قاسم سلیمانی

قاسم سلیمانی

عبد المعید مدنی علیگ
قاسم سلیمانی حقیقت بھی اور افسانہ بھی۔ وہ قم کے آقاؤں کے لیے جو بھی تھے لیکن شرق اوسط کے لئے افسانہ تھے ۔ افسانے میں آگ نہیں لگتی لیکن دھواں چاروں طرف پھیل جاتا ہے موت برحق ہے سبکو آنی ہے ۔ اس پر سب کو انا للہ پڑھنا چاہیے ۔ لیکن اس کے بعد عمل رد عمل نتائج و عواقب کو تو‌ دیکھنا ہی پڑے گا ۔
سلیمانی کون تھے؟ رضاکارقاتلوں اور کرائے کے قاتلوں کے مافیا کے سرغنہ، اور مقصد ؟ شرق اوسط‌ کی تباہی ، اور قم تل ابیب نیز واشنگٹن کے مفادات کا تحفظ۔
خمینی انقلاب 1979کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے سیکڑوں ڈرامے ہویے اور لوگوں کے اندر‌ہیجان‌ پھیلایا گیا لیکن اندر سے تینوں ملکوں کا تعاون قائم اور تال میل برقرار رہا۔ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور ۔ جس زور شور سے ایران اور امریکہ واسرائیل کے درمیان چالیس سالوں سے طبل جنگ بجایا جاتا رہا ہے اگر اس میں کچھ حقیقت ہوتی تو ایران سیکڑوں بار‌ خاک اور‌ راکھ کا ڈھیر بن گیا ہوتا ۔ دراصل یہ ساری ہیجانی صورت مذموم عزائم و مقاصد کی پردہ داری کےلیے ہوتی ہے یا پھر ان تینوں ‌ملکوں کے تعلقات کے اندر ‌توازن پیدا کرنے کے لئے مہم جوئی کی شکل ہوتی ہے۔
شرق اوسط میں سلیمانی کی ‌سفاکیاں‌ ایران امریکہ اور اسراییل کے لئے درد سر بن گئی تھیں ۔ ان کے عزائم و مقاصد کے لئے مضر تھیں ، اور شرق اوسط کے بے کسوں اور خود سپردگی کرنے والوں کی برداشت سے باہر تھیں ۔ اس لیے منصوبہ ‌بند طریقے پر اس پیر فرتوت کو اڑایا گیا ۔اس‌ سازشی‌ حادثہ قتل کو کیش کرانے اور سرپھروں کو غلام بنائے رکھنے کے لیے شور ہنگاموں اور بیان بازیوں کا بازار گرم کیا گیا ہے۔ تماشا دیکھا جارہا ہے ۔ سیاسی صحافی اندھ بھکت اچھل رہے ہیں۔ اپنی اپنی فصلیں کاٹ رہے ہیں ۔ تل ابیب قم اور واشنگٹن میں آقایان فتنہ و فساد اور تباہی بیٹھے مسکرا رہے ہیں ۔
پورے عالم اسلام میں اس پارسی بزرچمہر نے‌ آتشکدہ ایران ‌کو‌ اتنا دہکایا کہ اس میں فلسطین جھلس گیا ، شام جل‌گیا ، عراق ‌نذر آتش ہو‌گیا ، لبنان برباد ہوگیا ، یمن خاکستر ھوگیا ، خلیج لہو لہان ہوگیا ، افغانستان راکھ کا ڈھیر ‌بن گیا اور پاکستان کو خون میں نہلا دیا گیا۔
عالم اسلام میں عموماً اور شرق اوسط میں خصوصاً ہیجان اور عدم استقرار پھیلانے میں دہشتگردی کے اس سرغنہ نے بڑی خدمات انجام دیں ہیں،
اس ہیجان کی بہترین‌ تشریح عربی کے اس ضرب المثل سے ھوتی ہے ۔”ما لى ارى جعجعة ولا ارى طحنا” اردو کا ضرب المثل ” جو گرجتے ہیں برستے نہیں ” اسی کا ہم معنیٰ ہے۔
آج رافضیت صلیبیت صہیونیت اور منوواد میں اتنی تہ در تہ نجاست منافقت باطنیت اور سریت ہے کہ مغفلوں ، سرپھروں ، نعرے بازوں کو اور تحریکیت زدہ مخلوق کو ان کے مکروہ عزائم اور مقاصد کی ‌ہوا بھی نہیں لگتی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *