آزادی کے بعد ہندوستان پہلی بار ’دو راہے‘ پر، حکومت عوام کی کمر توڑنے میں مصروف: سونیا

آزادی کے بعد ہندوستان پہلی بار ’دو راہے‘ پر، حکومت عوام کی کمر توڑنے میں مصروف: سونیا

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے متنازعہ زرعی قوانین اور پٹرول-ڈیزل و رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت غریب، کسان اور متوسط طبقہ کی کمر توڑ رہی ہے۔

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے متنازعہ زرعی قوانین اور کورونا بحران میں بدحال معیشت میں حکومت کے ذریعہ پٹرول-ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت بڑھانے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں یو پی اے حکومت کے برابر کر کے بے حال عوام کو راحت دیں اور تینوں زرعی قوانین کو بھی فوری رد کر کے کسانوں کے مطالبات پورے کیے جائیں۔
کانگریس صدر سونیا گاندھی نے متنازعہ زرعی قوانین اور کورونا بحران میں بدحال معیشت میں حکومت کے ذریعہ پٹرول-ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت بڑھانے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں یو پی اے حکومت کے برابر کر کے بے حال عوام کو راحت دیں اور تینوں زرعی قوانین کو بھی فوری رد کر کے کسانوں کے مطالبات پورے کیے جائیں۔

سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’کورونا کے قہر سے بدحال معیشت کے درمیان مودی حکومت اپنا خزانہ بھرنے کے لیے ’آفت کو موقع‘ بنانے میں مصروف ہے۔ آج خام تیل کی قیمت 50.96 ڈالر فی بیرل ہے یعنی صرف 23.43 روپے فی لیٹر۔ لیکن اس کے باوجود ڈیزل 74.38 روپے اور پٹرول 84.20 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ گزشتہ 73 سال میں سب سے زیادہ ہے۔‘‘
سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’کورونا کے قہر سے بدحال معیشت کے درمیان مودی حکومت اپنا خزانہ بھرنے کے لیے ’آفت کو موقع‘ بنانے میں مصروف ہے۔ آج خام تیل کی قیمت 50.96 ڈالر فی بیرل ہے یعنی صرف 23.43 روپے فی لیٹر۔ لیکن اس کے باوجود ڈیزل 74.38 روپے اور پٹرول 84.20 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ گزشتہ 73 سال میں سب سے زیادہ ہے۔‘‘
آخر میں سونیا گاندھی اپیل کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ پٹرول-ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں یو پی اے حکومت کے برابر کرے اور پریشان حال عوام کو فوری راحت دے۔ میں حکومت سے تینوں زرعی قوانین بھی فوری طور پر رد کر کے کسانوں کے سبھی مطالبات منظور کرنے کی پُرزور گزارش کرتی ہوں۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *