مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ: بھگوا ملزم کرنل پروہت کو زبر دست دھچکا ، سینئر ایڈوکیٹ مکل روہگتی نے پیروی کرنے سے کردیا انکار

مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ: بھگوا ملزم کرنل پروہت کو زبر دست دھچکا ، سینئر ایڈوکیٹ مکل روہگتی نے پیروی کرنے سے کردیا انکار

بم دھماکہ متاثرین نے کرنل پروہت کی پیروی کرنے پر اعتراض کیا تھا: گلزار اعظمی
ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہت کوآج اس وقت شدید دھچکہ لگا جب اس کی پیروی کرنے والے سابق اٹارنی جنرل آف انڈیا سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے ہائی کورٹ میں اس کا دفاع کرنے سے انکار کردیا۔مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں شہید ہونے والے چھ افراد کے اہل خانہ نے بذریعہ خط ایڈوکیٹ مکل روہتگی کے کرنل پروہت کا دفا ع کرنے پر اعتراض کیا تھا کیونکہ ماضی میں وہ این آئی اے اور مرکزی حکومت کی جانب سے کرنل پروہت کے خلاف عدالت میں پیش ہوچکے تھے۔
آج جیسے ہی عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس کارنک نے کرنل پروہت کی وکیل نیتا گھوکھلے سے دریافت کیا کہ سینئرایڈوکیٹ مکل روہتگی اس معاملے میں ملزم کرنل پروہت کے دفاع میں پیش ہونے والے تھے لیکن آج وہ دکھائی نہیں دے رہے ہیں جس پر ایڈوکیٹ نیلا گھوکھلے نے عدالت کو بتایا کہ بم دھماکہ متاثرین نے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی کو ایک خط روانہ کرکے ان کے ملزم کے دفاع میں پیش ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ وہ کرنل پروہت کے لیئے پیش نہ ہوں نیز اگر وہ ملزم کے لیئے پیش ہونگے تو اس سے انصاف کا خون ہوجائے گا کیونکہ وہ پہلے ملزم کے خلاف پیش ہوچکے ہیں اور انہیں اس مقدمہ کی باریکیاں معلوم ہے جس سے ملزم کو فائدہ مل سکتاہے۔
ایڈوکیٹ مکل روہتگی کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت نے ایڈوکیٹ نیلا گھوکھلے کو حکم دیا کہ وہ بحث کریں جس کے بعد ایڈوکیٹ نیلاگوکھلے نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو گرفتار کرنے سے قبل اے ٹی ایس نے کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ (2) 197کے تحت ضروری خصوصی اجازت نامہ یعنی کے سینکشن آرڈر حاصل نہیں کیا گیا تھا لہذا ملزم کی گرفتاری ہی غیر قانونی ہے۔
ایڈوکیٹ نیلا گوکھلے نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کرنل پروہت کو آرمی کی جانب سے بھی کلین چٹ ملی ہے کہ وہ بم دھماکوں کی سازش میں شامل نہیں تھا بلکہ وہ اپنی ڈیوٹی نبھا رہاتھا۔
ایڈوکیٹ نیلا گوکھلے کی بحث کے بعد جسٹس ایس ایس شندے نے بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی(سابق سالیسٹر جنرل آف انڈیا) کو حکم دیا کہ بحث کریں جس پر بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ متعدد درخواستوں کے باوجود ابھی تک کرنل پروہت نے انہیں رازدارانہ دستاویزات مہیا نہیں کروایا ہے جس کی بنیاد پر وہ مقدمہ سے ڈسچار ج کی درخواست کررہا ہے۔
ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ پبلک سرونٹ کو گرفتار کرنے سے قبل کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ(2) 197 کے تحت اعلی افسر سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں کرنل پروہت آفیشیل ڈیوٹی پر ہونے کے باوجود غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا لہذاکرنل پروہت 197 دفعہ کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
مقدمہ کی سماعت آن لائن ہورہی تھی لیکن درمیان میں ہی انٹر نیٹ سگنل کمزور ہونے کی وجہ سے ممبئی ہائی کورٹ اور ایڈوکیٹ دیسائی کا رابطہ منقطع ہوگیا جس کے بعد جسٹس ایس ایس شندے نے بی اے دیسائی کو فون کیا اور ان کی بقیہ بحث ٹیلی فون پر سماعت کی جس کے دوران عدالت نے انہیں بتایا کہ رازدارانہ دستاویزات کے تعلق سے عدالت 2 فروری کو فیصلہ صادر کریگی نیز اس مقدمہ میں بہت زیادہ پیچیدگیاں ہیں لہذا عدالت 2 فروری کو آن لائن کی بجائے آف لائن یعنی کہ روبرو سماعت کریگی جس پر بی اے دیسائی نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے رازدارانہ دستاویزات حاصل کرنیکے لیئے خصوصی عرضداشت بھی داخل کی ہے جس پر عدالت کو مثبت فیصلہ صادر کرنا ہوگا نہیں تو اس معاملے میں مکمل انصاف نہیں ہوگا، جسٹس ایس ایس شندے نے بی اے دیسائی کو یقین دلایا کہ وہ اس تعلق سے 2 فروری کی سماعت پر تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ صادر کریں گے۔دوران کارروائی ایڈوکیٹ بی اے دیسائی کی معاونت کے لیئے وکلاء شاہد ندیم،ہیتالی سیٹھ، کرتیکا اگروال، ارشد شیخ،عادل شیخ و دیگر موجود تھے۔
آج کی عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں شہید ہونے والے چھ افراد کے والدین، بھائی بہن، بیوی اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی کے ملزم کے دفاع میں پیش ہونے پر اعترض کیا تھا جس کی بناء پروہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس سے کرنل پروہت کو دھچکہ لگا ہے کیونکہ ایڈوکیٹ مکل روہتگی کی وجہ سے ہی عدالت نے کرنل پروہت کی عرضداشت کو سماعت کیلئے قبول کیا تھا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *