سینٹ انتخابات کا گورکھ دھندہ

سینٹ انتخابات کا گورکھ دھندہ

حلیم عادل شیخ

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ سینٹ کے ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے قومی وصوبائی اسمبلی کے ذریعے ہوتا ہے ، چاروں صوبوں کے صوبائی کوٹے سے آنے والے سینیٹرز اپنے اپنے صوبائی اسمبلی کے ارکان کے کوٹے سے منتخب ہوتے ہیں ،جبکہ فاٹا کے سینیٹرز کا انتخاب کچھ اس طرح ہے کہ ان کا انتخاب قومی اسمبلی میں موجود فاٹا کے بارہ ارکان اسمبلی کرتے ہیں ،اسی طرح اسلام آباد کے سینیٹرز کا چناؤ وقومی اسمبلی کے تمام ارکان ملکر کرتے ہیں ،لیکن شاید یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہو کہ اس سلسلے میں کچھ سینیٹ کی سیٹیں صوبائی اسمبلی کے ممبران کو پیسہ دیکر بھی حاصل کی جاتی رہی ہیں ،سابقہ فاٹا کے بارہ ممبران نیشنل اسمبلی کے آٹھ سینیٹ کے ممبران منتخب کرتے تھے اور یہاں پر چونکہ ووٹ دینے والوں کی تعداد کم تھی لہذا پیسے کے استعمال کے سلسلے میں کافی خبریں بھی آتی رہتی ہیں ۔ باقی صوبوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی رہاہےاسی وجہ سے سینٹ کا انتخاب ہمیشہ سے ہی مشکوک صورتحال کی نظر رہاہے ، اب بھی سینٹ کی باون نشستیں بارہ مارچ کو خالی ہونے جارہی ہیں اور سینٹ انتخاب کے ذریعے نئے ارکان ہی ان نشستوں کو جاکر سنبھال سکیں گے جن میں سے کچھ نئے تو کچھ وہی پرانے لوگ نظر آئینگے، پاکستان کی یہ المناک سیاست اپنی جگہ ہے مگرہمارے ہمسائے ملک بھارت میں بھی سینٹ انتخابات میں کرپشن کا بازار لگتارہاہے لیکن سنہ 2003 میں انڈیا میں موجود ایوان بالا کے ممبران کا انتخاب اوپن کروانے کی ترمیم کی گئی اور اس طرح کرپشن کے اس عمل یعنی خفیہ رائے شماری کے عمل کو ختم کردیا گیا،افسوس تواس بات کا ہے کہ ماضی کی حکومت کی لوٹ مار اور نا اہلیوں کی وجہ سے پاکستان میں میں کرپشن کی بیماری اس قدر پھیل گئی ہے کہ اسکو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کو غیرمعمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ اسی طرح سیاسی نظام میں شفافیت اور عوام کی فلاح کے اقدامات کرنے کے رحجانات کی حوصلہ شکنی ہوتی رہے گی ، ان غیر معمولی اقدامات میں ایک قدم یہ بھی ہے کہ کسی بھی کینیڈیٹ کا سپوٹر میڈیا اور عوام کے ممبران اعلیٰ کے سامنے اپنے ووٹ کا استعمال کرے یعنی اسمبلی میں کھڑے ہوکر کسی خاص ممبرکے لیے حمایت کا اعلان کرے جو سب کے سامنے ہو،اس طرح یہ بھی پتہ لگ جائے گا کہ کس نے کس کو ووٹ دیاہے اور پھر یہ امکان بھی ختم ہوجائے گاکہ خفیہ طریقے سے کس نے اپنی پارٹی کی ہدایات کو نظر اندازکیا اور کس نے اپنے مخصوص فائدے کے لیے ووٹ کو استعمال کیا،مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے اس فیصلے کی کھلی مخالفت کررہے ہیں جو اس بات کی جانب واضح اشارہ بھی ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں ماضی میں کس طرح سے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اپنے سینیٹرز منتخب کرواتی رہی ہیں ،جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دوسابق وزراعظم میاں نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو میثاق جمہوریت کے نام پر اس بات پر متفق تھے کہ ملک میں انتخابات شفاف طریقے سے ہونے چاہیے اور آج یہ دونوں جماعتیں اپنے ہی موقف سے پیچھے ہٹ رہی ہیں ، اس کے علاوہ جہاں تک ان جماعتوں کے استعفوں کی بات ہے تو اس سلسلے میں حزب اختلاف کی ان جماعتوں میں اتفاق ہی نہیں ہے کیونکہ بہت سے ممبران اپنے ان سیاسی آقاءوں کے کہنے پر ایسا نہیں کریں گے اور جو استعفیٰ دے بھی دینگے تو ان کی تعداد بہت کم ہوگی اور ان کم استعفوں میں بھی سینیٹ کا انتخاب ہوسکتاہے ،پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن صاحب اپنی جماعت کی قانونی رہنمائی خود ہی فرماچکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کو تحلیل کروانے کے لیے ایک سو پچاس استعفے ناکافی ہونگے حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے کم ازکم دو سو انسٹھ استعفے درکار ہونگے اور یہ کہ حکومت چوراسی اراکین کی موجود گی میں بھی چل سکتی ہے ،اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ پی ڈی ایم کی جانب سے بہاول پور کے ناکام جلسے کے بعد وفاقی حکومت کو گرانے کے لیے بننے والی تنظیم کے جلسوں کا بھی ڈراپ سین ہوچکاہے ،اس پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اراکین نے ہی اپنے قائد کے خلاف آواز بلند کرڈالی ہے اوراس سلسلے میں جمیت علماء اسلام ( ف) مولانا شیرانی کی جانب مولانا فضل الرحمان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں اس نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے اب تو مولانا صاحب جو بات بات میں وزیراعظم عمران خان کو دھمکیاں دیا کرتے تھے اور یہ کہاکرتے تھے کہ میری جھولی میں تمام جماعتوں نے ہی استعفے ٰ جمع کروادیے ہیں ، اس پر آج کل یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ میں اس وقت سخت مشکل میں ہوں عوام سے رائے چاہتاہوں کہ کیاکروں دوسری جانب بلاول صاحب نے بھی پیپلزپارٹی کی روایات کو دہراتے ہوئے سب سے پہلے پی ڈی ایم کی پیٹھ کے پیچھے چھرا گھوپنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے ، بلاول کی بڑھکیں بھی آصف زرداری کی موقع پرستی کی مداخلت کے باعث ڈھیر ہوچکی ہیں اور آج کل بلاول صاحب کا کہنا ہے کہ وہ استعفوں کی بجائے حکومت کے خلاف اپناقدم پارلیمنٹ میں رہ کر اٹھائینگے ،لیکن میں ان تمام منافقانہ سیاست کے باوجود یہ سمجھتاہوں کہ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ شفافیت کے اس عمل میں حکومت کی مخالفت کرنے کی بجائے حکومت کا ساتھ دے کیونکہ سینیٹ انتخاب کا موجودہ طریقہ کار کایہ عمل سراسر جھوٹ اور منافقت کے نظام پر مبنی ہے اس سلسلے میں کھلی ووٹنگ اور ہاتھ کھڑے کرنے کے سلسلے کو استعمال کرنا ہوگا اس عمل کو کم ازکم تجرباتی بنیادوں پر تجرباتی سطح پر استعمال کرکے ضرور دیکھنا چاہیے کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ہمارا اندازہ ہے کہ اس سلسلے میں ضرور اس سیاسی عمل میں شفافیت آنے میں مدد ملے گی اور میں یہ بھی سمجھتاہوں کہ یہ تجربہ ہم سب کے لیے فائدہ مند ہوگا لہذا اس عمل سے تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں فائدہ حاصل ہوگا اور ہ میں یہ شکایت بھی نہیں ملے گی کہ فلاں سینیٹر نے پیسہ لگاکر اپنی سیٹ کو حاصل کیاہے ،اس میں بڑی جماعتوں کے ساتھ چھوٹی جماعتوں کو بھی اس خطرہ سے نجات ملے گی کہ ان کے ممبرووٹرکو کہیں ورغلانہ لیا جائے ، اس سلسلے میں حکومت نے تو سپریم کورٹ سے رجوع کرلیاہے ،جہاں حکومت کو ماضی میں سینٹ انتخابات میں ہونے والی ہیرا پھیریوں کے حوالے سے تفاصیل کو پیش کرنا ہوگا اور یہ بتانا ہوگا کہ خفیہ رائے شماری کے انتخابات میں کس کس طرح سے ممبر ووٹر کو کے ووٹ کو آگے پیچھے کیا جاتا رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ مدلل انداز میں یہ تفتیش پیش کی گئی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ سپریم کورٹ مارچ 2021 میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات کو کھلی رائے شماری کے زریعے کرنے کی اجازت دیدے گی،جو کہ ایک انقلابی قدم بھی ہوگا اور اس انتخابی قدم سے کوئی یہ نہ کہہ سکے گا کہ سینٹ انتخاب میں دھاندلی ہوئی ہے،اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 186کے تحت جو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا گیاہے کہ اس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ ماضی میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات آئین کے تحت نہیں کروائے گئے جبکہ سینٹ کے اگلا انتخاب اوپن بیلٹ کے تحت کروایا جاسکتاہے ،اور اس میں جہاں تک سینٹ انتخابات میں جلدی کروانے کی بات ہے وہاں آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ ممبران کی مدت ختم ہونے سے تیس دن پہلے تک انتخابات کروائے جاسکتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ بارہ فروری سے بارہ مارچ کے درمیان کسی بھی وقت سینٹ کے ممبران کے انتخابات منعقد کیئے جاسکتے ہیں ،جس کی آئین واضح اجازت بھی موجود ہے لہذا اس بات کے لیے نہ کسی نئے قانون کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جانا پڑے گا، دوسری جانب اگر سینٹ میں اوپن بیلٹ انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی تو یہ صرف کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ پورے پاکستان اور اس کی عوام کی جیت ہوگی اور اس سلسلے میں فیصلہ اب عوام خود ہی کرے کہ اس ملک کی بہتری کے لیے مولانا فضل الرحمان ، نوازشریف اور مریم نواز جیسے غیر منتخب اور غیر سنجیدہ لوگ کی ہٹ دھرمی ضروری ہیں یا پھر وہ شخص جو ان لوگوں سے ملکی لوٹ مار کا حساب مانگ رہا ہے ۔ ختم شد

(ممبر سندھ اسمبلی، پارلیمانی لیڈر تحریک انصاف سندھ)
haleemadilsheikh@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *