ہماری فکری کائنات کو اس نظام سے گزرنا ضروری ہے جہاں مستقبل کے اندیشے ہیں اور خوف کا وائرس ہے کورونا کے بعد کا ادب بہت حد تک تبدیل ہوا ہے : ذوقی

ہماری فکری کائنات کو اس نظام سے گزرنا ضروری ہے جہاں مستقبل کے اندیشے ہیں اور خوف کا وائرس ہے کورونا کے بعد کا ادب بہت حد تک تبدیل ہوا ہے : ذوقی

نئی دہلی: (قاضی زکریا) مردہ خانے میں عورت پاکستان میں سنگ میل پبلشرز اور ہندوستان میں میٹر لنک پبلشرز کے اہتمام شایع  ہو چکی ہے .یہ ناول ذوقی کے شاہکار ناول مرگ انبوہ کا دوسرا حصّہ ہے . اس ناول نے شایع  ہوتے ہی عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا لی ہے . قاضی زکریا کے مطابق ، مجھے  خیال نہیں  کہ جدید  طلسم ہوش ربا کا علامتی پس منظر کسی نے اس طرح پیش کیا ہو کہ محسوس ہو ، ہم آج بھی مافوق الفطرت عناصر، سحر و طلسم کی دنیا کے قریب ہیں اور طلسم ہوش ربا کے جادوئی کھیل اب بھی جاری ہیں. بے پناہ طاقت کا جن اب بھی   طلسماتی لوح کے ذریعے چراغوں کو روشن کرنے اور تاریک کرنے کا کھیل ، کھیل رہا ہے .نفرت اور تعصب،سیاست اور طاقت کے اوراق پر  تہہ در تہہ  ہزار داستانیں  ہیں، جن کا سلسلہ داستان امیر حمزہ کے  ہر دلعزیز کردار امیر حمزہ کے پر خطر معرکوں  سے شروع  ہوا اور جب انجام کو پہچا تو مرگ انبوہ کے جادوگر نے افراسیاب کی جگہ لے لی . مشرف عالم ذوقی نے ان داستانوں کو عھد  جدید کا لباس  پہنایا تو تو یہاں بھی ایک افراسیاب جادوگر موجود تھا.مرگ انبوہ کا طوفان مردہ خانے میں عورت تک آتے آتے اس قدر شدید ہو جاتا ہے کہ ہماری  یہ خوبصورت کائنات طلسم ہوش ربا سے زیادہ بھیانک محسوس ہونے لگتی ہے . یہاں وہ جنگی داستانیں بھی ہیں جو یہ سناتی ہیں کہ کس طرح ایک جنگ  افراسیاب جادو گر کےخلاف لڑی  جا رہی ہے  ،وہ افراسیاب جو جادو نگری ہوش ربا پر حکومت کرتا ہے۔ ذوقی اس تھذیب کے نوحہ گر ہیں جہاں  ماضی حال اور مستقبل آپس میں ایک دوسرے سے  جڑے ہوئے ہیں . پاکستان کے مشھور نقاد یونس خان لکھتے ہیں   ، ایک کیفیت کو ایک ناول کی صورت دینا یقینا قوت متخیلہ کے زرخیز ہونے کی علامت ہے.  اگرچہ ناول زیادہ تر علامتی ہے لیکن یہ بہت زیادہ قوت متخیلہ لیے ہوئے ہے.  مرگ انبوہ کے مقابلے میں یہ ناول  زیادہ گہرا اور زیادہ مضبوط  ہے.رافعہ  سرفراز لکھتی ہیں  مردہ خانہ میں عورت، جس نے میرے اندر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر دی ہے بہت سارے سوالات ذہن میں ڈال دیے۔۔جب اس ناول کو پڑھنا شروع کیا تو ابتداء ہی سے تجسس نے مجھے گھیرے  رکھا۔۔جب تک مکمل نہیں پڑھ لیا تب تک اٹھ نہیں پائی۔۔  یہ ناول  ٢٠٢٠ کے  شاندار ناولوں میں سے ایک ہے۔
مشرف عالم ذوقی نے اس ناول کے بارے میں بتایا کہ سات برس کی ہلاکت کی داستان کو علامتی پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے .ہلاکت ، خوں ریزی،جنگ عظیم کی وحشتوں کے درمیان بھی انسانی سفر ختم نہیں ہوتا.. دھول کی چادر میں لپٹی ہوئی زہریلی گیس تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہی ہے، یہ ہماری اس نئی دنیا کا سچ ہے،جہاں تمام تر اقدامات کے باوجود ماحولیات کے تحفظ میں ہم ناکام رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا اور سیاسی نظام سامنے ہے جہاں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے خوفناک اثرات کو دیکھتے ہوئے کتنی ہی امن پسند تنظیموں کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ تیسری جنگ عظیم کی صورتحال کو پیداہونے سے روکا جاسکے۔ آج انسانی حقوق و تحفظ سے وابستہ تنظیمیں لاچارہیں اور ہم آہستہ آہستہ جنگی کہرے میں گھرتے جارہے ہیں۔ صیہونی فوجیوں کی انتقامی کارروائی، میانمار کے مظالم، روہنگیائی مسلمانوں کی بربادی، کابل میں مسلسل ہونے والے خودکش حملے، شام اور فلسطین میں ہونے والی انہدامی کارروائی، ہندوستان میں سیاہ چوغہ کا غلبہ اور مصنوعی مور سے جاری ہونے والا خون ، اقلیتوں کے لئے نفرت کا کھلا اظہار ، چین، جاپان، امریکہ اور روس کی حکمت عملیاں … سیاسی میزائل تاناشاہوں کے حرم سے باہر نکل کر ایک دوسرے پر یلغار کررہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس بات سے واقف ہیں کہ عالمی سیاست پر آہستہ آہستہ جنگ عظیم کے خطرات منڈرانے لگے ہیں۔ اس خوفناک ماحول سے بے نیاز ہو کر بہتر ادب تخلیق نہیں کیا جا سکتا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *