زندگی پر ملی سربراہان سر جوڑ کر نہیں بیٹھے ، احتجاجی جلسے ہوم منسٹر اور متعلقہ ارباب حل و عقد کو میمورنڈم نہیں دئیے گئے ! ان کی تعلیمی اور معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لئے کوئی لائحہ عمل اور بجٹ کیوں نہیں ؟

بالفاظ دیگر اس ” بھوکا بنگال ” کو قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا ۔ (بعض استثناءات کے ساتھ)

اویسی صاحب کی بنگال میں انٹری مسلمانانِ ہند بالخصوص مغربی بنگال کے مسلمانوں کے لئے مفید ہے یا مضر ، اس بحث سے قطع نظر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اویسی صاحب کے بنگال دورہ نے مسلمانانِ ہند کو بنگال کے بارے میں سوچنے نہیں تو جاننے کا موقع دیا ہے ۔ اس سے قبل بنگال کے اسمبلی انتخابات ہوں یا مقامی انتخابات شمالی ہند میں موضوع سخن نہیں بنتے تھے ۔

حیدرآباد کے صاحب خیر حضرات جو امریکہ میں برسوں سے مقیم ہیں اور کیرلا کے صاحب خیر جن کی تجارت خلیجی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے، نے مغربی اترپردیش کے بعض علاقوں میں اپنے اخراجات پر تعلیمی مراکز قائم کئے ہیں ۔ اللہ کرے ان کی نظر کرم بنگال تک پہنچے ۔ کاش ہمارے اصحاب خیر اور بات نہیں کام کرنے والے لوگوں تک یہ میسج پہنچے کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی بیداری کا کام کرنے کے لئے بنگال بہت زرخیز زمین ہے ۔ ثواب دارین حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے ۔ اس کثیر مسلم آبادی والی ریاست جس کے مرشد آباد میں ۶۶؍۳ فیصد مسلم آبادی ہے اور اس میں ۲۲ اسمبلی حلقہ جات ہیں ، مالدہ ۱۵؍۳ فیصد ۱۲ حلقے، شمالی دیناج پور ۵۰ فیصد‌ ۹ حلقے بیر بھوم ۳۸؍۱۰ فیصد ۱۱ حلقے، جنوبی چوبیس پرگنہ ۳۵؍۶ فیصد ۳۱ حلقے مغربی بردوان ۳۰؍۲ فیصد ۹ حلقے ہیں۔ ریاست بنگال میں مجموعی فیصد ۲۷؍۲ فیصد ہے۔

جہاں تک اویسی صاحب کی بنگال میں انٹری کا تعلق ہے ، دستور ہند نے ان کو اور ان کی پارٹی کو ضمانت دی ہے کہ ملک میں کسی بھی علاقے سے الیکشن لڑیں ہم اس حق کی پامالی نہیں کر سکتے ہاں ! مصلحت کا تقاضا اگر ہے تو انہیں خود صحیح فیصلہ کرنا چاہیے ۔ اور بہی خواہان کو حکمت سے اچھے انداز میں انہیں قائل کرنا چاہیے ، اس لئے کہ ہمیں خود اپنے نفع اور نقصان کے بارے میں سوچنا ہے ۔ جو بنگال کی زمینی حقیقت سے واقف نہیں ہیں جو وہاں کی بستیوں کی رہائشی بودوباش کے تناسب سے واقف نہیں ہیں وہ اپنے کمروں میں دفتروں میں بیٹھ کر دانشوری بگھار سکتے ہیں ، مگر اہل بنگال آپ اپنی حالت کے بگڑنے دینے یا سدھارنے کے ذمے دار آپ خود ہوں گے ۔ آپ جوش میں نہیں ہوش میں رہ کر فیصلہ کریں ۔

 یہ انسانی فطرت ہے کہ بسا اوقات بغض معاویہ اتنا غالب ہو جاتا ہے کہ ہم حب علی کے نام پر خود اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پچھلے چند سالوں سے مسلمانان ہند کو طرح طرح کے مصائب کا سامنا ہے اور ان سب کے پیچھے ہندوتوا کے نام پر متعصب امن دشمن عناصر ہیں ۔ غم و غصہ فطری ہے لیکن ان کی ضد میں ہمارے جذبات کا کوئی استحصال نہ کرے ۔ ہمارے جذباتی فیصلے ہمیں مین اسٹریم سے الگ کرنے کا سبب نہ بنے ۔۔۔۔ اس لئے ہمارے لئے خاص طور پر اس وقت بنگال کے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ کسی کی مخالفت کی بجائے متبادل تلاش کریں ۔ خالص مسلم سیاسی پارٹی کی بجائے ہم خیال غیر مسلموں کے ساتھ سیکولر پارٹی کی تشکیل دیں یا کم از کم اتنا مضبوط پریشر گروپ بنائیں کہ ممتا جی اور ان کی پارٹی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے سربراہان انہیں نظر انداز نہ کر سکیں۔ یہ پریشر گروپ علامتی مسلم خوشنودی والے مطالبات نہیں مسلمانوں کے حقیقی مسائل ؛ مسلم اکثریتی علاقوں میں پولیس اسٹشنوں پر مسلم افسران کی تقرری ، خاطی پولیس افسران کے خلاف فوری تادیبی کاروائی ، بلاتفریق مذہب و ذات و علاقہ ، پسماندہ طبقات کے گاؤں ، بستیوں اور محلوں میں رفاہی خدمات، اسکول اور صحت کے مراکز کا قیام اور جو قائم ہیں ان کو مؤثر طور پر کام کرنے کی ہدایات اور اس کے لئے بجٹ وغیرہ اس کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں تعاون کرنے والوں کو انعام و اکرام سے نوازا جانا وغیرہ عہد و پیمان اور منشور کا حصہ بنوانے کی کوشش کرے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *