سعودی - قطر تعلقات: قریب آئے تو شکوے بھی دور ہونے لگے

سعودی – قطر تعلقات: قریب آئے تو شکوے بھی دور ہونے لگے

ثناء اللہ صادق تیمی
ایک گھر کے افراد باہم منہ پھلائے بیٹھے ہوں تو ویسے بھی اچھا نہیں لگتا اور اگر کبھی غلط فہمی اس حد تک پہنچ جائے کہ ایک کو دوسرے سے سازش کا ڈر ستانے لگے تو یہ اور زیادہ خطرناک صورت حال ہوجاتی ہے۔ جون 2017 میں قطر اور سعودی عرب تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تو ہر صاحب ایمان مسلمان کو برا لگا ۔تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے شعور ، معرفت اور سمجھداری کے حساب سے اندازے لگائے اور خاص قسم کی وفاداریوں سے منسلک افراد میں ” بلیم گیم ” کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ہم نے تب بھی کہا تھا کہ اندازے لگائے جائیں ، تجزيہ ضرور کیا جائے ، بائیکاٹ کے فیصلے کو درست یا نادرست ٹھہرانے کی کوشش کی جائے لیکن ان تمام کے بیچ اخلاقیات کا جنازہ نہ اٹھایا جائے ، سازش اور غداری کے علاوہ بھی باتیں ہوسکتی ہیں اور دیکھنے کا زاویہ خالص زمینی بھی ہوسکتا ہے ۔بشیر بدر نے اچھا کہا ہے
دشمنی جم کرکرو، لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
نظریات کی وفاداری سے منسلک لوگ اکثر یہ یاد نہیں رکھ پاتے کہ عملی زندگی کی مشکلات کچھ اور ہوتی ہیں اور اس کے لیے اقدامات بھی بروقت کرنے ہوتے ہیں ۔ چند گھنٹوں ، دن ، ہفتوں اور مہینوں کے بیچ بہت سے فیصلے الٹنے پڑتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا ۔ مصالح عامہ ، ملک کی سالمیت ، ملک کی بین الاقوامی حیثیت اور خود حکمراں طبقے کی اپنی حفاظت و ترقی ساری چيزیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں اور سب کو سامنے رکھ کر فیصلے لینے پڑتے ہیں یا پھر کسی فیصلے کو بدلنا پڑتا ہے ۔ سمجھدار حکمراں وہی ہوتے ہیں جو حالات وظروف کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں اور ان کے مد نظر فیصلے بھی لیتے ہیں اور کسی فیصلےمیں مناسب ترمیم و تبدیلی سے بھی نہیں جھجکتے ۔
خلیجی ممالک باہم ایسے پیوست ہیں کہ ایک دوسرے سے الگ ہونے میں کسی کا بھی فائدہ نہیں ۔ ان کے لیے بھلائی تو اسی میں ہے کہ اپنے مشترک مفادات ، جغرافیائی صورت حال اور مذہبی کلچر کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ بہتر اور مضبوط تعلقات استوار رکھیں ۔ ہر ممکن کوشش کریں کہ ان میں سے کسی کو کسی کے بھی خلاف کسی بھی صورت میں استعمال نہ کیا جاسکے اور وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کررہیں کہ اسی میں ان سب کی بھلائی ہے ۔ حقیقت تو یہی ہے کہ یہ سب کے سب ایک ہی کشتی پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔
تعلقات کے کشیدہ ہونے کے جو بھی اسباب رہے ہوں بہتری اسی میں ہے کہ انہیں فراموش کیا جائے اور گلف کوآپریشن کونسل کی میٹنگ میں جس طرح باہم سب ایک نظرآئے ہیں اور اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اسے اور بھی مضبوط کریں اور ایک نئی شروعات کریں ۔ یہ اچھی بات ہے کہ بائیکاٹ وغیرہ کا سلسلہ ختم کردیا گيا ہے ، باہمی مفادات اور تحفظ کے لیےایک ہونے کی بات کہی گئی ہے ۔ اس سسلسلے میں کویت کی کوششوں کو سراہنا ضروری بھی تھا اور یہی چيز دیکھی بھی گئی کہ کویت کی مصالحانہ کوششوں کا ذکر باربار آیا وہیں یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکہ کی بھی یہی خواہش تھی اور وہاں سے بھی یہی اشارے مل رہے تھے کہ یہ تنازعہ ختم ہو ۔
تجزیہ کاروں اور خاص قسم کی وفاداریوں کی زنجیروں میں مقید لوگوں کو یہ بھی لگ رہا ہے کہ یہ سب در اصل امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے پیش نظر کیا گيا ہے اور خلیجی ممالک اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں آنافانا ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تھوڑی دیر کے لیے اگر اسے درست بھی مان لیا جائے تواس میں برائی کیا ہے ؟ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنا کوئی جرم ہے کیا ؟ ویسے سچائی یہ ہے کہ کویت کب سے اس کوشش میں لگا ہوا تھا ، خود سعودی عرب لگاتار یہ اشارہ دیتا رہا ہے کہ وہ قطر کے خلاف نہیں ہے ۔ یاد رکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جب جب خلیجی ممالک کی ترقی اور نئی بلندیوں کی بات کی تو اس میں خاص طور سے قطر کا بھی ذکر ضرور کیا اور اگر عوامی سطح پر اس کو دیکھیں تو دونوں ملکوں کے عوام کی تو کب سے خواہش تھی کہ یہ تنازعات حل ہوں ۔
ہمارا ذاتی موقف یہ ہے کہ ایک گھر کے افراد کے بیچ محبت اور اخوت کی ہی فضا رہنی چاہیے ۔ اسباب جو بھی رہے ہوں ترک تعلقات کا رویہ تکلیف دہ ہی تھا ۔ یہ خوش کن بات ہے کہ ایک گھر کے افراد باہم پھر مل گئے ہیں اور ملے رہنے کے عزم کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ اسے کم نہیں آنکا جاسکتا کہ بحالی تعلقات کے بعد قطر کی عوام سعودی عرب اور قطر کے جھنڈوں کے ساتھ خوشی میں سڑکوں پر اترآئی اور سعودی عوام نے دل کھول کر اپنے حکمرانوں کے اس فیصلے کی حمایت کی اور ہر صورت میں اپنی قیادت کے ساتھ رہنے کی بات کہی ۔
صلح ویسے بھی خیر ہے ۔ ساتھ رہنے والے کبھی کبھی لڑ بھی پڑتے ہیں ، کبھی کبھی غلط فہمی بھی پیدا ہوجاتی ہے ، کبھی کبھی کچھ نادانیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں اور بسا اوقات ان نادانیوں اور غلط فہمیوں کے ازالے کے بعد جب دوبارہ تعلقات بحال ہوتے ہیں تو زیادہ مضبوط اور پائيدار شکل میں بحال ہوتے ہیں ۔ ہم یہی توقع کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ ایسا کچھ آنے والے وقت میں دیکھنے کو ملے گا اور عالم اسلام کے یہ ممالک جو تیل کی قوت سے مالامال ہیں اور عالمی سطح پر مرکز توجہ رہتے ہیں ، اپنی سمجھدار سیاست سے امت مسلمہ کے لیے نیک فال ثابت ہوں گے ۔صلح اور بحالی تعلقات سے جن کے پیٹ میں مروڑ ہورہا ہے ان کا کچھ نہيں کیا جاسکتا، ان کے ذہن و دماغ پر شیطان رجیم کا قبضہ ہےجو کسی بھی اچھی پہل پر انہیں بے چین کردیتا ہے ۔ ان ملکوں کے سربراہوں کو یہ باد یاد رکھنی ہوگی کہ آپ کے بیچ کے جھگڑے سے جن کا فائدہ منسلک تھا وہ کبھی بھی اس صلح کے حق میں نہیں ہوں گے اور وہ ایڑی چوٹی کا زور لگاکر آپ کو پھر سے کسی تنازع کی نذر کردینا چاہیں گے ۔ آنکھیں کھلی ہوئی رکھیے گا اور ہاں شعور کو جوش پر غالب ہی رہنے دیجیے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *