بجنور: ’لو جہاد‘ کے نام پر جیل بھیجے گئے ثاقب کی والدہ کا رو رو کر برا حال، وکیل کرنے کے پیسے بھی نہیں!

بجنور: ’لو جہاد‘ کے نام پر جیل بھیجے گئے ثاقب کی والدہ کا رو رو کر برا حال، وکیل کرنے کے پیسے بھی نہیں!

پانچ بنچوں کی ماں سنجیدہ کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اور گھر کا واحد کمانے ولا فرد ثاقب جیل میں ہے، سنجیدہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس گھر چلانے کے پیسے بھی نہیں ہیں
بجنور: (آس محمد کیف) ضلع بجنور کے قصبہ دھامپور میں جس نوجوان محمد ثابق کو سالگر کی پارٹی منانے کے بعد دوسرے فرقہ کی لڑکی کو اس کے گھر چھوڑنے جانے کے جرم میں ’لو جہاد‘ کا معاملہ بنا کر پولیس نے جیل بھیج دیا تھا، اس کی والدہ اب زبردشت معاشی تنگی برداشت کر رہی ہیں۔ صورت حال اتنی خراب ہے کہ ثاقب کی والدہ سنجیدہ بیگم رو رو کر لوگوں سے مدد مانگ رہی ہیں۔
پانچ بنچوں کی ماں سنجیدہ کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اور گھر کا واحد کمانے ولا فرد ثاقب جیل میں ہے۔ سنجیدہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس گھر چلانے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ پولیس نے اس معاملہ میں بجنوری کی عدالت میں فرد جرم بھی دائر کر دی ہے۔ اس مبینہ لو جہاد کے معاملہ میں فرد جرم داخل کرنے میں پولیس نے کافی پھرتی سے کام کیا ہے۔
خیال رہے کہ دھام پور تھانہ علاقہ میں پولیس نے 15 دسمبر کو ثاقب کو گرفتار کیا تھا۔ معاملہ کی جانچ دھام پور کے سی او (سرکل آفیسر) کے ہاتھوں میں تھی اور چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔ ملزم بنائے گئے نوجوان اور ایک لڑکی دیر رات سالگرہ منا کر لوٹ رہے تھے، راستہ میں کچھ لوگوں نے ان کا راستہ روکا اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔
اس کے بعد 15 دسمبر کو بجنور کے دھامپور تھانہ علاقہ کے گاؤں بیرکھیڑا چوہان کے رہنے واے انل کے نزدیکی گاؤں نصیرپور کے رہنے والے سونو عرف ثاقب کے خلاف لو جہاد اور جبری تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ انل نے پولیس کو دی گئی تحریر میں الزام عائد کیا کہ ثاقب نے لڑکی کو اپنا نام سونو بتا کر پہلے اپنی محبت میں گرفتار کیا اور اب اس پر مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بنانے کی غرض سے اس کو اغوا کر لیا ہے۔
ثاقب کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس سے جھوٹے الزامات کی بنا پر جیل بھیجا گیا ہے وہیں لڑکی کا بھی کہنا ہے کہ ثابق کو لوگوں نے چور سمجھ کر پکڑا تھا۔ گاؤں کے پردھان کا دعوی ہے کہ ملزم ثاقب نصیر پور میں ہونے والی ایک برتھ ڈے پارٹی میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہا تھا، راستہ اسے چور سمجھ کر پکڑ لیا گیا۔
لڑکی اور اس کی والدہ نے بھی لو جہاد کی کہانی کو خارج کر دیا ہے۔ لڑکی کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ انہیں سیاست میں پھنسایا جا رہا ہے۔ مگر پولیس لو جہاد والی بات کو ہی سچ مان رہی ہے تبھی تو چارج شیٹ بھی داخل کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد کی شکایت پر ثاقب کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ ثاقب کی والدہ کا الزام ہے کہ پولیس نے لڑکی کے والد پر دباؤ بنا کر ان سے بیان دلوایا ہے۔
دھام پور کی رہائشی سنجیدہ بیگم 3 لڑکیوں سمیت پانچ بچوں کی ماں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ان کے شوہر بیمار تھے تو انہوں نے قرض لے کر علاج کرایا تھا۔ شوہر کی جان تو بچ نہیں سکی، تاہم وہ آج تک ایس قرض کی ادائیگی کر رہی ہیں۔ وہ خود کام کرتی ہیں اور مرغی پروری کر کے انڈوں کو فروخت کر کے گھر کا خرچ چلاتی ہیں۔ سنجیدہ کے گھر کی حالت دیکھ کر بھی ان کی معاشی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا دوسرا بیٹا محض 2 ہزار روپے ہی کما پاتا ہے۔
بات کرنے پر سنجیدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’غریب کو ستانا اچھی بات نہیں ہے، میرا خدا سب دیکھ رہا ہے، وہ میری مدد کرے گا۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *