امریکی کانگریس نے جوبائیڈن کی جیت کی کردی تصدیق ، عہدۂ صدارت کی حلف برداری 20 جنوری کو ہوگی

امریکی کانگریس نے جوبائیڈن کی جیت کی کردی تصدیق ، عہدۂ صدارت کی حلف برداری 20 جنوری کو ہوگی

 واشنگٹن: امریکی کانگریس نے ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کی جیت کی تصدیق کردی ہے۔
کانگریس نے کپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے باعث تاخیر کا شکار ہونے مشترکہ اجلاس کے بعد نومنتخب صدر جوبائیڈن کی جیت کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوبائیڈن اگلے امریکی صدر جب کہ کمالا ہیرس نائب صدر ہوں گی، حلف برداری کی تقریب 20 جنوری کو ہوگی جس کے بعد ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن امریکا کے 46 ویں صدر بن جائیں گے۔
رپبلکن سینیٹر مچ مکونیل نے مشترکہ اجلاس کے دوران کہا کہ امریکی سینیٹ کو کسی بھی صورت مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈرایا نہیں جاسکتا، ہم کسی بھی صورت لاقانونیت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے اور آئین کے تحت اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے۔
امریکی آئین کے مطابق انتخابات کے بعد کانگریس کو ریاستوں کی جانب سے جمع کرائے گئے الیکٹورل کالج کے ووٹس کی گنتی کرنا ہوتی ہے جس کے تحت جوبائیڈن نے 306 جب کہ ٹرمپ نے 232 ووٹ حاصل کیے۔
گزشتہ روز نائب امریکی صدر مائیک پینس کی سربراہی میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں جیت کی باقاعدہ تصدیق کے لیے کانگریس اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا کہ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل کے باہر رکاوٹیں توڑ دیں اور عمارت کے اندر داخل ہوگئے تھے جس کے بعد مشترکہ اجلاس کچھ وقت کے لیے معطل کیا گیا۔
ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کے دوران 4 افراد ہلاک بھی ہوئے جس کے بعد واشنگٹن اور دیگر ریاستوں میں نیشنل گارڈ کے دستے بلالیے گئے اور دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ انتخابات کے نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی کئی وفاقی اور ریاستی عدالتوں سے انتخابات میں دھاندلی کے مقدمات خارج کیے جانے کے باوجود سپریم کورٹ بھی گئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے پینسلوینیا کے انتخابی نتائج کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن میں استدعا کی تھی کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں میں بے ضابطگیاں ہیں اس لیے عدالت پینسلوینیا کی جنرل اسمبلی کو از خود ریاست کے الیکٹرز کا انتخاب کرنے کی اجازت دے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *