ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف عراقی عدالت نے جاری کیا گرفتاری وارنٹ

ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف عراقی عدالت نے جاری کیا گرفتاری وارنٹ

گرفتاری وارنٹ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سے جڑے ایک معاملہ میں جاری کیا گیا ہے۔ جنرل قاسمی سلیمانی کا قتل جنوری 2020 میں اس وقت کر دیا گیا تھا جب وہ بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر تھے۔
ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو کیپٹل بلڈنگ تشدد معاملہ پر چہار جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور دوسری طرف عراق کی ایک عدالت نے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ یہ گرفتاری وارنٹ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سے جڑے ایک معاملہ میں جاری کیا گیا ہے۔ جنرل قاسمی سلیمانی کا قتل جنوری 2020 میں اس وقت کر دیا گیا تھا جب وہ بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر تھے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ٹرمپ کے خلاف گرفتاری وارنٹ بغداد کے انویسٹی گیٹو کورٹ نے جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے واشنگٹن کے اشارے پر کیے گئے ڈرون حملے کی جانچ کا حکم بھی دیا ہے۔ اس حملے میں جنرل سلیمانی اور ابو مہدی المہاندس ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ جانکاری عراقی عدالت کے میڈیا دفتر سے دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری وارنٹ پہلے سے طے قتل کے الزامات کو لے کر تھا جس میں الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا ہوتی ہے۔
اعلیٰ عدالتی کونسل کی طرف سے جاری بیان کے مطابق عدالت نے ٹرمپ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ مہاندس کے اہل خانہ ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کا بیان سننے کے بعد لیا گیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس معاملے کی جانچ چل رہی ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ جنرل سلیمان اور ابو مہدی المہاندس کے قتل کے بعد سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا اور امریکہ و عراق کے رشتوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ بعد ازاں شیعہ لیڈروں نے حکومت پر بیرون ملکی افواج کو ملک سے باہر بھیجنے کے لیے ایک قرارداد پاس کیا تھا۔ تب سے ہی ایران حامی گروپ عراق میں امریکہ کی موجودگی پر ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *