مختار عباس ادارے کی خود مختاری برقرار رکھیں، اپنے بعض اقدامات اور فیصلوں پر نظر ثانی کریں: نوشاد اعظمی

مختار عباس ادارے کی خود مختاری برقرار رکھیں، اپنے بعض اقدامات اور فیصلوں پر نظر ثانی کریں: نوشاد اعظمی

نوشاد اعظمی نے یہ استدلال کرتے ہوئے کہ حج کمیٹی میں تین علمائے کرام کی شرکت لازمی ہوتی ہے، لیکن 9 جون 2016 کو جوکمیٹی بنی اس میں دو سنی علما کی جگہ آج بھی مبینہ طور پر خالی ہے۔

نئی دہلی: مرکزی حج کمیٹی کے سابق رکن اور ہندوستان سے سفر حج کرنے والے عازمین کی سہولتوں کا دائرہ بڑھانے میں سابقہ صدی کے آخری عشرے سے سرگرم حافظ نوشاد احمد اعظمی نے جو گزشتہ ڈیڑھ برسوں سے بیمار چل رہے ہیں، وزیر حج مختار عباس نقوی پر زور دیا ہے کہ وہ اس ادارے کی خود مختاری برقرار رکھیں اور اپنے بعض اقدامات اور فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔
اقلیتی امور کے نام ایک مکتوب میں جس کی نقل پریس کو بھی جاری کی گئی ہے، اعظمی نے جو 1993 اور 1998 اتر پردیش صوبائی حج کمیٹی کےممبر تھے اور 2003 میں ریاست کی طرف سے مرکزی حج کمیٹی میں بحیثیت رکن نمائندگی کی، اپنی حج مصروفیات اور حاجیوں کے لئے خدمات سے مفصل طور پر مختار نقوی کو متعارف کرایا۔
اپنے خط میں حافظ نوشاد نے سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے بعض اقدامات کا شکوہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حج ایکٹ 2002 کی اسپرٹ کو برقرا رکھا جائے اور عازمین کے لئے ضابطہ سازی کے ساتھ ان کی سہولتوں کا دائرہ وسیع کرنے کا عمل بھی آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے امور حج کی وزارت خارجہ سے اقلیتی امور کی وزارت میں منتقلی کے طریقے سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رائے سے شامل وزارت خارجہ حج امور کا ٹرانسفر پارلیمنٹ کے ذریعہ ہی ہونا چاہیے تھا۔
اعظمی نے یہ استدلال کرتے ہوئے کہ حج کمیٹی میں تین علمائے کرام کی شرکت لازمی ہوتی ہے، لیکن 9 جون 2016 کو جوکمیٹی بنی اس میں دو سنی علما کی جگہ آج بھی مبینہ طور پرخالی ہے۔ اسی طرح پانی کے جہاز سے بھی اب تک سفر حج شروع نہیں کیا گیا جس کی امید بندھائی گئی تھی۔ حج سبسڈی کو دھیرے دھیرے ختم کرنے کے بجائے 2018 میں ایکدم سے ختم کردینے کو بھی انہوں نےعاجلانہ بتایا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق سبسڈی کی رقم مسلم کمیونٹی کی ایجوکیشن اور اس کے شوشل ویلفیر پر خرچ کرنا تھا۔
اعظمی نے کئی ریاستوں بشمول یوپی اور مہاراشٹر میں ریاستی حج کمیٹی کی تشکیل نہ ہونے کی طرف بھی ان کی توجہ مبذول کرائی۔ ممبئی حج ہاوس اور امبارکیشن پوائنٹس کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنے تحفظات سے وزیر موصوف کو آگاہ کیا اور امید ظاہر کی کہ حج کمیٹی کو اور فعال کرنے پر توجہ دی جائے گی تاکہ اس سو سالہ ادارے کو نقصان نہ پہنچے۔ مکتوب کی نقلیں انگریزی میں جوائنٹ سکریٹری (وزارت خارجہ )، جوائنٹ سکریٹری (وزارت حج) اور سی او حج کمیٹی آف انڈیا کو بھی بھیجی گئی ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *