اِیْگَلْ اکیڈمی: انگلش زبان سیکھنے کا بہترین پلیٹ فارم

اِیْگَلْ اکیڈمی: انگلش زبان سیکھنے کا بہترین پلیٹ فارم

امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی
موجودہ دور گلوبلائزیشن کا دور ہے، کچھ بھی زمان ومكان کی قید وبند میں نہیں رہا ،اب ہر چیز عالمی ہو گئی ، اسی گلوبلائزیشن کا نتیجہ ہے کہ انگلش زبان جو ایک مخصوص دنیا کی زبان تھی، اب عالمی زبان ہوگئی ، کیا مشرق ومغرب، کیا شمال وجنوب؟ ہر طرف یہ زبان، زبان زد عام و خاص ہو گئی ، اس پر طرہ یہ کہ عالمی پلیٹ فارم پر شعبہ حیات کے تمام موضوع پر ڈائلاگ کی زبان بھی انگلش زبان ہو گئی ، ایسے میں عالمی معاملات کو سمجھنے اور اس پر ردعمل کے لئے انگلش زبان سے واقفیت ضرورت بن گئ،اسی ضرورت نے مختلف میدانوں میں کام کرنے والے افراد کو اس زبان کے سیکھنے، سمجھنے اور اسے برتنے پر مجبور کر دیا، اس صورت حال میں علماء و مبلغین کے لئے اس زبان سے کنارہ کشی اختیار کرنا ممکن نہیں رہا، لہذا بیدار مغز علماء نے اس طرف فوری توجہ دی، مختلف جامعات قائم کئے اور علماء ومبلغین کی بڑی کھیپ انگلش زبان و أدب سے لیس کرکے دعوت و تبلیغ کے میدان میں اتار دیا؛ فجزاكم اللہ احسن الجزا ۔
میں زمانہ حفظ میں انگلش زبان کی ٹیوشن لیتا تھا، جس سے اس زبان سے بہت حد تک واقفیت ہو گئ تھی، مگر جب عربی درجات میں آیا تو اس پر توجہ نہیں رہی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے زبان پھرسے نامانوس ہوگئی ، مگر جب مدرسہ کی چہار دیواری سے نکل کر عملی میدان میں قدم رکھا اور مختلف سوچ وفکر کے لوگوں سے ملنا جلنا ہوا اور ان سے تبادلہ خیال ہوا تو پھر انگلش زبان کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی، مگر درس و تدریس کی مصروفیات کی وجہ سے عدم فرصت دامن گیر رہا، اور سیکھنے کا موقع نہیں ملا؛ زندگی یوں ہی گزرتی رہی، اور دل میں انگلش زبان سیکھنے کی تمنا مچلتی رہی، پھر کورونا وائرس نے لاک ڈاؤن کی شکل میں سنہرا موقع دیا لیکن آمد ورفت، ملنے جلنے اور روبرو تعلیم و تعلم کی ممنوعیت نے اس آرزو پر پانی پھیر دیا، اور یوں لاک ڈاؤن کے 6 مہینے گزر گئے، لاک ڈاؤن کے بعد اکتوبر میں جب دہلی آیا تو میں نے مفتی کلیم صاحب قاسمی استادِ حدیث جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی و امام و خطیب مسجد کریم ہوٹل نزد جامع مسجد دہلی سے تذکرہ کیا کہ ہمارے لئے اچھا موقع ہے ، مدرسہ بند ہے اس لیے اس وقت کو کام میں لاتے ہوئے انگلش زبان سیکھنا چاہئے ، انہوں نے بھی حامی بھری اور یہ طے ہوا کہ کوئی ادارہ تلاش کر کے انگلش زبان سیکھنے کا عمل شروع کردیں، اسی دوران مولانا حفظ الرحمن قاسمی دربھنگوی ڈائریکٹر و بانی ایگل اکیڈمی دہلی کے واٹس اپ اسٹیٹس پر نگاہ پڑی جس میں مولانا نے انگلش زبان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے آن لائن اس زبان کے سیکھنے کا پلیٹ فارم مہیا کرنے کا اعلان لگا رکھا تھا، یہ اعلان دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، اور مدتوں کی آرزو بر آئی ۔

مولانا نے اس کورس کو دو مرحلہ میں تقسیم کیا ہے، ایک بنیادی (بیسک) دوسرا ترقیاتی (ایڈوانس) دونوں کا دورانیہ تین تین ماہ ہے ، ایک کورس کی فیس دو ہزار کی معمولی رقم ہے ۔ احقر نے ایک ماہ قبل یکم دسمبر سے بنیادی کورس میں داخلہ لیا ؛ یہ ایگل اکیڈمی کی پانچویں جماعت ہے، اس میں ہم 22 ساتھی ہیں ، جن میں ایک ثلث خواتین بھی ہیں، سب ملک کے مختلف صوبوں اور ضلعوں سے ہیں ؛ اکثریت علماء کی ہے؛ ہماری جماعت کے استاذ ہیں مولانا حَسِیْن احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ، آپ دیوبند سے متصل ایک گاؤں کے باسی اور دارالعلوم دیوبند کے فاضل و مرکز المعارف ممبئی کے انگلش ڈپلومہ کے حامل ہیں ۔
آن لائن تعلیم و تعلم کا احقر کو کوئی خاص تجربہ نہیں تھا؛ اس لئے کہیں نہ کہیں دل میں یہ خیال بھی تھا کہ پتہ نہیں کچھ حاصل ہوگا بھی یا نہیں، یا محض تفریح طبع اور دل کی تسکین کا سامان تک ہی محدود رہ جائے گا؛ مگر درس کے پہلے دن تعارفی مرحلے میں اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا حفظ الرحمن قاسمی نے جب اپنے پہلے سے چل رہے چار گروپ کی کامیابی اور اس سے استفادہ کرنے والوں کے تجزیے پیش کئے تو حوصلہ کو پروان ملا اور شوق میں اضافہ ہوا ؛ خیر کر کے سبق شروع ہوا ، استادِ محترم مولانا حسین احمد صاحب کے البیلا انداز اور انگلش زبان پر انگریزوں کے لہجے میں گرفت نے ہم طلبہ کے لئے مہمیز کا کام کیا، پھر تو درس ، درس نہیں بلکہ عادت بن گئی، دن بھر رات کے نو بجنے کا انتظار رہنے لگا ؛ اس ایک مہینہ میں انگلش زبان سے زبان کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کتابی سبق اور تلفظ کی ادائیگی زبان والوں کے لہجے میں ادائیگی پر زور رہا جس سے ہمیں کافی فائدہ ہوا اور یقین مانئے اس سے ہمیں جو فائدہ ہوا اس نے انگلش زبان سیکھنے کی للک بڑھا دی ، لہٰذا ‘ ایگل اکیڈمی ‘ عوام اور بالخصوص علماء کے لئے گھر بیٹھے ہی انگلش سیکھنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے؛ اس اکیڈمی کو انگلش سیکھنے کے دیگر پلیٹ فارم سے یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کے ڈائریکٹر اور استاد مرکز المعارف کے اعلی درجے کے قابل شخصیت ہیں؛ انہیں ممبئی اور ممبئی سے باہر بڑے اسکول و کالج کے اساتذہ کو ٹریننگ دینے کے بھی تجربات ہیں؛ مرکز المعارف سے آشنا حضرات میں ڈائریکٹر صاحب کا ایک معزز مقام ہے ، درجنوں اسلامی کتب کا انگلش میں ترجمہ کر چکے ہیں اور اب بھی کئی کتابوں کے ترجمے کر رہے ہیں ، مولانا کو انگلش زبان وأدب سے کامل واقفیت کے ساتھ علوم اسلامی میں بھی بہترین دسترس حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے ہم عصر فاضلوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ؛ اس لئے ہم علماء برادری کے لئے جبکہ اکثر مدارس بند ہیں اس سے استفادہ کا بہترین موقع ہے ؛ ہمارے پاس موقع ہے کہ اس پر گرفت حاصل کرکے اسے اسلامی علوم وفنون کی زبان بنا دیں جیسا کہ اردو و فارسی ہے؛ ایک لطیفہ پر اپنی بات ختم کرتا ہوں، ایک جمعہ بیان میں انگلش زبان کے الفاظ بہت کثرت سے بے اختیار نکلے ، موضوع سخن ہی ایسا تھا کہ نئی نسل کے سمجھنے کے لیے انگلش کے الفاظ کا استعمال مجبوری تھی؛ خیر میرے ایک مقتدی پرانے جماعتی ہیں ؛ جامع مسجد کے حلقہ میں ان کا بڑا نام ہے ، ان کا معمول ہے کہ جمعہ کے بعد وہ احقر کے حجرہ میں تشریف لائیں گے اور کچھ نہ کچھ خامی نکال کر نصیحت کریں گے، میں انہیں بڑے احترام سے سنتا اور عمل کی یقین دلاتا ہوں، یہ پہلا جمعہ تھا جس میں موصوف نے احقر کی جم کر تعریف کی اور فرمایا کہ مولانا ایسے ہی بیان کی قوم کو ضرورت ہے ؛ یہ انگلش زبان کی کرامت تھی ۔ الغرض انگلش زبان کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، لہذا آئیں اس پر توجہ دیں ؛ اللہ ‘ ایگل اکیڈمی ‘ کا فائدہ عام و تام کرے ؛ ڈائریکٹر اور استاد محترم کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو اس زبان پر عبور عطاء کرے اور اس زبان کے ذریعے دعوت و تبلیغ کا کام لے ؛ آمین یارب العالمین ۔
(٭ استاذ حدیث جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی
امام و خطیب مسجد حوض والی نزد جامع مسجد دہلی)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *